پروردگار اس چاند کو ہمارے لیے امن و ایمان
وَ السَّلَامَةِ وَ الْاِسْلَامِ
اور سلامتی و اسلام کا چاند قرار دے دینا۔
رَبِّي وَ رَبُّكَ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ۔
اے چاند میرا اور تیرا دونوں کا پروردگار وہی خدائے عزّوجل ہے۔
اور حضرت رسولؐ سے منقول ہے کہ جب رجب کا چاند دیکھے تو پڑھےاور حضرت رسولؐ سے منقول ہے کہ جب رجب کا چاند دیکھے تو پڑھے۔
اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَ شَعْبَانَ
خدایا ہمیں ماہِ رجب و شعبان کی برکت عنایت فرما
وَ بَلِّغْنَا شَهْرَ رَمَضَانَ
اور ہمیں ماہِ رمضان تک پہنچا دے
وَ اَعِنَّا عَلَى الصِّيَامِ
اور اس کے صیام
وَ الْقِيَامِ
و قیام
وَ حِفْظِ اللِّسَانِ
اور اس کے زمانے میں اپنی زبان کو محفوظ رکھنے
وَ غَضِّ الْبَصَرِ
اور نگاہوں کو نیچے رکھنے میں ہماری مدد فرما
وَ لَا تَجْعَلْ حَظَّنَا مِنْهُ الْجُوْعَ وَ الْعَطَشَ۔
اور ہمارا حصّہ ماہِ رمضان میں صرف بھوک و پیاس نہ ہونے پائے۔
۲اس شب میں غسل کرے کہ بعض علماء نے فرمایا ہے اور رسول اکرمؐ سے روایت ہے کہ جوشخص ماہ رجب کو حاصل کر لے اور اس کی پہلی اور پندرہ اور آخری رات میں غسل کرے وہ گناہوں سے یوں نکل آتا ہے جیسے شکم مادر سے پیدا ہوا ہو۔
۳زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھے۔
۴نماز مغرب کے بعد بیس رکعت نما زپڑھے سورۂ حمد اور قل ھو اللہ کے ساتھ اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھے تا کہ خود اور اس کے اہل و عیال، مال اولاد سب محفوظ رہے اور عذاب قبر سے بھی پناہ میں رہے اور صراط سے مثال برق گذر جائے۔
۵نماز عشاء کے بعد دو رکعت نماز پڑھے جس کی پہلی رکعت میں سورۂ حمد اور الم نشرح ایک مرتبہ اور قل ھو اللہ تین مرتبہ، اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد الم نشرح اور قل ھواللہ اور ناس و فلق پڑھے۔ سلام کے بعد تیس مرتبہ کہے
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ۔
اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
اور تیس مرتبہ صلوات پڑھے تاکہ پروردگار اس کے گناہوں کو معاف کرکے اتنا پاکیزہ بنا دے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
۶تیس رکعت نما زپڑھے جس کی ہر رکعت سورۂ حمد میں اور کافرون ایک مرتبہ اور قل ھواللہ تین مرتبہ پڑھے
۷وہ عمل بجا لائیں جیسے شیخ ؒ نے مصباح المتہجد میں ذکر کیا ہے شب اول رجب کہ اعمال میں
ابو البختری وہب بن وہب کے واسطہ سے امام صادقؑ سے اور انھوں نے اپنے آباء و اجداد کے ذریعہ امیر المومنینؑ سے نقل کیا ہے کہ حضرت کو یہ بات پسند تھی کہ انسان اپنے کو سال میں چار رات خالی رکھے اور ان راتوں کو عبادت الٰہی میں گذار دے۔ شب اول ماہ رجب، شب نیمۂ شعبان، شب عید الفطر اور شب عید قربان ۔
امام محمد تقی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص نماز عشاء کے بعد شب اول رجب اس دعا کو پڑھے اس نے گویا ایک کار محبوب انجام دیا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ بِاَنَّكَ مَلِكٌ
خدایا میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ تو بادشاہ ہے
وَ اَنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرٌ
اور تو ہر شئے پر قدرت رکھتا ہے
وَ اَنَّكَ مَا تَشَاءُ مِنْ اَمْرٍ يَكُوْنُ
اور جو کام چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ
میں تیری طرف متوجہ ہوں
نَبِيِّ الرَّحْمَةِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
تیرے نبیِ رحمت حضرت محمدؐ کے واسطہ سے۔
يَا مُحَمَّدُ
اے محمدؐ!
يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ
اے رسولِ خداؐ!
