EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
سترہ ۱۷؍ ربیع الاوّل روزِ ولادتِ رسولِؐ خدا
روز ہفدہم
علماء امامیہ کے درمیان مشہور ہے کہ یہ روزِ ولادت باسعادت ِ باسعادتِ پیغمب اسلامؐ ہے۔ آپ کی ولادت باسعادت مکّہ معظمہ میں آپ ہی کے گھر میں ہوئی ہے روزِ جمعہ طلوع فجر کے وقت ۱یک عام الفیل میں نوشیروانِ عادل کی حکومت کے زمانہ میں ۔ نیز اسی روز ۸۳ھ؁ میں امام جعفر صادقؑ کی ولادت باسعادت ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس دن کا فضل و شرف اور بھی بڑھ گیا ہے اور یہ دن انتہائی شرف والا ہے۔ اس دن میں چند اعمال ہیں:
۱ غسل۔
۲ روزہ۔ جس کی فضیلت بہت ہے اور روایت میں ہے کہ جو شخص اس روز روزہ رکھے خدا اس کو ایک سال کے روزہ کا ثواب عطا کرے گا اور یہ دن ان چاردنوں میں سے ہے جو سارے سال میں روزہ کی فضیلت کے اعتبار سے ممتاز ہیں۔
۳ زیارتِ حضرت رسولؐ خدا نزدیک یا دور سے پڑھے
۴ زیارت امام امیر المومنینؑ ۔ وہ زیارت جو امام صادقؑ نے محمد بن مسلم کو تعلیم دی تھی اور زیارت کے باب میں انشاءاللہ ذکر ہو گی۔
۵ جب دن بلند ہو جائے تو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ اناانزلناہ اور دس مرتبہ سورۂ توحید پڑھے اور سلام کے بعد مصلّٰی پر بیٹھے بیٹھے یہ دعا پڑھے۔
اَللّٰهُمَّ اَنْتَ حَىُّ لَا تَمُوْتَ
یہ دعا بہت طویل ہے اور اس کی سند بھی کسی معصوم تک پہنچی ہےاس لئے اختصار کی بنا پر ترک کر دیا گیا ہے۔ جو پڑھنا چاہے وہ زادالمعاد کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔
۶ مسلمان اس دن کی تعظیم کریں، صدقہ اور خیرات دیں اور مومنوں کو مسرور کریں اور مشاہد مشرفہ کی زیارت کو جائیں۔ اور سیدؒ نے اقبال میں اس روز کی تعظیم کی شرح بیان کی ہے۔ میں نے نصاریٰ کے گروہ اور کچھ مسلمانوں کو دیکھا ہے کہ وہ روزِ ولادت جناب عیسیٰؑ کی تعظیم کرتے ہیں تو مجھے تعجب ہوا کہ کس طرح مسلمان مطمئن ہو گئے کہ اپنے پیغمبرؐ کی ولادت باسعادت کے دن کی تعظیم جناب عیسیٰؑ کی ولادت کے دن سے کم کریں۔