EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
زیارت کاظمین علیہما السّلام زیارت مشترک
دونوں اماموں کی مشترک زیارتیں بھی دو طرح کی ہیں۔قسم اوّل
وہ ہے جو ہر ایک کے لئے الگ الگ پڑھی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ شیخ جلیل جعفر بن محمد قولویہ قمیؒ نے کامل الزیارات میں امام علی نقیؑ سے نقل کیا ہے کہ اس زیارت کو دونوں کے لئے الگ الگ پڑھ سکتے ہیں۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نُوْرَ اللّٰهِ فِيْ ظُلُمَاتِ الْاَرْضِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ بَدَا لِلّٰهِ فِيْ شَأْنِهِ
اَتَيْتُكَ زَاۤئِرًا
عَارِفًا بِحَقِّكَ
مُعَادِيًا لِاَعْدَاۤئِكَ
مُوَالِيًا لِاَوْلِيَاۤئِكَ
فَاشْفَعْ [اشْفَعْ‏] لِيْ عِنْدَ رَبِّكَ يَا مَوْلَايَ۔
یہ زیارت انتہائی معتبر ہے اور شیخ صدوقؒ، شیخ کلینیؒ اور شیخ طوسیؒ سب نے اختلاف الفاظ کے ساتھ اس کا ذکر کیاہے۔
قسم دوم
وہ زیارت ہے جو دونوں اماموں کی ایک ساتھ پڑھی جا سکتی ہے جیسا کہ شیخ مفیدؒ و شہیدؒ و محمد بن مشہدیؒ نے ذکر کیا ہے کہ ضریح کے پاس کھڑے ہو کر دونوں کو اس طرح سلام کرے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمَا يَا وَلِيَّيِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمَا يَا حُجَّتَيِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمَا يَا نُوْرَيِ اللّٰهِ فِي ظُلُمَاتِ الْاَرْضِ
اَشْهَدُ اَنَّكُمَا قَدْ بَلَّغْتُمَا عَنِ اللّٰهِ مَا حَمَّلَكُمَا
وَ حَفِظْتُمَا مَا اسْتُوْدِعْتُمَا
وَ حَلَّلْتُمَا حَلَالَ اللّٰهِ
وَ حَرَّمْتُمَا حَرَامَ اللّٰهِ
وَ اَقَمْتُمَا حُدُودَ اللّٰهِ
وَ تَلَوْتُمَا كِتَابَ اللّٰهِ
وَ صَبَرْتُمَا عَلَى الْاَذٰى فِيْ جَنْبِ اللّٰهِ
مُحْتَسِبِيْنِ حَتّٰىۤ اَتَاكُمَا الْيَقِيْنُ
اَبْرَاُ اِلَى اللّٰهِ مِنْ اَعْدَاۤئِكُمَا
وَ اَتَقَرَّبُ اِلَى اللّٰهِ بِوِلَايَتِكُمَا
اَتَيْتُكُمَا زَاۤئِرًا
عَارِفًا بِحَقِّكُمَا
مُوَالِيًا لِاَوْلِيَاۤئِكُمَا
مُعَادِيًا لِاَعْدَاۤئِكُمَا
مُسْتَبْصِرًا بِالْهُدَى الَّذِيۤ اَنْتُمَا عَلَيْهِ
عَارِفًا بِضَلَالَةِ مَنْ خَالَفَكُمَا
فَاشْفَعَا لِيْ عِنْدَ رَبِّكُمَا
فَاِنَّ لَكُمَا عِنْدَ اللّٰهِ جَاهًا عَظِيْمًا
وَ مَقَامًا مَحْمُوْدًا۔
اس کے بعد تربت شریف کو بوسہ دےکر داہنے رخسارہ کو خاک پر رکھے اور پھر بالائے سر جا کر اس طرح کہے
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمَا يَا حُجَّتَيِ اللّٰهِ فِيۤ اَرْضِهِ وَ سَمَاۤئِهِ
عَبْدُكُمَا وَ وَلِيُّكُمَا زَاۤئِرُكُمَا
مُتَقَرِّبًا اِلَى اللّٰهِ بِزِيَارَتِكُمَا
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِيۤ اَوْلِيَاۤئِكَ الْمُصْطَفَيْنَ
وَ حَبِّبْ اِلَيَّ مَشَاهِدَهُمْ
وَ اجْعَلْنِيْ مَعَهُمْ فِيْ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اس کے بعد ہر امام ؑکے لئے دو رکعت نماز زیارت ادا کرے اور جو چاہے دعا کرے۔
مختصر ترین زیارت
مؤلّف:اس زمانے میں تقیہ بہت شدید تھا اس لئے ان ائمہؑ کے لئے مختصر ترین زیارتوں کی تعلیم دی گئی ہے کہ لوگ ظالموں کے شر سے محفوظ رہیں لہٰذا اگر کوئی شخص طویل زیارت پڑھنا چاہتا ہے تو زیارت جامعہ پڑھ سکتا ہے جو بہترین زیارت ہے خصوصاً ایک زیارت جامعہ جس کی حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام موسیٰؑ کاظم سے مزید خصوصیت حاصل ہے۔