اے وہ کہ ہر چیز سے بے نیاز کرتا ہے
وَلَايَكْفٰى مِنْهُ شَيْى ءٌ
اور کوئی چیز اس سے بے نیاز نہیں کرتی
اِكْفِنِىْ مَا اَهَمَّنِىْ۔
مشکلوں میں میری مدد فرما۔
۹حضرت امام زین العابدینؑ سے منقول ہے کہ آپؑ اپنے فرزند سے فرماتے تھے کہ بیٹا اگر تم میں کسی پر کوئی مصیبت آجائے یا کوئی حادثہ پیش آ جائے تو پہلے مکمل وضو کرو اور دو رکعت یا چار رکعت نماز پڑھ کر اس طرح کہو:
يَا مَوْضِعَ كُلِّ شَكْوٰى
اے ہر فریاد کی منزل ،
وَ يَا سَامِعَ كُلِّ نَجْوٰى
ہر راز کے سننے والے،
وَ يَا شَاهِدَ كُلِّ مَلَاٍ
ہر جگہ پر حاضر،
وَ يَا عَالِمَ كُلِّ خَفِيَّةٍ
ہر مخفی بات کے جاننے والے،
وَ يَا دَافِعَ مَا يَشَاۤءُ مِنْ بَلِيَّةٍ
ہر بلا کو دفع کرنے والے ،
يَا خَلِيْلَ اِبْرَاهِيْمَ
ابراہیمؑ کے خلیل،
وَ يَا نَجِىَّ مُوْسٰى
موسیٰؑ کے دوست،
وَ يَا مُصْطَفِىَ مُحَمَّدٍ
پیغمبرؐ کے انتخاب کرنے والے۔
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ
درود و سلام ہو ان پر اور ان کی آل پر
اَدْعُوْكَ دُعَاۤءَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاقَتُهُ
میں تجھ سے ویسی دعا کرتا ہوں جیسے وہ انسان کرتا ہے جس کا فقر وفاقہ شدید ہو،
وَ قَلَّتْ وَ حِيْلَتُهُ
جس کی تدبیریں ختم ہوگئی ہوں ،
وَ ضَعُفَتْ قُوَّتُهُ
جس کی قوّت کمزور ہو،
دُعَاۤءَ الْغَرِيْبِ الْغَرِيْقِ الْمُضْطَرِّ
میری دعا ایسی ہے جیسے ایک انسان غریب ڈوبنے والا مضطر
الَّذِىْ لَايَجِدُ لِكَشْفِ مَا هُوَ فِيْهِ اِلَّا اَنْتَ
جو اپنے لیے تیرے علاوہ کوئی سہارا نہیں پاتا ۔
يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اے ارحم الراحمین میرے حال پر رحم فرما۔
یقیناً کوئی شخص اس دعا کو نہ پڑھے گا مگر یہ کہ خداوند عالم اس سے اس مصیبت کو دور کر دے گا انشاءاللہ۔
۱۰حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ ہم و غم دورکرنے کے لئے غسل کرو اور دو رکعت نماز پڑھ کر اس طرح کہو:
يَا فَارِجَ الْهَمِّ
اے ہم وغم کے
وَ يَا كَاشِفَ الْغَمِّ
دور کرنے والے ،
يَا رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَ رَحِيْمَهُمَا
اے دنیا و آخرت کے رحمن و رحیم
فَرِّجْ هَمِّىْ
میرے ہم وغم کو
وَاكْشِفْ غَمِّىْ
دور کر دے۔
يَاۤ اَللهُ الْوَاحِدُ
اے وہ جو ایک ہے،
الْاَحَدُ الصَّمَدُ
اکیلا ہے، بے نیاز ہے۔
الَّذِىْ لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ
نہ اس کا کوئی باپ ہے نہ بیٹا ہے
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ
اور نہ کوئی ہمسر ہے۔
اِعْصِمْنِىْ وَ طَهِّرْنِىْ
میری حفاظت فرما، مجھے پاکیزہ بنادے
وَ اذْهَبْ بِبَلِيَّتِىْ۔
اور مجھ سے بلاؤں کو دور کرے۔
اور آیۃ الکرسی اور معوذتینسورۂ قل اعوذ بربّ الفلق،قل اعوذ بربّ الناسپڑھے۔
۱۱روایت ہے کہ غم دور کرنے کے لئے سجدے میں سو ۱۰۰؍ مرتبہ کہے:
يَا حَىُّ يَا قَيُّوْمُ
اے زندہ، اے پائندہ
يَا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
اے کہ نہیں معبود سوائے تیرے،
بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ
تیری رحمت کے واسطے سے فریاد کرتا ہوں
فَاكْفِنِىْ مَا اَهَمَّنِىْ
پس مشکل میں میری مدد فرما
وَلَا تَكِلْنِىْ اِلٰى نَفْسِىْ۔
اور مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر۔
۱۲حضرت امام موسیٰ کاظمؑ سے منقول ہے کہ آپ نے سماعہ سے فرمایا کہ اے سماعہ جب تمہیں خداوند عالم سے کوئی حاجت ہو توکہو:
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ
اے معبود!
بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ عَلِيٍّ
میں تجھ سے محمدؐ و علیؑ کے حق کے ذریعے سوال کرتا ہوں
فَاِنَّ لَهُمَا عِنْدَكَ شَاْنًا مِنَ الشَّاْنِ
کہ تیرے حضور ان دونوں کا خاص مرتبہ اور بلند منزلت ہے
وَ قَدْرًا مِنَ الْقَدْرِ
پس ان کے اس مر تبے
فَبِحَقِّ ذٰلِكَ الْشَّاْنِ
اور ان کی منزلت کے
وَ بِحَقِّ ذٰلِكَ الْقَدْرِ
واسطے سے سوال کرتاہوں کہ
اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ اَنْ تَفْعَلْ۔
تو محمدؐ و آلؑ محمدؐ پر رحمت فرما اور یہ کہ میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما۔
اپنی حاجت بیان کرے۔
جب قیامت کا دن آئےگا تو کوئی بھی ملک مقرب یا پیغمبرؐ اور رسولؐ اور آزمودہ مومن ایسا نہ ہوگا جو محمدؐ اور علیؑ کا محتاج نہ ہو۔
شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ
شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ ابن ابی الحدید نے حضرت امیرالمومنینؑ سے نقل کیا ہے کہ آپؑ حضرت علیؑنے فرمایا کہ جب میں نے رسولؐ خدا سے یہ سوال کیا کہ آپؐ میرے لئے مغفرت کی دعا فرما دیں تو آپ ؐنے فرمایا کہ ضروردعا کروں گا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھ کر ہاتھ اٹھا کے یہ دعا کی۔ میں نے آپ کی دعا غور سے سنی کہ آپ کہہ رہے تھے:
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ عَلِيٍّ عِنْدَكَ اِغْفِرْ لِعَلِيٍّ۔
اے معبود! علیؑ کا واسطہ جو تیرے ہاں صاحب ِمقام ہیں ان کی خاطر مجھے بخش دے۔
میں نے عرض کی یا رسولؐ اللہ آپؑ نے کیا دعا کی ہے؟ فرمایا کہ کیا خداوند عالم کے نزدیک کوئی تم سے زیادہ محترم ہے جس کو میں اپنا واسطہ قرار دوں۔
مولّف کتاب شیخ عباسؒ فرماتے ہیں کہ پہلے باب میں سجدۂ شکر کی دعاؤں کے تذکرہ میں بعض دعائیں نقل کی گئی ہیں جو اس فصل سے مناسبت رکھتی ہیں۔