EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
زیارت عاشورا کی فضیلت میں صفوان کی روایت
سیف بن عمیر کا بیان ہے کہ میں نے صفوان سے سوال کیا کہ علقمہ بن محمد نے اس دعا کو ہمارے لئے امام باقرؑ سے روایت نہیں کی ہے بلکہ صرف زیارت کو بیان کیا ہے تو انھوں نے کہا کہ میں خود امام صادقؑ کے ساتھ اس جگہ آیا تھا تو آپ نے وہی عمل کیا تھا جو میں ادا کی جیسے کہ ہم نے پڑھی ہے اور ویسے ہی وداع کیا تھا جیسے ہم نے وداع کیا ہے۔ اس کے بعد صفوان نے کہا کہ حضرت صادقؑ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس زیارت کی پابندی کرنا اور اس دعا کو پڑھتے رہنا کہ خدا کی بارگاہ میں اس زیارت پڑھنے والے اور اس طرح کی دعا نزدیک یا دور سے کرنے والے کے لئے ضامن ہوں کہ اس کی دعا قبول ہو گی اور اس کی سعی مشکور ہو گی اور اس کا سلام قبول ہو جائے گا اور اس کی حاجتیں پوری ہوں گی اور پروردگار کی طرف سے جو مرتبہ چاہے گا ملے گا اور ناامید نہیں ہو گا۔ اے صفوان میں نے زیارت کو اسی ضمانت کے ساتھ اپنے پدربزرگوار سے انھوں نے اپنے پدربزرگوار علیؑ بن الحسینؑ سے اور انھوں نے امام حسینؑ سے اور انھوں نے اپنے بھائی امام حسنؑ سے انھوں نے اپنے پدربزرگوار امیرالمومنینؑ سے اور امیرالمومنینؑ نے رسولؐ خدا سےاور رسولؐ خدا نے جبرئیل سے اور جبرئیل نے پرورگار سے حاصل کیا ہے اور پروردگار نے اپنی ذات مقدّس کی قسم کھائی ہے کہ جو شخص نزدیک یا دور سے امام حسینؑ کی یہ زیارت کرے گا اور یہ دعا پڑھے گا تو اس کی زیارت قبول کر لوں گا اور اس کی ہر خواہش کو پورا کر دوں گا اور وہ میری بارگاہ سے ناامید اور مایوس واپس نہ جائے گا بلکہ حاجت وری ہونے کے بعد اور دوزخ سے آزاد ہونے کے بعد اور جنت کا حقدار ہونے کے بعد واپس جائے گا اور اگر کسی کے بارے میں سفارش کر دے گا تو اسے بھی قبول کر لوں گا۔ اوریہ بھی فرمایا کہ ہم اہلبیتؑ کے دشمنوں کے علاوہ کہ ان کے حق میں کسی کی دعا قبول نہ ہو گی جیسا کہ پروردگار عالم نے اپنی ذاتِ اقدس کی قسم کھا کر فرمایا ہے اور ہم کو اس کا گواہ بنایا ہے اور اس کے گواہ آسمان کے فرشتے بھی ہیں۔ اس کے بعد جبرئیل نے کہا یا رسولؐ اللہ خدا نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ کو اور علیؑ و فاطمہؑ و حسنؑ و حسینؑ اور ان کی اولاد کے اماموں کو وہ بشارت دوں جو آپ کے لئے اور ان ائمہ کے لئے اور آپ کے شیعوں کے لئے روزِ قیامت باعثِ مسرت ہے۔ صفوان کہتے ہیں کہ اس کے بعد امام صادقؑ نے فرمایا کہ اے صفوان جب تمھارے لئے کوئی حاجت پیش آجائے تو یہ زیارت جہاں سے چاہو پڑھ لو اور اس دعا کو بھی پڑھ لو اور پروردگار سے حاجت طلب کرو انشہؔ ضرور پوری ہو گی اور خدا اپنے رسولؐ سے کئے ہوئے وعدہ کے خلاف نہ کرے گا۔