اِنِّي اَتَوَجَّهُ بِكَ اِلَى اللّٰهِ رَبِّكَ وَ رَبِّيْ
میں آپ کے ذریعہ اس خدا کی طرف متوجہ ہوں جو میرا اور آپ کا دونوں کا پروردگار ہے
لِيُنْجِحَ [لِي] بِكَ طَلِبَتِيْ
تاکہ آپ کے وسیلہ سے میری حاجتوں کو پورا کردے۔
اَللّٰهُمَّ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ
خدایا میں تیرے نبی حضرت محمدؐ
وَ الْاَئِمَّةِ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ
اور ان کے اہل بیتؑ کے ائمہؑ کے واسطہ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ
سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ
اَنْجِحْ طَلِبَتِي۔
ان کے واسطہ سے میری حاجتوں کو پورا فرما دے۔
اور اس کے بعد اپنی حاجتیں بیان کرے۔
علی بن حدید سے روایت ہے کہ امام موسیٰ کاظمؑ نماز شب سے فراغت کے بعد سجدہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
لَكَ الْمَحْمَدَةُ اِنْ اَطَعْتُكَ
پروردگار اگر میں تیری اطاعت کروں تو تیرا شکر ہے
وَ لَكَ الْحُجَّةُ اِنْ عَصَيْتُكَ
اور اگر میں معصیت کروں تو تیری حجّت مجھ پر تمام ہے۔
لَا صُنْعَ لِي وَ لَا لِغَيْرِيْ فِي اِحْسَانٍ اِلَّا بِكَ
میرے لیے میرے غیر کے پاس کوئی نیکی نہیں ہے مگر وہ سب تیرا ہی عطیہ ہے۔
يَا كَاۤئِنُ [كَاۤئِنًا] قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ
اے وہ جو سب سے پہلے تھا
وَ يَا مُكَوِّنَ كُلِّ شَيْءٍ
اور ہر شئے کا موجد ہے۔
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
تو ہی ہر شئے پر قادر ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَدِيْلَةِ عِنْدَ الْمَوْتِ
خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں وقتِ موت انحراف سے
وَ مِنْ شَرِّ الْمَرْجِعِ فِي الْقُبُوْرِ
اور قبر میں بدترین بازگشت سے
وَ مِنَ النَّدَامَةِ يَوْمَ الْآزِفَةِ
اور روزِ قیامت کی شرمندگی سے،
فَاَسْاَلُكَ اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
میرا سوال ہے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما۔
وَ اَنْ تَجْعَلَ عَيْشِيْ عِيْشَةً نَقِيَّةً
میری زندگی کو پاکیزہ زندگی اور موت کو معتدل موت
وَ مِيْتَتِيْ مِيْتَةً سَوِيَّةً
اور میری واپسی کو
وَ مُنْقَلَبِيْ مُنْقَلَبًا كَرِيْمًا
باکرامت واپسی قرار دے دے
غَيْرَ مُخْزٍ وَ لَا فَاضِحٍ
جس میں نہ کوئی ذلّت ہو اور نہ کوئی رسوائی۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
الْاَئِمَّةِ يَنَابِيْعِ الْحِكْمَةِ،
جو ائمہؑ ہیں۔ حکمت کے سرچشمے،
وَ اُوْلِي النِّعْمَةِ
اور اولیاء نعمت ہیں،
وَ مَعَادِنِ الْعِصْمَةِ
اور عصمت کے معدن ہیں۔
وَ اعْصِمْنِيْ بِهِمْ مِنْ كُلِّ سُوْءٍ
ان کے ذریعہ مجھے ہر برائی سے محفوظ رکھنا
وَ لَا تَاْخُذْنِيْ عَلٰى غِرَّةٍ وَ لَا عَلٰى غَفْلَةٍ
اور مجھے میری غفلت کی حالت میں اپنی گرفت میں نہ لے لینا اور نہ میرے تغافل میں مجھے پکڑ لینا۔
وَ لَا تَجْعَلْ عَوَاقِبَ اَعْمَالِي حَسْرَةً
میرے اعمال کا انجام حسرت نہ ہونے پائے
وَ ارْضَ عَنِّيْ
اور تو ہم سے راضی ہوجا کہ
فَاِنَّ مَغْفِرَتَكَ لِلظَّالِمِيْنَ وَ اَنَا مِنَ الظَّالِمِيْنَ
تیری مغفرت اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے لیے ہی ہے اور میں انھیں میں سے ہوں۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَا لًا يَضُرُّكَ
خدایا میرے گناہ کو معاف کردے کہ اس سے تیرا کوئی نقصان نہیں ہے
