EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
عبد الرحمن بن سیابہ کی حکایت
شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ یہ دعا بہت بلند اور عالی مضامین پر مشتمل ہے اور عبدالرحمٰن بن سبابہ ہی وہ شخص ہیں جن کو حضرت امام جعفر صادقؑ ایک نافع وصیت فرمائی تھی جس کا یہاں نقل کر دینا مناسب ہے۔
واقعہ یوں ہے کہ عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ جب میرے والد سبابہ نے وفات پائی تو ان کے دوستوں میں سے ایک شخص نے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں باہر نکلا تو انھوں نے تعزیت پیش کی اور سوال کیا کہ تمہارے والد نے تمہارے لئے کوئی میراث چھوڑی؟ میں نے کہا نہیں۔ تو انھوں نے ایک تھیلی جس میں ایک ہزار درہم تھے مجھے دی اور کہا کہ اس کی اچھی طرح حفاظت کرنا اور اس سے کسبِ معاش کرنا۔ میں خوش ہو کر اپنی والدہ کے پاس گیا اور ان کو اس ماجرا سے باخبر کیا اور پھر شام کو اپنے والد کے ایک دوست کے پاس گیا کہ میرے لئے کوئی ذریعہ معاش تلاش کر دیں۔ انھوں نے میرے لئے سابری لباس خرید دیئے اور میں ایک دکان پرتجارت کرنے لگا۔
خداوند عالم نے مجھے اس پیشہ سے بہت زیادہ روزی عنایت فرما دی پھر جب حج کا وقت آیا تو میرے دل میں حج کا خیال پیداہوا۔ میں نے اپنی والدہ سے حج کے لئے جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو انھوں نے کہا کہ پہلے اس شخص کے ایک ہزار درہم واپس کرو۔ میں نے اس کے درہم لے جا کر اسے دے دیئے اور وہ بہت خوش ہوا جیسے کہ میں نے یہ مال اسے بخشا ہو اور کہا شاید تمہارے لئے یہ درہم کم تھے اگر تم چاہو تو اور دے دوں؟ میں نے کہامیرے دل میں حج سے مشرف ہونے کا خیال ہے لہٰذا میں نے چاہا کہ تمہارا مال تمہیں واپس کر دوں۔ اس کے بعد میں مکہ گیا ور تمام اعمال حج انجام دیئے اور مدینہ واپس آگیا اور کچھ لوگوں کے ساتھ امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک حضرت کی طرف سے ملاقات کی عام اجازت تھی۔
میں بھی لوگوں کے آخرین بیٹھ گیا کہ وہ میری جوانی کا دور تھا۔ لوگوں نے آپؑ سے سوالات کرنا شروع کئے اور آپؑ نے جوابات دےدیئے اور سب اٹھ کر چلے گئے۔ پھر مجمع کم ہو گیا تو حضرت نے میری طرف اشارہ فرمایا۔ میں آپؑ کے نزدیک گیا آپ نے فرمایا کہ کیا کوئی حاجت ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں آپؑ پر قربان۔ میں عبدالرحمٰن سبابہ کا فرزند ہوں۔ آپؑ نے والد کی احوال پرسی کی۔ میں نے عرض کی کہ وہ وفات کر گئے۔ آپ نے کلمہ انا اللہ پڑھا اور دعائے رحمت دی اور آپ کو اس خبر سے سخت تکلیف ہوئی۔ پھر فرمایا کہ کیا انھوں نے کوئی میراث چھوڑی ہے؟ میں نے عرض کی نہیں۔ فرمایا پھر تم کس طرح حج کرنے آئے ہو۔ میں نے اس شخص کا پورا قصہ بیان کیا جس نے مجھے ایک ہزار درہم دیئے تھے۔ حضرت نے مجھے قصہ پورا کرنے کا موقعہ نہیں دیا اور فرمایا کہ تم حج کرنے آئے ہو تو اس شخص کے ایک ہزار درہم کا کیا کیا؟ میں نے عرض کی کہ صاحبِ مال کو واپس کر دیئے۔ فرمایا کہ شاباش ۔ پھر آپ نے فرمایاکہ کیا تمہیں کوئی وصیت کروں؟ میں نے عرض کی کہ کیوں نہیں تو آپ نے فرمایا کہ ہمیشہ راست گوئی امانت داری کی پابندی کرو تا کہ تم لوگوں کے اموال میں ان کے شریک رہو۔
پھر آپ نے اپنی انگیوں کو ملا کر اشارہ کیا کہ اگر تمہاری بات صحیح ہو اور تم جھوٹ نہ بولو اور وعدہ خلافی نہ کرو اور جس وقت کا وعدہ کیا ہے اسی وقت صاحب مال کا مال واپس کرو اور لوگوں کا مال نہ کھاؤ تو تم ان سے جو بھی چاہو گے وہ تمہیں دے دیں گے اور تمہارے اندر جو امانت و صداقت ہے اس کی بنا پر تم لوگوں کے شریک ہو جاؤ گے۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت کی یہ وصیت محفوظ کر لی اور اسی پر عمل کیا جس سے مجھے اتنی دولت ملی کہ میں نے تین لاکھ درہم کے زکوٰۃ دی اور دوسری روایت میں ہے کہ یہ حضرت علی بن الحسینؑ کی دعا ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے:
اٰمِيْنَ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ۔
ایسا ہی ہو اے جہانوں کے پروردگار
۲۸ابن محبوب سے روایت ہے کہ حضرت امام صادقؑ نے یہ دعا ایک شخص کو تعلیم دی تھی کہ وہ اسے پڑھا کرے:
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَسْئَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِىْ لَاتُنَالُ مِنْكَ اِلَّا بِرِضَاكَ وَالْخُرُوْجَ مِنْ جَمِيْعِ مَعَاصِيْكَ وَالدُّخُوْلَ فِىْ كُلِّ مَا يُرْضِيْكَ وَالنَّجَاةَ مِنْ كُلِّ وَرْطَةٍ وَالْمَخْرَجَ مِنْ كُلِّ كَبِيْرَةٍ اَتٰى بِهَا مِنِّىْ عَمْدٌ اَوْ زَلَّ بِهَا مِنِّىْ خَطَاٌ اَوْ خَطَرَ بِهَا عَلَىَّ خَطَرَاتُ الشَّيْطَانِ اَسْئَلُكَ خَوْفًا تُوْقِفُنِىْ بِهِ عَلٰى حُدُوْدِ رِضَاكَ وَ تَشَعَّبَ بِهِ عَنِّىْ كُلُّ شَهْوَةٍ خَطَرَ بِهَا هَوَاىَ وَاسْتُزِلَّ بِهَا رَاْيِىْ لِيُجَاوِزَ حَدَّ حَلَالِكَ اَسْئَلُكَ اَللّٰهُمَّ الْاَخْذَ بِاَحْسَنِ مَا تَعْلَمُ وَ تَرْكَ سَيِّئِ كُلِّ مَا تَعْلَمُ اَوْ اُخْطِئُ مِنْ حَيْثُ لَا اَعْلَمُ اَوْمِنْ حَيْثُ اَعْلَمُ اَسْئَلُكَ السَّعَةَ فِى الرِّزْقِ، وَالزُّهْدَ فِى الْكَفَافِ وَالْمَخْرَجَ
