بہر حال شب و روز ماہ رمضان کے بہترین اعمال میں قرآن حکیم کی تلاوت بھی ہے۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ اس کی تلاوت کرے کیونکہ وہ اسی مہینہ میں نازل ہوا ہے اور روایت میں ہے کہ ہر چیز کی ایک بہار ہوتی ہے اور قرآن کی بہار ماہ رمضان ہے۔ دوسرے مہینوں میں پورے مہینہ میں یا کم سے کم چھ روز میں ایک ختم قرآن سنت ہے مگر ماہ رمضان میں ہر تین دن میں ایک ختم قرآن سنت ہے بلکہ اگر روزانہ ختم کر لے تو اور زیادہ بہتر ہے۔ علامہ مجلسی ؒ نے فرمایا ہے کہ بعض حدیثوں میں ہے کہ بعض آئمہ رمضان میں چالیس قرآن بلکہ اس سے زیادہ پڑھا کرتے تھے اور اگر ہر ختم قرآن کا ثواب چہاردہ معصومینؑ میں سے کسی کی روح کو ہدیہ کر دے تو ثواب اور بھی دوچند ہو جائے گا۔ روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ثواب میں وہ روز قیامت انھیں حضرات کے ساتھ رہے گا۔ اس مہینہ میں دعا، صلوات اور استغفار بھی زیادہ کرنا چاہئے اور ‘‘لااله الّااللہُ’’ بہت زیادہ کہنا چاہئے کہ روایت میں ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام ماہ رمضان داخل ہونے کے بعد سوائے دعا، تسبیح، استغفار اور تکبیر کے کوئی کلام نہیں کرتے تھے اور اس ماہ میں عبادت اور نافلہ شب و روز کا بہترین اہتمام ہونا چاہئے۔