EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں
یہ پانچ دعائیں ہیں
۱معاویہ بن عمار سے روایت ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں درخواست کی کہ مجھے رزق کے لئے دعا تعلیم فرمائیں تو حضرت نے دعا تعلیم فرمائی۔ میں نےرزق میں اضافہ کے لئے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں دیکھی ہے:
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِىْ مِنْ فَضْلِكَ الْوَاسِعِ
اے معبود! مجھے عطا فرما اپنے بے حساب فضل سے
الْحَلَالِ الطَّيِّبِ
حلا ل و پاکیزہ
رِزْقًا وَاسِعًا
فراوان روزی
حَلَالًا طَيِّبًا
جو حلال و پاکیزہ
بَلَاغًا لِلدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ
اور کافی ہو دنیا و آخرت کے لیے
صَبًّا صَبًّا
وہ جاری رہے
هَنِيْئًا مَرِيْئًا
مناسب اور خوش ذائقہ
مِنْ غَيْرِ كَدٍّ
بغیر کسی تکلیف کے
وَلَا مَنٍّ مِّنْ اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ
اور اس میں تیری مخلوق میں سے کسی کا احسان نہ ہو
اِلَّا سَعَةً مِّنْ فَضْلِكَ الْوَاسِعِ
مگر یہ کہ تیرے وسیع فضل سے فراوانی ملے
فَاِنَّكَ قُلْتَ وَاسْئَلُوْا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهِ
کیو ں کہ تو نے فرمایا ہے کہ اللہ کے فضل سے مانگو
فَمِنْ فَضْلِكَ اَسْئَلُ
پس میں تیرے فضل سے مانگتا ہوں
وَ مِنْ عَطِيَّتِكَ اَسْئَلُ
تیری عطا میں طلب کرتا ہوں
وَ مِنْ يَدِكَ الْمَلْاَ اَسْئَلُ
اور تیرے بھرے ہاتھ سے لینا چاہتا ہوں۔
۲حضرت امام محمد باقرؑ سے مروی ہے کہ آپؑ نے یزید شحام سے فرمایا کہ طلب روزی کے لئے واجب نمازکے سجدے میں کہو:
يَا خَيْرَ الْمَسْئُوْلِيْنَ
اے بہترین ذات جس سے مانگا جاتا ہے
وَ يَا خَيْرَ الْمُعْطِيْنَ
اور بہترین عطا کرنےوالے
اُرْزُقْنِىْ وَارْزُقْ عِيَالِىْ مِنْ فَضْلِكَ
مجھے رزق دے اور میرے عیال کو رزق دے اپنے فضل سے
فَاِنَّكَ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۔
کیوں کہ یقیناً تو بڑے فضل کا مالک ہے ۔
۳ابوبصیر سے منقول ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادقؑ سے اپنی حاجت کی شکایت کی اور استدعا کی کہ مجھے رزق کے لئے ایک دعا تعلیم فرمائیں تو حضرت نے مجھے یہ دعا تعلیم کی اور جس زمانے سے میں نے اسے پڑھاہے پھر کبھی محتاج نہیں ہوا۔ آپؑ نے فرمایا کہ نمازِ شب میں سجدہ کی حالت میں کہو:
يَا خَيْرَ مَدْعُوٍّ
اے بہترین وہ ذات جس سے دعا کی جاتی ہے
وَ يَا خَيْرَ مَسْئُوْلٍ
یا سوال کیا جاتا ہے،
وَ يَا اَوْسَعَ مَنْ اَعْطٰى
بہترین عطا کرنے والے،
وَ يَا خَيْرَ مُرْتَجِىً
بہترین امیدگاہ
اُرْزُقْنِىْ وَ اَوْسِعْ عَلَىَّ مِنْ رِزْقِكَ
مجھے رزق عطا فرما، میرے رزق میں وسعت عطا فرما
وَ سَبِّبْ لِىْ رِزْقًا مِنْ قِبَلِكَ
اور تو میرے رزق کے اسباب پیدا کردے
