اے صاحبِ کبریا و عظمت
وَ اَهْلَ الْجُوْدِ وَ الْجَبَرُوْتِ
اے صاحبِ جود و جبروت،
وَ اَهْلَ الْعَفْوِ وَ الرَّحْمَةِ
اے صاحبِ عفو و رحمت
وَ اَهْلَ التَّقْوٰى وَ الْمَغْفِرَةِ
اے صاحبِ تقویٰ و مغفرت
اَسْاَلُكَ بِحَقِّ هٰذَا الْيَوْمِ
میں تجھ سے اس دن کے حق سے سوال کرتا ہوں
الَّذِيْ جَعَلْتَهُ لِلْمُسْلِمِيْنَ عِيْدًا
جس کو تو نے مسلمانوں کے لیے روزِ عید بنایا
وَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ ذُخْرًا وَ شَرَفًا وَ كَرَامَةً وَ مَزِيْدًا
اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے لیے شرف و کرامت کے مقام کا سبب بنایا
اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ اَنْ تُدْخِلَنِيْ فِيْ كُلِّ خَيْرٍ
اور ہم کو اس نیکی میں داخل کردے
اَدْخَلْتَ فِيْهِ مُحَمَّدًا وَ اٰلَ مُحَمَّدٍ
جس میں محمدؐ و آل محمدؐ کو داخل کیا ہے
وَ اَنْ تُخْرِجَنِيْ مِنْ كُلِّ سُوْۤءٍ
اور ہر اس برائی سے نکال دے
اَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّدًا وَ اٰلَ مُحَمَّدٍ
جس سے محمدؐ و آل محمدؐ کو دور رکھا ہے۔
صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ اَجْمَعِيْنَ
( جن پر تیری رحمت و برکات ہیں)
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَسْاَلُكَ خَيْرَ مَا سَاَلَكَ مِنْهُ عِبَادُكَ الصَّالِحُوْنَ
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس خیر کے بارے میں جس کا صالحین نے تجھ سے سوال کیا
وَ اَعُوْذُ بِكَ فِيْهِ مِمَّا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عِبَادُكَ الصَّالِحُوْنَ (الْمُخْلِصُوْنَ)
اور پناہ مانگتا ہوں ان برائیوں سے جس سے تیرے مخلص بندوں نے پناہ چاہی۔
اس کے بعد چھٹی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور پھر دوسری رکعت میں سورۂ الحمد کے بعد سورۂ والشمس پڑھے۔ اس کے بعد چار تکبیر کہے اور ہر تکبیر کے بعد مذکورہ دعائے قنوت پڑھے۔ پانچویں تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور اس کے بعد نماز تمام کرکے تسبیح زہراؑ پڑھے۔ نماز کے بعد بہت سی دعائیں وارد ہوئی ہیں جس میں سے دعا نمبر چھیالیس۴۶ صحیفۂ کاملہ ہے۔ مستحب ہے کہ نماز عید زیرِ آسمان اور زمین پر بغیر فرش بچھائے ادا کرے اور نماز کے بعد اس راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ سے واپس آئے جس راستہ سے گیا ہے اور اپنے برادر ایمانی کے اعمال کے قبول ہونے کی دعا کرے۔
۹زیارت اما م حسین علیہ السّلام پڑھے۔
۱۰اس کے بعد دعائے ندبہ پڑھے اور جب دعاؤں سے فارغ ہو جائے تو سجدہ میں جائے اور کہے۔
اَعُوْذُ بِكَ مِنْ نَارٍ حَرُّهَا لَا يُطْفٰى
خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس آگ سے جس کی حرارت سرد ہونے والی نہیں ہے
وَ جَدِيْدُهَا لَا يَبْلٰى
جس کی تازگی جانے والی نہیں ہے
وَ عَطْشَانُهَا لَا يَرْوٰى
جس کی پیاس بجھائی نہیں جاسکتی۔
اس کے بعد دایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے
اِلٰهِيْ لَا تُقَلِّبْ وَجْهِيْ فِيْ النَّارِ
پروردگار میرے اس رخسارے کو جہنّم میں نہ لوٹانا
بَعْدَ سُجُوْدِيْ وَ تَعْفِيْرِيْ لَكَ
اس سجدہ کے بعد اور خاک پر سر رکھنے کے بعد
بِغَيْرِ مَنٍّ مِنِّيْ عَلَيْكَ
اگرچہ میرا تجھ پر کوئی احسان نہیں ہے،
بَلْ لَكَ الْمَنُّ عَلَيَّ
تیرا ہی مجھ پر احسان ہے۔
پھر بایاں رخسار رکھ کر کہے
اِرْحَمْ مَنْ اَسَاۤءَ وَ اقْتَرَفَ
خدایا اس پر رحم کر جس نے برائی کی گناہ کیا
وَ اسْتَكَانَ وَ اعْتَرَفَ۔
بے چارہ ہوگیا اور اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔
پھر سر کو خاک پر رکھے اور کہے
اِنْ كُنْتُ بِئْسَ الْعَبْدُ
اگر میں بدترین بندہ ہوں
فَاَنْتَ نِعْمَ الرَّبُّ
تو تو بہترین پروردگار ہے۔
عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِكَ
بندے کے گناہ عظیم ہیں
فَلْيَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِكَ يَا كَرِيْمُ
تو تیری طرف سے بہترین معافی ہونی چاہیے اے کریم۔
پھر ۱۰۰ مرتبہ کہے
اَلْعَفْوَ اَلْعَفْوَ
معافی معافی
پھر سیّدابن طاؤس ؒ نے فرمایا
اور آج کے دن کو لہو و لعب اور غفلت میں نہ گذاروں کہ تمھیں نہیں معلوم ہے کہ تمہارے اعمال مقبول ہیں یا مردود۔ اگر مقبولیت کی امید ہے تو اس کے بدلہ شکریہ ادا کرو اور اگر رد ہوجانے کا خوف ہے تو مستقل طور پر رنجیدہ رہو۔
ماہِ شوّال کاپچیسواں دن:
بعض کے قول کے مطابق ۱۴۸ھ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی وفات واقع ہوئی ہے اور بعض نے روز وفات ۱۵؍رجب بیان کی ہے اور آنحضرت کی وفات کا سبب وہ زہر تھا جو انھیں انگور میں کھلایا گیا تھا اور روایت ہوئی کہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو اپنی آنکھوں کو کھول کر فرمایا میرے عزیزوں کو جمع کرو اور جب سب جمع ہو گئے تو ان کی جانب نگاہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ میری شفاعت اس کو نہیں ملے گی جو نماز کو ہلکا سمجھتا ہے اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتا ہے۔