زیارت حضرت رسول اکرمؐ و جناب فاطمہؐ زہرا و ائمّہ بقیع علیہم السلام مدینہ منّورہ میں
واضح رہے کہ تمام صاحبانِ ایمان بالخصوص حجاج کرام کے لئے مستحب ہے کہ وہ روضۂ مطہر حضرت سید المرسلین خاتم النبیینؐ کی زیارت ست مشرف ہوں کہ اس زیارت کا ترک کر دینا روزِ قیامت آنحضرتؐ کے حق میں ظلم شمار کیا جائے گا۔
شیخ شہیدؒ نے فرمایا ہے کہ اگر لوگ آنحضرت کی زیارت کرنا ترک کر دیں تو امامؑ وقت کی ذمہ داری ہے کہ انھیں اس زیارت پر مجبور کرے اس لئے آپ نے زیارت کے ترک کر دینے کو اپنے حق میں ظلم قرار دیا ہے جو کسی قیمت پر جائز نہیں ہے۔ شیخ صدوقؒ نے امام صادقؑ سے روایت کی ہے کہ جب بھی تم میں سے کوئی شخص حج کرے تو اس کو چاہیئے کہ اپنے حج کا اختتام ہماری زیارت پر کرے کہ یہی حج کی تکمیل کا سبب ہے ۔ اس کے علاوہ امیر المومنینؑ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اپنے حج کو تمام کرو زیارت رسول اکرمؐ پر کیوں کہ آپ کی زیارت کو حج کے بعد ترک کر دینا ظلم ہے اور خلافِ ادب ہے۔ اس زیار ت کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا اس زیارت کے لئے جاؤ کہ پروردگار عالم نے آنحضرتؐ کا یہ حق قرار دیا ہے اور وہاں جا کر قبر مطہر کے پاس پروردگار عالم سے روزی طلب کرو۔
ابوالصلت ہروی سے روایت ہے کہ میں امام رضاؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا کہ یابن رسول اللہ! اس حدیث کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو نقل کی جاتی ہیں کہ مومنین بہشت میں اپنے پروردگار کی زیارت کریں گے۔ اس حدیث کے معنی صحیح ہیں تو کس طرح صحیح ہیں؟ جب کہ اس کا مضمون ظاہری اعتبار سے صحیح اعتقادات کے مطابق نہیں ہے تو حضرت نے فرمایا کہ کہ ابوالصلت پروردگار عالم نے اپنے پیغمبرؐ کو تمام مخلوقات اور تمام پیغمبروں اور فرشتوں سے افضل قرار دیا ہے۔ ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت اور ان کی بیعت کو اپنی بیعت قرار دیا ہے لہٰذا ان کی زیارت کو بھی اپنی زیارت قرار دیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے
یا
‘‘یعنی جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ یا۔ پیغمبرؐ جو لوگ تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں در حقیقت یہ اللہ کی بیعت ہے اور ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔’’
رسولؐ اکرم نے فرمایا ہے کہ جو شخص زندگی میں یا مرنے کے بعد میری زیارت کرے وہ ایسا ہی ہے گویا اس نے پروردگار کے دیدار کا شرف حاصل کیا ہے۔
حمیری نے قرب الاسناد میں امام صادقؑ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایاہے کہ جو شخص زندگی میں یا مرنے کے بعد میری زیارت کرے میں روز قیامت اس کی شفاعت کروں گا۔
ایک حدیث میں ہے کہ امام صادقؑ روز عید مدینہ میں تھے۔ آپ زیارت رسولؐ اکرم کے لئے تشریف لے گئے اور جا کر سلام کیا اس کے بعد فرمایا کہ ہم تمام اہلِ شر پر فضیلت رکھتے ہیں چاہے وہ مکہ میں ہوں یا غیر مکہ میں ہوں اس بنیاد پر کہ ہمیں پیغمبرؐ کی زیارت اور آپ پر سلام کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