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌ۔
اس لیے کہ تو ہر شئی پر قادر ہے۔
شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ شیخ طوسیؒ نے یہ دعا نمازِ شب کی آٹھویں رکعت کے آخری سجدے کے لئے مصباح میں ذکر فرمائی ہے۔
۴روایت ہے کہ حضرت رسولؐ خدا نے یہ دعا طلب روزی کے لئے تعلیم فرمائی تھی:
يَا رَازِقَ الْمُقِلِّيْنَ
اے فقیروں کے روزی دینے والے،
وَ يَا رَاحِمَ الْمَسَاكِيْنَ
اے مشکلوں پر رحم کرنے والے،
وَ يَا وَلِىَّ الْمُؤْمِنِيْنَ
اے مومنین کے والی
وَ يَا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِيْنَ
اور اے مستحکم قوّت والے،
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اَهْلِ بَيْتِهِ
محمدّ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما۔
وَارْزُقْنِىْ وَ عَافِنِىْ
ہمیں رزق اور عافیت عطا فرما
وَ اكْفِنِىْ مَا اَهَمَّنِىْ۔
اور تمام مشکلات میں ہمارے لیے کافی ہوجا۔
۵حضرت امام جعفر صادقؑ سے طلبِ رزق کے لئے ابوبصیر نے دعا نقل کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ یہ امام زین العابدینؑ کی دعا ہے جو آپؑ خدا کی بارگاہ میں پڑھتے تھے:
اَللّٰهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ حُسْنَ الْمَعِيْشَةِ مَعِيْشَةً اَتَقَوِّىْ بِهَا عَلٰى جَمِيْعِ حَوَاۤئِجِىْ وَ اَتَوَصَّلُ بِهَا فِى الْحَيٰوةِ اِلٰى اٰخِرَتِىْ مِنْ غَيْرِ اَنْ تُتْرِفَنِىْ فِيْهَا فَاَطْغِىْ اَوْ تُقَتِّرَ بِهَا عَلَىَّ فَاَشْقِىْ اَوْسِعْ عَلَىَّ مِنْ حَلَالِ رِزْقِكَ وَ اَفْضِلْ عَلَىَّ مِنْ سَيْبِ فَضْلِكَ نِعْمَةً مِنْكَ سَابِغَةً وَ عَطَاۤءً غَيْرَ مَمْنُوْنٍ ثُمَّ لَاتَشْغَلْنِىْ عَنْ شُكْرِ نِعْمَتِكَ بِاِكْثَارٍ مِنْهَا تُلْهِيْنِىْ بَهْجَتُهُ وَ تَفْتِنُنِىْ زَهَرَاتُ زَهْوَتِهِ وَلَا بِاِقْلَالٍ عَلَىَّ مِنْهَا يَقْصُرُ بِعَمَلِىْ كَدُّهُ وَ يَمْلَاُ صَدْرِىْ هَمُّهُ اَعْطِنِىْ مِنْ ذٰلِكَ يَا اِلٰهِىْ غِنًى عَنْ شِرَارِ خَلْقِكَ وَ بَلَاغًا اَنَالُ بِهِ رِضْوَانَكَ وَ اَعُوْذُ بِكَ يَا اِلٰهِىْ مِنْ شَرِّ الدُّنْيَا وَ شَرِّ مَا فِيْهَا وَ لَاتَجْعَلْ عَلَىَّ الدُّنْيَا سِجْنًا وَلَافِرَاقَهَا عَلَىَّ حُزْنًا اَخْرِجْنِىْ مِنْ فِتْنَتِهَا مَرْضِيًّا عَنِّىْ مَقْبُوْلًا فِيْهَا عَمَلِىْ اِلٰى دَارِ الْحَيَوَانِ وَ مَسَاكِنِ الْاَخْيَارِ،