وَ اَعْطِنِيْ مَا لًا يَنْقُصُكَ
اور مجھے وہ سب کچھ عطا فرمادے
فَاِنَّكَ الْوَسِيْعُ رَحْمَتُهُ
جس سے تیرے خزانے میں کوئی کمی ہونے والی نہیں ہے کہ
الْبَدِيْعُ حِكْمَتُهُ
تیری رحمت وسیع اور تیری حکمت نرالی ہے۔
وَ اَعْطِنِي السَّعَةَ وَ الدَّعَةَ
مجھے وسعت ، راحت،
وَ الْاَمْنَ وَ الصِّحَّةَ
امن، صحت،
وَ الْنُّخُوْعَ وَ الْقُنُوْعَ
خضوع، قناعت،
وَ الشُّكْرَ وَ الْمُعَافَاةَ وَ التَّقْوَىٰ
شکر، عافیت، تقویٰ،
وَ الصَّبْرَ وَ الصِّدْقَ عَلَيْكَ وَ عَلٰى اَوْلِيَاۤئِكَ
صبر اور صداقت کی توفیق عطا فرما اور اپنے اور اپنے اولیاء کے بارے میں
وَ الْيُسْرَ وَ الشُّكْرَ
سہولت اور شکر عطا فرما
وَ اعْمُمْ بِذَالِكَ يَا رَبِّ اَهْلِيْ وَ وَلَدِيْ
اور میری دعا میں شامل کرلے میرے تمام اہل و اولاد،
وَ اِخْوَانِي فِيْكَ
برادرانِ ایمان
وَ مَنْ اَحْبَبْتُ وَ اَحَبَّنِيْ
اور جن سے میں محبّت کرتا ہوں اور جو مجھ سے محبّت کرتے ہیں
وَ وَلَدْتُ وَ وَلَدَنِيْ
اور جو میری اولاد میں ہیں یا میرے آباء و اجداد میں
مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُؤْمِنِيْنَ
مسلمین و مومنین ہیں ان سب کو میری دعا میں شامل کرلے
يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ۔
اے رب العالمین۔
ابن رُشیم کا بیان ہے کہ یہ دعا نماز شب کی آٹھ رکعت کے بعد نماز وتر سے پہلے پڑھی جائے ۔ اس کے بعد تین رکعت نماز شفع و وتر ادا کر کے یہ دعا پڑھے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَا تَنْفَدُ خَزَاۤئِنُهُ
ساری حمد اس خدا کے لیے ہے جس کے خزانے ختم نہیں ہوتے ہیں
وَ لَا يَخَافُ آمِنُهُ
اور اس کا محفوظ کیا ہوا خوف زدہ نہیں ہوتا ہے۔
رَبِّ اِنِ ارْتَكَبْتُ الْمَعَاصِيَ
خدایا اگر میں نے گناہ کیا ہے
فَذَالِكَ ثِقَةٌ [ثِقَةً] مِنِّي بِكَرَمِكَ
تو صرف اس لیے کہ مجھے تیرے کرم پر اعتماد تھا کہ
اِنَّكَ تَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِكَ
تو توبہ قبول کرلیتا ہے
وَ تَعْفُوْ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ
اور برائیوں کو معاف کردیتا ہے
وَ تَغْفِرُ الزَّلَلَ
لغزشوں سے درگذر کرتا ہے
وَ اِنَّكَ مُجِيْبٌ لِدَاعِيْكَ
اور اپنے دعا کرنے والوں کی سنتا ہے
وَ مِنْهُ قَرِيْبٌ
اور ان سے قریب تر ہے
وَ اَنَا تَاۤئِبٌ اِلَيْكَ مِنَ الْخَطَايَا
اور میں تیری بارگاہ میں اپنی خطاؤں سے توبہ کررہا ہوں
وَ رَاغِبٌ اِلَيْكَ فِي تَوْفِيْرِ حَظِّيْ مِنَ الْعَطَايَا
اور تیری ہی طرف متوجہ ہوں کہ اپنے عطایا میں سے میرے حصّہ کو زیادہ کردے
يَا خَالِقَ الْبَرَايَا
اے مخلوقات کے پیدا کرنے والے ،
يَا مُنْقِذِيْ مِنْ كُلِّ شَدِيْدَةٍ
اے ہر مصیبت سے نکال لینے والے۔
يَا مُجِيْرِيْ مِنْ كُلِّ مَحْذُوْرٍ
ہر برائی سے پناہ دینے والے۔
وَفِّرْ عَلَيَّ السُّرُوْرَ
میرے سرور میں اضافہ کردے
وَ اكْفِنِيْ شَرَّ عَوَاقِبِ الْأُمُوْرِ
اور مجھے قبر کے بدترین نتائج سے محفوظ فرما دینا کہ
فَاَنْتَ اللّٰهُ عَلٰى نَعْمَاۤئِكَ وَ جَزِيْلِ عَطَاۤئِكَ مَشْكُوْرٌ
تو اللہ ہے اور ساری نعمتیں تیری ہی ہیں۔ سارے عطایا پر تیرا ہی شکریہ ادا کیا جاتا ہے
وَ لِكُلِّ خَيْرٍ مَذْخُوْرٌ۔
اور ہر خیر کے لیے تجھ ہی کو ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ علماء کرام نے اس رات کے لئے مخصوص نماز بھی نقل کی ہے جس کے ذکر کرنے کی اس مقام پر گنجائش نہیں ہے۔