EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
روزِ عید غدیر صیغۂ اخُوَّت کا ذکر
یہ دن شیعوں کے اعمال کے قبول ہونے کا دن ہے اور ان کے غموں کے دور ہونے کا دن ہے۔ یہی ہو دن ہے جس دن جناب موسیٰ ؑ نے جادوگروں پر غلبہ حاصل کیا تھا اور خدا نے آتشِ نمرود کو جنابِ ابراہیم خلیل اللہؑ کے لئے گلزار بنایا تھا اور وہ سردو سلامتی بن گئی تھی۔ اور حضرت موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون کو وصی بنایا تھا اور حضرت عیسیٰ ؑ نے شمعون الصّفا کو وصی بنایا تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی رعایہ کو آصف بن برخیا کےخلیفہ ہونے پر گواہ بنایا تھا اور رسولِ ؐ خدا نے اصحاب کے درمیان رشتۂ اخوت جوڑا تھا۔ اس لئے اس روز عقدِ اخوت مومنین کے ساتھ مناسب ہے اور اس کا طریقہ جو شیخؒ نے مستدرک وسائل میں زادالفردوس سے نقل کیا ہے یہ ہے کہ اپنا داہنا ہاتھ دوسرے برادر مومن کے ہاتھ پر رکھے اور کہے۔
وَآخَيْتُكَ فِي اللّٰهِ
وَ صَافَيْتُكَ فِي اللّٰهِ
وَ صَافَحْتُكَ فِي اللّٰهِ
وَ عَاهَدْتُ اللّٰهَ وَ مَلَاۤئِكَتَهُ
وَ كُتُبَهُ وَ رُسُلَهُ
وَ اَنْبِيَاۤءَهُ وَ الْاَئِمَّةَ الْمَعْصُوْمِيْنَ
عَلَيْهِمُ السَّلَامُ
عَلٰىۤ اَنِّيْۤ اِنْ كُنْتُ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ وَ الشَّفَاعَةِ
وَ اُذِنَ لِيْ بِاَنْ اَدْخُلَ الْجَنَّةَ
لَاۤ اَدْخُلُهَاۤ اِلَّا وَ اَنْتَ مَعِيْ۔
پھر برادر مومن کہے
قَبِلْتُ
پھر کہے
اَسْقَطْتُ عَنْكَ جَمِيْعَ حُقُوْقِ الْاُخُوَّةِ
مَا خَلَا الشَّفَاعَةَ وَالدُّعَآءَ وَالزِّيَارَةَ
اور محدّث فیض ؒ نے بھی خلاصۃ الاذکار میں تقریباً ایسا ہی صیغۂ اخوت ذکر کیا ہے۔ پھر فرمایا کہ دوسری طرف والا اس کو قبول کرے اپنے لئے یا اپنےموکل کے لئے اس لفظ کے ساتھ جو قبول کرنے پر دلالت کرتا ہو۔ پھر ساقط کر دیں ایکدوسرےسے تمام حقوق اخوت کو سوائے دعا اور ملاقات کے۔