EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
نماز سلمان
۵نماز سلمان کا سلسلہ شروع کرے اس طرح کے دس رکعت نماز پڑھے جس میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھے اور ہر رکعت میں ایک مرتبہ حمد اور تین مرتبہ سورۂ توحید اور تین بار سورۂ قل یا ایہاالکفرون پڑھے اور ہر سلام کے بعد ہاتھوں کو بلند کر کے پڑھے۔
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
جو یکتا ہے اس کا کوئی ثانی نہیں
لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ
حکومت اس کی اور حمد اسی کی ہے
يُحْيِيْ وَ يُمِيْتُ
وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے
وَ هُوَ حَيٌّ لَا يَمُوْتُ
وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں بھلائی
بِيَدِهِ الْخَيْرُ
اسی کے پاس ہے
وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيْرٌ۔
اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
پھر پڑھے
اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَيْتَ
اے معبود! جو کچھ تو دے اُسے کوئی روکنے والا نہیں
وَ لَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ
اور جو کچھ تو روکے وہ کوئی دے نہیں سکتا
وَ لَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ۔
اور نفع نہیں دیتا کسی کا نصیب سوائے تیری دی ہوئی خوش بختی کے۔
پھر ہاتھوں کو اپنے چہرہ پر پھیرے۔ پھر پندرہ رجب کو بھی یہی نماز اسی طرح پڑھے لیکن دعا میںعلی کل شئی قدیر
کے بعد کہےپھر مہینہ کے آخر دن بھی یہی نماز پڑھے لیکنعلی کل شئی قدیر
اِلَهًا وَاحِدًا اَحَدًا
وہ معبود یگانہ،
فَرْدًا صَمَدًا
یکتا، تنہا اور بے نیاز ہے
لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَ لَا وَلَدًا۔
نہ اس کی کوئی زوجہ ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔
کے بعد اس طرح کہے۔
وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ الطَّاهِرِيْنَ
اور خدا کی رحمت ہو حضرت محمدؐ اور اس کی پاکیزہ آلؑ پر
وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔
اور نہیں کوئی طاقت و قوّت مگر وہ جو بلند وہ بزرگ خدا سے ہے۔
پھر اپنے ہاتھوں کو چہرہ پر مل کر اپنی حاجت طلب کرے۔ اور دیکھو اس نماز کے فوائد سے غفلت نہ ہونی چاہئے کہ وہ بہت ہے اور حضرت سلمانؒ کی پہلی رجب میں ایک اور نماز بھی وارد ہوئی ہے جو دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں حمد اور تین بار سورہ توحید ہے۔ اسکی بڑی فضیلت ہے اور خلاصہ یہ ہے کہ گناہوں کی مغفرت، فتنہ قبر، عذاب قیامت، جذام، برص اور ذات الجنب سے حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔ سید ؒ نے اس دن کے لئے چار رکعت نماز نقل کی ہے جسے کتاب اقبال میں دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اسی دن ۵۴ھ؁ میں امام محمد باقرؑ کی ولادت ہے اگرچہ میرے نزدیک یہ تاریخ تین صفر ہے۔
روز دوم ماہِ رجب
ایک قول کے مطابق دوسری رجب کو۲۱۲ھ؁ میں امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہے اور آپ کی شہادت ۲۵۴ھ؁ میں ۳؍رجب کو سُرِّ من رایٰ میں ہوئی ہے
روزِ دہم دس ماہِ رجب
ابن عیّاش کے قول کے مطابق ۱۰؍ رجب کو امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہے۔