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتاہوں تیری رحمت کا جس تک سوائے تیری رضاکے پہنچ نہیں سکتا تیری ہر طرح کی نافرمانی سے باہر نکلنے کا سوال ہر اس کام میں داخل ہونے کا جس میں تیری رضا ہے ہر گردش سے چھٹکارے کا ہر کبیرہ گناہ سے بچاؤ کے راستےکا جو میں نے دانستہ کیااور جو میری بھول چوک سے ہوا شیطانی خیالوں نے مجھے اس کے کرنے پر آمادہ کیا تجھ سے سوال کرتا ہوں ایسے خوف کا جس کے ذریعے میں رضاؤں تک پہنچ پاؤں ہر اس نفسانی خواہش کے دور کرنے کا جس کی ہوس میرے دل میں آئے جس سے میری عقل ہل جائے اور تیرے حلال کی حد سے باہر نکل پڑوں سوال کرتا ہوں اے معبود! وہ اچھائی اختیار کرنے کا اور اس برائی کو چھوڑنے کا جن کو تو جانتا ہے یا ایسی خطا جوانجانے میں کروں یاجانتے بوجھتے ہوئے کروں سوال کرتا ہوں رزق میں کشادگی کا کافی و وافی معاش میں قناعت کا ہر شبھے سے واضح طور پر نکلنے کا ہر دلیل میں درستی کا لحاظ رکھنے کا ہر موقع و محل میں سچی بات کہنے کا لوگوں کے ساتھ انصاف کا خواہ وہ میرے خلاف اور میرے حق میں ہو انصاف بہم پہچانے میں ا نکساری کا خواہ وہ غصے کا عالَم ہویا خوشی کی کیفیت ہو اور سر کشی کو ترک کرنے کا وہ کم ہو یا زیادہ اورمیرے قول میں ہو یا فعل میں سب چیزوں میں تیری نعمتوں کے تمام ہونے کا ان پر تیرا شکر کرنے کا تجھے راضی کرنے اور تیرے راضی ہونے کے بعد بھی تجھ سے سوال کرتا ہوں بھلائی کا ہر چیز میں کہ جس میں بھلائی ہوتی ہے۔ سب امور میں آسانی کے ساتھ نہ مشکل کے ساتھ اے سخی اے سخی اے سخی میرے لئے ہر اس امر کا دروازہ کھول دے جس میں سلامتی اور کشائش وآسائش ہوتی ہے میرے لئے اس کا دروازہ کھول اور گزرنا سہل بنا دے تو نے اپنی مخلوق میں سے جس کے لئے مجھ پر غلبہ مقرر کر رکھا ہے۔ پس میری طرف سے تو اس کے کان آنکھ زبان اور ہاتھ پکڑلے اور اسے پکڑ لے اس کے دائیں سے بائیں سے اس کے پیچھے سے اور اس کے آگے سے اسے روک دے کہ مجھے کوئی دکھ نہ دینے پائے تیری پناہ والا بلند ہے اور تیری ذات کی تعریف ظاہر ہے نہیں کوئی معبود سوائے تیرے تو میرا رب اور میں تیرا بندہ ہوں اے معبود! توہی میری امید گاہ ہے ہر سختی و مشکل میں تو ہی ہر کڑے وقت میں میرا سہارا ہے جو بھی معاملہ مجھے پیش آئے تو اس میں میرا آسرا اور پونجی ہےپس کتنے ہی دکھ ہیں جن میں دل کمزور پڑ جاتا ہے تدبیریں ناکام ہوجاتی ہیں دشمن اس پر خوش ہوتے ہیں وسائل کچھ کام نہیں دیتے میں تیرے پاس آیا اورتجھ سے شکایت کرتاہوں ان تکلیفوں میں تیرے سوا کسی سے فریا د نہیں کرتا تو تکلیفیں دور کرتا اوران کی جزا دیتا ہے پس تو ہی ہر نعمت دیتا ہے تو ہی ہر حاجت بر لاتا ہے اور ہر شوق کا آخری مقام ہے ہاں حمد ہے تیرے لئے بہت زیادہ اور تیرا ہی احسان بیشتر ہے ۔
