زیارت دوم مخصوصِ امام محمد تقیؑ
شیخ صدوقؒ نے فقیہ میں روایت کی ہے کہ جب حضرت کی زیارت کرنا چاہے تو پہلے غسل کرے، پاکیزہ کپڑے پہنے اور پھر یوں زیارت پڑھے۔
اِلْاِمَامِ التَّقِيِّ النَّقِيِّ
الرَّضِيِّ الْمَرْضِيِّ
وَ حُجَّتِكَ عَلٰى مَنْ فَوْقَ الْاَرْضِ
وَ مَنْ تَحْتَ الثَّرٰى
صَلٰوةً كَثِيْرَةً
نَامِيَةً زَاكِيَةً مُبَارَكَةً
مُتَوَاصِلَةً مُتَرَادِفَةً مُتَوَاتِرَةً
كَاَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ عَلٰىۤ اَحَدٍ مِنْ اَوْلِيَاۤئِكَ
وَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نُوْرَ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا اِمَامَ الْمُؤْمِنِيْنَ
وَ وَارِثَ عِلْمِ النَّبِيِّيْنَ
وَ سُلَالَةَ الْوَصِيِّيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نُوْرَ اللّٰهِ فِيْ ظُلُمَاتِ الْاَرْضِ
اَتَيْتُكَ زَاۤئِرًا
عَارِفًا بِحَقِّكَ
مُعَادِيًا لِاَعْدَاۤئِكَ
مُوَالِيًا لِاَوْلِيَاۤئِكَ
فَاشْفَعْ لِيْ عِنْدَ رَبِّكَ۔
اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرے اور بالائے سر چار رکعت نماز ادا کرے دو رکعت امام موسیٰؑ کاظمؑ کے لئے اور دو رکعت امام محمد تقیؑ کے لئے۔ اور امام موسیٰ کاظمؑ کے سرہانے نماز نہ پڑھےکہ وہ قبور قریش کے مقابل ہے اور ان کو قبلہ قرار دینا صحیح نہیں ہے
مؤلّف: شیخ صدوقؒ کے اس کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں امام محمد تقیؑ کی قبر امام جوادؑ کی قبر سے جدا تھی اور دونوں کے علیٰحدہ گنبد اور دروازے تھے اور لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ باہر آنے کے بعد جاتے تھے اور قبۂ امام جوادؑ میں حاضر ہوتے تھے اور اس کی تعمیر الگ تھی۔