پہلی شبِ جمعہ لیلتہ الرغائب
واضح رہے کہ ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ کو لیلتہ الرغائب کہاجاتا ہے اور اس کے لئے رسول اکرمؐ سے بے شمار فضیلت کے ساتھ ایک عمل وارد ہوا ہےجس کو ابن طاؤسؒ نے اقبال میں اور علامہ حلیؒ نے اجازۂ بنی زہرا میں نقل کیا ہے جس کی فضیلتوں میں یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے بہت سے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور جو شخص اس نماز کو ادا کرے گا جب قبر کی پہلی رات ہو گی تو پروردگار اس کے ثواب کو حسین ترین شکل اور نورانی چہرہ کے ساتھ فصیح زبان دے کر بھیج دے گا اور وہ اس سے کہے گا کہ میرے محبوب تجھے بشارت ہو کہ تو نے ہر سختی اور غم سے نجات حاصل کر لی ہے۔ تو وہ گھبرا کر پوچھے گا کہ میں نے تجھ جیسا حسین تو کوئی نہیں دیکھا ہے اور نہ ایسا شیریں کلام کبھی سنا ہے، نہ ایسی خوشبو محسوس کی ہے تو تو ہے کون؟ وہ کہے گا کہ میں اس نماز کا ثواب ہوں جو تونے فلاں سال ماہ رجب کی فلاں رات میں انجام دی تھی۔ اب میں آیا ہوں کہ تیرے حق کو ادا کروں اور تیری تنہائی کا مونس بنوں، تیری وحشت کو زائل کروں اور جب روز قیامت صور پھونکا جائے تو تیرے سر پر سایہ فگن رہوں۔ خوشحال ہو جا کے اب کوئی خیرتجھ سے زائل نہ ہو گا۔ اس نما زکی کیفیت یہ ہے کہ ماہ رجب کی پہلی جمعرات کو روزہ رکھے اور جب شب جمعہ ہوئے تو نماز مغرب و عشاء کے درمیان بارہ رکعت نماز ادا کرے اور دو رکعت پر سلام پڑھے اور ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد تین مرتبہ اناانزلناہ اور بارہ مرتبہ قل ھواللہ پڑھے۔ نماز فارغ ہونے کے بعد ستّر مرتبہ کہے ‘‘
خدایا! محمدؐ امّی پر اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما۔
اس کے بعد سجدہ میں جائے اور ستر مرتبہ کہے
سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَاۤئِكَةِ وَ الرُّوْحِ۔
فرشتوں اور روح کا رب بے عیب پاک تر ہے۔
پھر سجدہ سے سر اٹھا کر ستر مرتبہ کہے
رَبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ
پالنے والے بخش دے رحم فرما
وَ تَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ
اور ان گناہوں سے درگزر کر جن کو تو جانتا ہے
اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيُّ الْاَعْظَمُ۔
بے شک تو بلند تر بزرگ تر ہے۔
اور دوبارہ سجدہ میں جا کر پھر ستر مرتبہ کہے
سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَاۤئِكَةِ وَ الرُّوْحِ۔
فرشتوں اور روح کا رب ہے بے عیب پاک تر ہے۔
اور پھر اپنی حاجت کو طلب کرے جو انشاءاللہ پوری ہوگی۔یہ بھی معلوم رہے کہ ماہ رجب میں زیارت امام رضا علیہ السلام مستحب بھی ہے اور خصوصیت بھی رکھتی ہے جس طرح کے اس مہینہ میں عمرہ کی فضیلت بھی وارد ہوئی ہے اور اسے حج کے برابر قرار دیا گیا ہے اور نقل کیا گیا ہے پھر ماہ رجب میں امام زین العابدین علیہ السلام نے عمرہ کیا تو روزانہ خانٔہ کعبہ کے پاس نماز ادا فرماتے تھے اور شب و روز سجدہ کیا کرتے تھے اور سجدہ میں یہ ذکر کیاکرتے تھے۔
عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِكَ
پروردگار بندہ کا گناہ عظیم ہے
فَلْيَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِكَ۔
لہٰذا تیری معافی کو بھی حسین ہونا چاہیے۔