بِالْبَيَانِ مِنْ كُلِّ شُبْهَةٍ وَالصَّوَابَ فِىْ كُلِّ حُجَّةٍ وَالصِّدْقَ فِىْ جَمِيْعِ الْمَوَاطِنِ وَ اِنْصَافَ النَّاسِ مِنْ نَفْسِىْ فِيْمَا عَلَىَّ وَلِىَ وَالتَّذَلُّلَ فِىْۤ اِعْطَاۤءِ النَّصَفِ مِنْ جَمِيْعِ مَوَاطِنِ السَّخَطِ وَ الرِّضَا وَ تَرْكَ قَلِيْلِ الْبَغْىِ وَ كَثِيْرِهِ فِى الْقَوْلِ مِنِّىْ وَالْفِعْلِ وَ تَمَامَ نِعَمِكَ فِىْ جَمِيْعِ الْاَشْيَاۤءِ وَ الشُّكْرَ لَكَ عَلَيْهَا لِكَىْ تَرْضَا وَ بَعْدَ الرِّضَا وَ اَسْئَلُكَ الْخِيَرَةَ فِىْ كُلِّ مَا يَكُوْنُ فِيْهِ الْخِيَرَةُ بِمَيْسُوْرِ الْاُمُوْرِ كُلِّهَا لَا بِمَعْسُوْرِهَا يَا كَرِيْمُ يَا كَرِيْمُ يَا كَرِيْمُ وَافْتَحْ لِىْ بَابَ الْاَمْرِ الَّذِىْ فِيْهِ الْعَافِيَةُ وَالْفَرَجُ وَافْتَحْ لِىْ بَابَهُ، وَ يَسِّرْلِىْ مَخْرَجَهُ وَ مَنْ
قَدَّرْتَ لَهُ عَلَىَّ مَقْدُوْرَةً مِنْ خَلْقِكَ فَخُذْ عَنِّىْ بِسَمْعِهِ وَ بَصَرِهِ وَ لِسَانِهِ وَ يَدِهِ وَ خُذْهُ عَنْ يَمِيْنِهِ وَ عَنْ يَسَارِهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ وَ مِنْ قُدَّامِهِ وَامْنَعْهُ اَنْ يَصِلَ اِلَىَّ بِسُوْۤءٍ عَزَّ جَارُكَ وَ جَلَّ ثَنَاۤءُ وَجْهِكَ وَ لَاۤ اِلٰهَ غَيْرُكَ اَنْتَ رَبِّىْ وَ اَنَا عَبْدُكَ اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَجَاۤئِىْ فِىْ كُلِّ كُرْبَةٍ وَ اَنْتَ ثِقَتِىْ فِىْ كُلِّ شِدَّةٍ وَ اَنْتَ لِىْ فِىْ كُلِّ اَمْرٍ نَزَلَ بِىْ ثِقَةٌ وَ عُدَّةٌ فَكَمْ مِنْ كَرْبٍ يَضْعُفُ عَنْهُ الْفُؤَ ادُ وَ تَقِلُّ فِيْهِ الْحِيْلَةُ وَ يَشْمَتُ بِهِ الْعَدُوُّ وَ تَعْيٰى فِيْهِ الْاُمُوْرُ اَنْزَلْتُهُ بِكَ وَ شَكَوْتُهُ اِلَيْكَ رَاغِبًا اِلَيْكَ فِيْهِ عَمَّنْ سِوَاكَ قَدْ فَرَّجْتَهُ وَ كَفَيْتَهُ فَاَنْتَ وَلِىُّ كُلِّ نِعْمَةٍ وَ صَاحِبُ كُلِّ حَاجَةٍ وَ مُنْتَهٰى كُلِّ رَغْبَةٍ فَلَكَ الْحَمْدُ كَثِيْرًا وَ لَكَ الْمَنُّ فَاضِلًا
۲۹معتبر سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت امام صادقؑ نے یہ دعا ابوبصیر کو تعلیم دی تھی اور انھیں ہدایت کی کہ اسے پڑھا کریں:
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَسْئَلُكَ قَوْلَ التَّوَّابِيْنَ وَ عَمَلَهُمْ وَ نُوْرَ الْاَنْبِيَاۤءِ وَ صِدْقَهُمْ وَ نَجَاةَ الْمُجَاهِدِيْنَ وَ ثَوَابَهُمْ وَ شُكْرَ الْمُصْطَفَيْنَ وَ نَصِيْحَتَهُمْ وَ عَمَلَ الذَّاكِرِيْنَ وَ يَقِيْنَهُمْ وَ اِيْمَانَ الْعُلَمَاۤءِ وَفِقْهَهُمْ وَ تَعَبُّدَ الْخَاشِعِيْنَ وَ تَوَاضُعَهُمْ وَ حُكْمَ الْفُقَهَاۤءِ وَ سِيْرَتَهُمْ وَ خَشْيَةَ الْمُتَّقِيْنَ وَ رَغْبَتَهُمْ وَ تَصْدِيْقَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ تَوَكُّلَهُمْ وَ رَجَاۤءَ الْمُحْسِنِيْنَ وَ بِرَّهُمْ اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَسْئَلُكَ ثَوَابَ الشَّاكِرِيْنَ وَ مَنْزِلَةَ الْمُقَرَّبِيْنَ وَ مُرَافَقَةَ النَّبِيِّيْنَ اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَسْئَلُكَ خَوْفَ الْعَامِلِيْنَ لَكَ وَ عَمَلَ الْخَاۤئِفِيْنَ مِنْكَ وَ خُشُوْعَ الْعَابِدِيْنَ لَكَ وَ يَقِيْنَ الْمُتَوَكِّلِيْنَ عَلَيْكَ وَ
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں توبہ کرنے والے کے قول و عمل کانبیوں کی ہدایت اور ان کی سچائی کا مجاہدین جیسی نجات اور اجر و ثواب کا برگزیدوں جیسے شکر اور خیر خواہی کا تیرا ذکر کرنے والوں جیسے عمل اور یقین کا علما جیسے ایمان اور ان جیسی سمجھ کا تجھ سے ڈرنے والوں جیسی عبادت اور فروتنی کا فقیہوں جیسا حکم لگانے اور ان کی سیرت اپنانے کا پر ہیزگاروں جیسے خوف اور ان جیسے شوق کا مومنوں جیسی تصدیق اور ان جیسے توکل کا نیکو کاروں جیسی امید اور ان جیسی نیکیوں کا اے معبود !میں سوال کرتا ہوں شکر کرنے والوں جیسے ثواب کا مقربوں جیسی عز ت کااور نبیوں کی ہمسائیگی اور رفاقت کا۔ اے معبود !میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تجھ سے ڈرنے والوں جیسے خوف کا تجھ سے خوف رکھنے والوں جیسے عمل کا تیری عبادت کرنے والوں جیسے خشوع و خضوع کا تجھ پر بھروسا کرنے والوں جیسے یقین کا اور تجھ پر ایمان رکھنے والوں جیسے بھروسے کا اے معبود! تو میری حاجتوں کو جانتا ہے کہ بتانے کی ضرورت نہیں تو انہیں بر لانے کا اہل ہے بغیر دشواری کے تو وہی ہے جسے کوئی سائل تھکا نہیں سکتا کوئی لینے والا کمی پیدا نہیں کر سکتا تعریف کرنے والوں کی زبانیں تیری تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتیں تو ویسا ہےجو تو نے کہا اور اس سے بلند ہے جو ہم کہتے ہیں اے معبود! میرے لئے قرار دے جلد تر کشائش وآسائش بہت بڑا اجرو ثواب اور میری بہتر پردہ پوشی فرما اے معبود !