EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
کیفیت زیارتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ
جس وقت بھی مدینہ میں وارد ہو غسل کرے زیارت کے لئے ۔ اسکے بعد جب مسجد میں داخل ہونا چاہے تودروازے کے پاس کھڑے ہو کر اذن دخول اوّل پڑھے اس کےبعد در جبرئیل سے داخل ہو کر اپنے داہنے پیر کو آگے بڑھائے اور سو مرتبہ کہے
اَللهُ اَكْبَرُ
اس کے بعد دو رکعت نماز تحیت مسجد ادا کرے اور حجرۂ شریف کے نزدیک جو کر حجرہ کے ہاتھوں سے مس کر کے اور حجرۂ مبارک کو بوسہ دے کر یہ کہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ
اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ
وَ اَقَمْتَ الصَّلَاةَ
وَ اٰتَيْتَ الزَّكَاةَ
وَ اَمَرْتَ بِالْمَعْرُوْفِ
وَ نَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ
وَ عَبَدْتَ اللّٰهَ مُخْلِصًا حَتّٰىۤ اَتَاكَ الْيَقِيْنُ
فَصَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْكَ وَ رَحْمَتُهُ
وَ عَلٰۤى اَهْلِ بَيْتِكَ الطَّاهِرِيْنَ۔
اس کے بعد اس ستون کے پاس کھڑا ہو جو قبر کی داہنی طرف سے روبقبلہ کہ بایاں کاندھا قبرمبارک کی طرف ہو اور دایاں کاندھا منبر کی طرف ہو اور یہ ہو جگہ ہے کہ جہاں رسولؐ اکرم کا سرہانہ ہے۔ اسکے بعد کہے
اَشْهَدُ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ
وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ
وَ اَنَّكَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ
وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ
وَ نَصَحْتَ لِاُمَّتِكَ
وَ جَاهَدْتَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ
وَ عَبَدْتَ اللّٰهَ حَتّٰىۤ اَتَاكَ الْيَقِيْنُ
بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
وَ اَدَّيْتَ الَّذِيْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ
وَ اَنَّكَ قَدْ رَؤُفْتَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ
وَ غَلُظْتَ عَلَى الْكَافِرِيْنَ
فَبَلَغَ اللّٰهُ بِكَ اَفْضَلَ شَرَفِ مَحَلِّ الْمُكَرَّمِيْنَ
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اسْتَنْقَذَنَا بِكَ مِنَ الشِّرْكِ وَ الضَّلَالَةِ۔
اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَ صَلَوَاتِ مَلَاۤئِكَتِكَ الْمُقَرَّبِيْنَ
وَ اَنْبِيَاۤئِكَ الْمُرْسَلِيْنَ
وَ عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ
وَ اَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرَضِيْنَ
وَ مَنْ سَبَّحَ لَكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
مِنَ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَ
عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُوْلِكَ
وَ نَبِيِّكَ وَ اَمِيْنِكَ
وَ نَجِيْبِكَ وَ حَبِيْبِكَ
وَ صَفِيِّكَ وَ خَآصَّتِكَ
وَ صَفْوَتِكَ وَ خِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ
اَللّٰهُمَّ اَعْطِهِ الدَّرَجَةَ الرَّفِيْعَةَ
وَ اٰتِهِ الْوَسِيْلَةَ مِنَ الْجَنَّةِ
وَ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا يَغْبِطُهُ بِهِ الْاَوَّلُوْنَ وَ الْاٰخِرُوْنَ
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ قُلْتَ
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَاۤءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوْا اللّٰهَ
وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ
لَوَجَدُوْا اللّٰهَ تَوَّابًا رَحِيْمًا
وَ اِنِّيْۤ اَتَيْتُكَ مُسْتَغْفِرًا تَاۤئِبًا مِنْ ذُنُوْبِيً
وَ اِنِّيْۤ اَتَوَجَّهُ بِكَ اِلَى اللّٰهِ رَبِّيْ وَ رَبِّكَ لِيَغْفِرَ لِيْ ذُنُوْبِيْ۔
اس کے بعد اگر کوئی حاجت ہے تو رو بقبلہ ہو کر اور ہاتھوں کواٹھاکر اپنی حاجت طلب کرے کہ انشاء اللہ پوری ہوگی۔
ابن قولویہ نے سند معتبر کے ساتھ محمد بن مسعود سے روایت کی ہے کہ میں نے امام صادقؑ کو رسول اکرمؐ کی قبر کے پاس دیکھا کہ آپ نے اپنے دست مبارک کو قبر پر رکھا اور کہا۔
اَسْاَلُ اللّٰهَ الَّذِيْ اجْتَبَاكَ وَ اخْتَارَكَ
وَ هَدَاكَ وَ هَدٰى بِكَ
اَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْكَ۔
اس کے بعد کہے
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلَاۤئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ
يَاۤ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا۔
شیخ نے مصباح میں فرمایاہے کہ جب قبر مطہر کے پاس دعا سے فارغ ہو جاؤ تو منبر کے پاس جاؤ۔ اس پر ہاتھ پھیر کر قبر کے پاس جاؤ جو منبر کے قریب ہے جاؤاور وہاں اپنی آنکھوں کو اور چہرے کو ملو کہ یہ عمل آنکھ کے لئے شفا ہے۔ اس کے بعد منبر کے پاس کھڑے ہو کر حمد و ثنائے پروردگار بجالاؤ اور اپنی حاجتوں کو طلب کرو۔ رسولؐ اکرم نے فرمایا ہے کہ میری قبر اور منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ جاؤ مقامِ منبر کے پاس نماز ادا کرو اور اس کے بعد مسجد پیغمبرؐ میں جس قدر نماز ممکن ہو ادا کرو کہ اس مسجد میں نماز ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ اور جب مسجد میں داخل ہو یا باہر جاؤ تو صلوات پڑھو۔ اس کے بعد حضرت فاطمہ زہراؐ کے گھر میں نماز ادا کرو۔اورمقامِ جبرئیل پر جاؤ جو پرنالے کے نیچے ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں جبرئیل کھڑے ہو کر پیغمبرؐسے اذن دخول طلب کرتے تھے۔ اس کے بعد کہو۔
اَسْاَلُكَ اَيْ جَوَادُ
اَيْ كَرِيْمُ
اَيْ قَرِيْبُ
اَيْ بَعِيْدُ
اَنْ تَرُدَّ عَلَيَّ نِعْمَتَكَ۔