مؤلّف کا بیان ہے کہ النجم الثاقب میں سید احمد رشتی کی امام زمانہؑ سے سفر حج میں ملاقات کے ذیل میں یہ حکایت نقل کی گئی ہے جس میں حضرت کا یہ ارشاد ہے کہ زیارت عاشورہ کیوں نہیں پڑھتے ہو عاشورہ عاشورہ عاشورہ۔ اس کو ہم انشاء اللہ زیارت جامعہ کبیرہ کے بعد نقل کریں گے اور ہمارے استاد شیخ نوریؒ نے فرمایا ہے کہ زیارت عاشورہ اپنے فضل و مقام میں عام زیارتوں جیسی نہیں ہے لیکن بظاہر یہ کلامِ معصوم میں شامل نہیں ہے اگرچہ ان کے پاکیزہ قلب سے جو چیزبھی سامنے آتی ہے وہ سب عالمِ بالا کا الہام ہوتا ہے بلکہ یہ زیارت احادیث قدسیہ میں شامل ہے کہ اسی ترتیب سے زیارت لعن و سلام و دعا کے ساتھ حضرت احدیت کی بارگاہ سے جبرئیل امین کے ذریعہ خاتم النبیین تک پہنچی ہے اور تجربات کی بنا پر چالیس روز یا اس سے کم اس کی پابندی قضائے حوائج، حصول مقاصد اور دشمنوں کے دفاع کے لئے بے نظیر ہے اور اس کی پابندی سے جو فوائد سامنے آئے ہیں ان میں سب سے اہم فائدہ وہ ہے جو کتاب دارالسلام میں میں نے ذکر کیا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مرد صالح متقی حاج ملا حسن یزدی جو نجف اشرف کے مجاور تھے اور مسلسل مشغولِ عبادت و زیارت رہا کرتے تھے انھوں نے مردثقہ حاج محمد علی یزدی سے جو مرد فاضل و صالح تھے اور ہمیشہ امور آخرت میں مشغول رہتے تھے اور راتوں کو یزد کے اس مقبرہ میں جہاں بہت سے صالحین دفن ہیں اور اس کو مزار کہا جاتا ہے رات گذارتے تھے۔ ان کا ایک ہمسایہ تھا جو بچپنے سے ان کے ساتھ رہا تھا اور دونوں ایک ہی ساتھ پڑھتے تھے اور اس نے ٹیکس وصولی کام شروع کر دیا تھا یہاں تک کہ وہ مر گیا اور اسی مقبرہ میں اس مقام پر اسے دفن کیا گیا جہاں وہ بزرگوار رات گذارتے تھے۔ دفن کے ایک ماہ کے اندر انھوں نے اس کو خواب میں دیکھا کہ انتہائی حسین شکل میں وہ ان کے پاس آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ تیرے کام کی ابتدا و انتہا اور اس کا ظاہر وباطن ایسا نہیں تھا جس کے بارے میں اس نیکی کا احتمال پایا جاتا ہو اور تیرا کاروبار بھی عذاب کے علاوہ اور کسی چیز کا سبب نہیں تھاتو آخر اس منزل تک کیسے پہنچ گیا؟ اس نے کہا آپ بالکل صحیح کہتے ہیں۔ میں روزِ وفات سے کل تک سخت ترین عذاب میں مبتلا تھا کہ زوجۂ استاد اشرف حداد کا انتقال ہوا اور ان کو اس مقام پر دفن کیا گیا جو یہاں سے سو ہاتھ کے فاصلہ پر ہے اور شبِ وفات امام حسینؑ تین مرتبہ اس کو دیکھنے کے لئے تشریف لائے اورتیسری مرتبہ حکم دیا کہ اس مقبرہ سے عذاب اٹھا لیا جائے۔ اس کے بعد میرے حالات بالکل ٹھیک ہو گئے اور میں انتہائی وسعت و نعمت میں ہوں۔ وہ حیران و پریشان خواب سے بیدار ہوئے کہ اشرف حداد کونہیں پہچانتے تھے نہ اس محلہ کو جانتے تھے لہٰذا لوہاروں کے بازارمیں جاکر پتہ لگایا اور جب معلوم ہو گیا تو اس سے پوچھاکہ کیا تمہاری کوئی زوجہ تھی؟ اس نے کہا نہیں۔ کہا کیا ذکر مصائب کرتی تھی؟ کہا نہیں۔ کہا کیا تعزیہ داری کی مجلسیں کرتی تھی؟کہا یہ بھی نہیں۔ مگر تم یہ سب دریافت کیوں کر رہے ہو؟ انھوں نے خواب بیان کیا تو اس نے کہا کہ ہاں میری زوجہ زیارت عاشورہ کی پابند تھی۔