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں حسنِ معیشت کا، وہ معیشت جس سے تمام حوائج کو پورا کرنے کی طاقت پیدا ہوجائے اور میں اس سے خیر دنیا و آخرت تک پہنچ جاؤں۔ نہ مجھ میں سرکشی پیدا ہونے پائے اور نہ ایسی تنگی ہو جس سے کہ شقاوت پیدا ہو۔ مجھے رزقِ حلال کی وسعت عطا فرما اور اپنے فضل و کرم کو میرے شاملِ حال کردے، نعمتِ کاملہ عطا فرما اور وہ عطیہ جس کا سلسلہ ختم نہ ہونے پائے اس کے بعد ایسا نہ ہو کہ اتنی نعمت مل جائے کہ مجھے شکریہ سے غافل کردے۔ میں فتنہ میں مبتلا نہ ہونے پاؤں’’اور ایسی تنگی بھی نہ ہو کہ میں زحمتوں میں پڑ کے عمل کی کوتاہی کا شکار ہوجاؤں اور ہر وقت مجھے روزی ہی کی فکر لگی ہے‘‘۔ خدایا مجھے بدترین مخلوقات سے بے نیاز بنا دے اور اتنا سامان عطا فرما دے کہ میں تیری رضا تک پہنچ سکوں۔ خدایا میں دنیا و آخرت کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔ دنیا کو میرے لیے قیدخانہ نہ بنادینا اور نہ اس کے فراق کو میرے لیے باعثِ حزن قرار دینا۔ مجھے اس کے فتنے سے یوں نکالنا کہ تو مجھ سے راضی رہے، میرا عمل قابلِ قبول ہو اور میں وہاں پہنچ جاؤں جو زندگی کا گھر اور نیک بندوں کا مسکن ہے۔ مجھے اس فانی دنیا کے مقابلے میں آخرت کی باقی نعمتیں عنایت فرما۔ مجھے دنیا کی زحمتوں سے، زلزلوں سے شیطانوں کے غلبے سے، سلاطین کے حملوں سے اور ان کی سزا سے اور ظالموں کے ظلم سے محفوظ رکھنا۔ خدایا جو میرے لیے جو میرے لیے مکر کرے اُسے اسی کی طرف پلٹا دینا جو برائی چاہے تو اس کے لیے برائی قرار دینا جو میرے لیے اپنی تلوار کو تیز کرے اس کی دھار کو کند بنا دینا، جو میرے لیے آگ بھڑکائے اس کو خاموش کر دینا۔ مجھے ہر مکّار کے مکر سے نجات عطا فرما اور میرے طرف دیکھنے والے کافروں کی آنکھوں کو اندھا بنا دے، جو مجھے رنجیدہ کرنا چاہے ان کے رنج سے مجھے بچالے۔ حاسدوں کے شر سے محفوظ فرما مجھے سکون عطا فرما، مجھے اپنی حفاظت کی زرہ عطا فرما۔ مجھے اپنی پناہ میں زندہ رکھنا۔ میرے حالات کی اصلاح فرما دے، میرے قول و فعل میں صداقت عطا فرما اور مجھے اہل و مال میں برکت عنایت فرما۔
وَ اَبْدِلْنِىْ بِالدُّنْيَا الْفَانِيَةِ نَعِيْمَ الدَّارِ الْبَاقِيَةِ اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ اَزْلِهَا وَ زِلْزَالِهَا وَ مِنْ سَطَوَاتِ شَيَاطِيْنِهَا وَ سَلَاطِيْنِهَا وَ نَكَالِهَا وَ مِنْ بَغْىِ مَنْ بَغِىْ عَلَىَّ فِيْهَا اَللّٰهُمَّ مَنْ كَادَنِىْ فَكِدْهُ وَ مَنْ اَرَادَنِىْ فَاَرِدْهُ وَ فُلَّ عَنِّىْ حَدَّ مَنْ نَصَبَ لِىْ حَدَّهُ وَاَطْفِءْ عَنِّىْ نَارَ مَنْ شَبَّ لِىْ وَ قُوْدَهُ وَاكْفِنِىْ مَكْرَ الْمَكَرَةِ وَ افْقَاْعَنِّىْ عُيُوْنَ الْكَفَرَةِ وَاكْفِنِىْ هَمَّ مَنْ اَدْخَلَ عَلَىَّ هَمَّهُ وَادْفَعْ عَنِّىْ شَرَّ الْحَسَدَةِ وَاعْصِمْنِىْ مِنْ ذٰلِكَ بِالسَّكِيْنَةِ وَاَلْبِسْنِىْ دِرْعَكَ الْحَصِيْنَةَ وَاَحْيِنِىْ فِىْ سِتْرِكَ الْوَاقِىْ وَ اَصْلِحْ لِىْ حَالِىْ وَ صَدِّقْ قَوْلِىْ بِفِعَالِىْ وَ بَارِكْ لِىْ فِىْ اَهْلِىْ وَ مَالِىْ۔
مؤلف کہتا ہے کہ باب دوم میں نمازوں کے تذکرہ میں روزی کوزیادہ کرنے والی نمازیں گذر چکی ہیں۔