بخشش چاہتا ہوں اللہ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں
۲ہر روز ستر مرتبہ کہے
اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ
بخشش کا طالب ہوں اللہ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں
الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ
وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ
زندہ نگہبان ہے
وَ اَتُوْبُ اِلَيْهِ۔
اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
اور بعض روایات میں ‘‘حی القیوم ’’ کا لفظ ‘‘رحمٰن و رحیم ’’ سے پہلے ہے اور دونوں ہی طرح عمل ہو سکتا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہ شعبان میں بہترین دعا و ذکر استغفار ہے۔ جو شخص ہر روز ستر مرتبہ استغفار کرے گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کیا ہے۔
۳اس مہینہ میں صدقہ دے چاہے نصف دانۂ خرمہ ہی کیوں نہ ہو تا کہ پروردگار اسے آتش جہنم سے آزاد کر دے۔ امام صادقؑ سے منقول ہے کہ آپ سے روزہ رجب کے فضائل کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ تم لوگ روزۂ شعبان سے کیوں غافل ہو۔ راوی نے عرض کیا فرزند رسولؐ ماہ شعبان کے ایک روزہ کی فضیلت کیاہے۔ فرمایا، خدا کی قسم اس کا ثواب بہشت ہے۔ عرض کی یا بن رسول اللہ اس مہینہ کے بہترین اعمال کیا ہیں۔ فرمایا صدقہ اور استغفار۔ جو شخص ماہ شعبان میں صدقہ دیتا ہے پروردگار اس صدقہ کو برابر بڑھاتا رہتا ہے جیسا کہ اونٹ اپنے بچے کی تربیت کرتا ہے یہاں تک کہ روز قیامت کوہِ احد جیسا بن کر اس کے سامنے آئے۔
۴اس پورے مہینہ میں ایک ہزار مرتبہ کہے
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
وَ لَا نَعْبُدُ اِلَّا اِيَّاهُ
اور ہم عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی
مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ
ہم اس کے دین سے خلوص رکھتے ہیں
وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ
اگرچہ مشرکوں پر ناگوار گزرے۔
اس کا ثواب بے شمار ہے اور یہ ہزار سال کی عبادت کے برابر ہے۔