اے وہ خدا جس سے ہر خیر کی امید رکھتا ہوں
وَ آمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ كُلِّ شَرٍّ
اور ہر شر کے موقع پر اس کی ناراضگی سے امان چاہتا ہوں۔
يَا مَنْ يُعْطِيْ الْكَثِيْرَ بِالْقَلِيْلِ
اے وہ خدا جو قلیل عمل پر کثیر ثواب دیتا ہے۔
يَا مَنْ يُعْطِيْ مَنْ سَاَلَهُ
اے وہ خدا جو اپنے تمام سائلوں کو دیتا ہے۔
يَا مَنْ يُعْطِيْ مَنْ لَمْ يَسْاَلْهُ وَ مَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ
اے وہ خدا جو اُسے بھی دیتا ہے جو اس سے سوال کرے اور اُسے بھی دیتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے بلکہ اُسے پہچانتا بھی نہیں ہے۔
تَحَنُّنًا مِنْهُ وَ رَحْمَةً
اپنی رحمت اور مہربانی کی بناپر
اَعْطِنِيْ بِمَسْاَلَتِيْ اِيَّاكَ جَمِيْعَ خَيْرِ الدُّنْيَا
تو میرے سوال کی بناپر مجھے دنیا کی تمام نیکیاں
وَ جَمِيْعَ خَيْرِ الْآخِرَةِ
و آخرت کی تمام نیکیاں دے دے
وَ اصْرِفْ عَنِّيْ بِمَسْاَلَتِيْ اِيَّاكَ
اور مجھ سے مُوڑ دے
جَمِيْعَ شَرِّ الدُّنْيَا وَ شَرِّ الْآخِرَةِ
دنیا و آخرت کی تمام برائیوں کو
فَاِنَّهُ غَيْرُ مَنْقُوْصٍ مَا اَعْطَيْتَ
کہ تو جس کو عطا کرے گا اُس میں کمی نہیں ہوگی۔
وَ زِدْنِي مِنْ فَضْلِكَ يَا كَرِيْمُ۔
اور پھر اپنے فضل سے اور اضافہ فرما دے اے خدائے کریم۔
راوی کہتا ہے کہ اس دعا کے بعد حضرت نے اپنے بائیں ہاتھ سے محاسن شریف کو پکڑا اور نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ داہنے ہاتھ کی کلمہ کی انگلی کو حرکت دیتے ہوئے یہ کلمات زبان پر جاری کئے
يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ
اے صاحبِ جلال و اکرام
يَا ذَا النَّعْمَاءِ وَ الْجُوْدِ
اے صاحبِ نعمت و کرم
يَا ذَا الْمَنِّ وَ الطَّوْلِ
اے صاحبِ احسان و عطا
حَرِّمْ شَيْبَتِي عَلَى النَّارِ۔
میرے ان محاسن کو آتشِ جہنّم پر حرام کردے۔