خدا بزرگ تر ہے
اور تین مرتبہ:
بِالِلّٰهِ اَخْرُجُ
خدا کے ساتھ باہر نکلتا ہوں
وَ بِالِلّٰهِ اَدْخُلُ
خدا کے ساتھ اندر آتا ہوں
وَ عَلٰى الِلّٰهِ اَتَوَكَّلُ۔
اور خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں
اس کے بعد کہے: اس طرح وہ مستقل خداوند عالم کی ضمانت میں رہے گا جب تک کہ اپنی جگہ واپس نہ آجائے۔
اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِىْ فِىْ وَجْهِىْ هٰذَا بِخَيْرٍ
اے معبود! میرے اس کام میں بھلائی کی راہ کھول دے
وَ اخْتِمْ لِىْ بِخَيْرٍ
اور اس کا انجام بہتر کر دے
وَّقِنِىْ شَرَّ كُلِّ دآبَّةٍ اَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا
اور مجھے ہر حرکت کرنے والے کے شر سے بچا جس کی مہار تیرے ہاتھ میں ہے
اِنَّ رَبِّىْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔
بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔
۲حضرت امام زین العابدینؑ سے روایت ہے کہ گھر کے دروازے سے نکلتے وقت کہے:
بِسْمِ اللّٰهِ وَ بِاللّٰهِ
خدا کے نام سے میں خدا پر ایمان لایا
تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ۔
اور خدا پر بھروسا کرتا ہوں ۔
۳ حضرت امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ جو شخص گھر سے نکلنے کے وقت یہ دعا پڑھے: تو خداوند عالم اس کے لئے ان تمام باتوں سے کفایت کرے گا جو دنیا و آخرت میں غمزدہ بناتی ہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ
خدا کے نام سے
حَسْبِىَ اللّٰهُ
میرے لیے اللہ کافی ہے
تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ
میں نے اللہ پر بھروسہ کیا
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ خَيْرَ اُمُوْرِىْ كُلِّهَا
اے معبود !میں تجھ سےاپنے تمام امور میں خیر چاہتا ہوں
وَ اَعُوْذُبِكَ مِنْ خِزْىِ الدُّنْيَا وَ عَذَابِ الْاٰخِرَةِ۔
اور تیری پناہ لیتا ہوں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے
۴حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جب گھر سے باہر جاؤ تو یہ کہو:
بِسْمِ اللّٰهِ
اللہ کے نام سے،
تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ
میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔
لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ
اللہ کے علاوہ کسی کے پاس طاقت نہیں۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ خَيْرَ مَا خَرَجْتُ لَهُ
خدایا میں جس کام کے لیے نکلا ہوں اس کی خیر چاہتا ہوں
وَ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا خَرَجْتُ لَهُ
اور اس کے شر سے نجات چاہتا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ اَوْسِعْ عَلَىَّ مِنْ فَضْلِكَ
پروردگار اپنے فضل و کرم کو وسیع تر فرما
وَ اَتْمِمْ عَلَىَّ نِعْمَتَكَ
اور اپنی نعمت کو تمام فرما۔
وَاسْتَعْمِلْنِىْ فِىْ طَاعَتِكَ
مجھے اپنی اطاعت میں استعمال کرنا
وَاجْعَلْ رَغْبَتِىْ فِيْمَا عِنْدَكَ
اور میری رغبت اپنی مرضی میں قرار دینا۔
وَ تَوَفَّنِىْ عَلٰى مِلَّتِكَ وَ مِلَّةِ رَسُوْلِكَ
اور اپنے دین پر، اپنے پیغمبرؐ کے راستہ پر مجھے دنیا سے اٹھانا۔
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ۔
درود و سلام ہو ان پر اور ان کی آل پر
۵حضرت امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ میرے والد ماجد جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ کلمات زبان پر جاری کرتے تھے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
خَرَجْتُ بِحَوْلِ اللّٰهِ وَ قُوَّتِهِ
میں خدا کی طاقت اور قدرت کے سہارے نکلا ہوں
لَابِحَوْلٍ مِّنِّىْ وَ لَا قُوَّتِىْ
اپنی طاقت و قدرت کے بھروسہ نہیں۔
بَلْ بِحَوْلِكَ وَ قُوَّتِكَ يَا رَبِّ
صرف تیری قدرت اور طاقت کے سہارے
مُتَعَرِّضًا لِرِزْقِكَ
تیری روزی کا طلب گار ہوں
فَاْتِنِىْ بِهِ فِىْ عَافِيَةٍ۔
لہٰذا اسے عافیت کے ساتھ عطا فرما دے
۶حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ جو شخص گھر سے باہر نکلتے ہوئے دس ۱۰؍ مرتبہ قل ھو اللہ پڑھے گا جب تک گھر واپس نہ آجائے گا خدا کی امان میں رہےگا اور خداوند عالم اس کا محافظ رہے گا۔
۷حضرت امام موسیٰ کاظمؑ سے روایت ہے کہ جب کبھی سفر کرنا چاہو تو گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر سامنے، دائیں اور بائیں سورۂ فاتحہ اور اسی طرح قل ھو اللہ، قل اعوذ برب الناس اور قل اعوذ بربّ الفلق پڑھو اور کہو:
اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِىْ وَاحْفَظْ مَا مَعِىَ
اے معبود! میری حفاظت فرما اور جو کچھ میرے پاس ہے
وَ سَلِّمْنِىْ وَ سَلِّمْ مَا مَعِىَ
اس کی بھی اور جو کچھ میرے پاس ہے اسے سالم رکھ
وَ بَلِّغْنِىْ وَ بَلِّغْ مَا مَعِىَ بَلَاغًا حَسَنًا۔
اور مجھے جو کچھ میرے ہمراہ ہے اسے اچھی طرح اپنی منزل پر پہنچا دے ۔
۸امام موسیٰ کاظمؑ سے ہی روایت کہ جب کبھی وطن یا سفر میں اپنی منزل سے نکلو تو کہو:
بِسْمِ اللّٰهِ
خدا کے نام سے
اٰمَنْتُ بِاللّٰهِ
میں خدا پر ایمان لایا
وَ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ
اور خدا پر بھروسہ کیا
مَا شَاۤءَ اللّٰهُ
آگے جو اللہ چاہے
لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ۔
نہیں کوئی طاقت و قوّت مگر جو اللہ سے ہے۔