یقیناً تو جانتا ہے کہ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اس میں حد سے بڑھ گیا تو بھی نہ میں نے کسی کو تیرا مقابل بنایا نہ شریک ٹھہرایا نہ تیرے لئے بیوی قرار دی نہ اولاد اے وہ جسےسوالات مغالطے میں نہیں ڈالتے اے وہ جسے ایک چیز دوسری چیزسے غافل نہیں کرتی ایک آواز دوسری آواز میں رکاوٹ نہیں بنتی ایک کو دیکھنا دوسرے سے با ز نہیں کرتا اور فریادیوں کی فریادیں پریشان نہیں کرتیں۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اسی ساعت میں مجھےکشائش وآسائش عطا فرما جہاں سے توقع رکھتا ہوں اور جہاں سے توقع نہیں رکھتا ہوں بے شک تو ہی ہڈیوں کو زندہ کرتا ہے جو بوسیدہ ہوں کیوں کہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے وہ جس کے لئے میرا شکر کم ہے تو بھی مجھے محروم نہیں کرتا میں بڑے بڑے گناہ کرتا ہوں تو بھی مجھے رسوا نہیں کرتا مجھے حالتِ گناہ میں دیکھتا ہے تو بھی منہ پرنہیں مارتا اس نے مجھے پیدا کیا تو اپنے لئے پیدا کیا لیکن میں نے وہ کام کیا جس کے لیے اس نے مجھے پیدا نہیں کیا پس تو کتنا اچھا مالک ہے اے میرے آقا اور میں کیسا برا بندہ ہوں جیسا کہ تو مجھے پاتا ہے تو کیا ہی اچھا طلب کرنے والا ہے۔ میرے رب اورمیں کیسا برا مطلوب ہوں تو نے مجھے دیکھا پس میں تیرا بندہ تیرے بندے کا بیٹا اور تیری کنیز کا بیٹا تیرے سامنے حاضر ہوں تو میرے ساتھ جو چاہے کرسکتا ہے اے معبود! آوازیں خاموش ہو چکی ہیں حرکتیں رک گئیں ہیں ہر دوست اپنے دوست سے خلوت کررہا ہے اور میں تیرے ساتھ خلوت میں ہوں کہ تو ہی میرا محبوب ہے پس آج رات کی خلوت میں میری گردن آتشِ جہنم سے آزاد کر دے اے وہ کہ کوئی عالم جس کی صفت بیان نہیں کر سکتا اے وہ جس کے سوا مخلوق کو روکنے والا کوئی نہیں اے اول جو ہر چیز سے پہلے موجود تھا اورآخر جو ہر چیز کے بعد رہے گا۔ اےوہ جس کے لیے کوئی مادہ موجود نہ تھا اے وہ جس کے لئے آخر میں کوئی فنا نہیں اے کامل ترین صفت شدہ اور اے عطا کرنے والوں میں زیادہ سخی اے وہ جو ہر زبان کو سمجھتا ہے جس کے ذریعے بھی پکارا جائے اے وہ جس کی بخشش قدیم ہے گرفت بڑی سخت ہے اور حکومت محکم و پائدار ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اس نام پر جس کے ذریعے موسیٰؑ نے تجھ سے کلام کیا یا اللہ یا رحمٰن یا رحیم اے وہ کہ نہیں کوئی معبود سوائے تیرے اے معبود!تو بے نیاز ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ درود بھیج محمدؐو آلؑ محمدؐ پر اور اپنی رحمت سے مجھے جنت میں داخل فرما ۔
تَوَكُّلَ الْمُؤْمِنِيْنَ بِكَ اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ بِحَاجَتِىْ عَالِمٌ غَيْرُ مُعَلَّمٍ وَ اَنْتَ لَهَا وَاسِعٌ غَيْرُ مُتَكَّلِفٍ وَ اَنْتَ الَّذِىْ لَايُحْفِيْكَ سَاۤئِلٌ وَلَايَنْقُصُكَ نَاۤئِلٌ وَلَا يَبْلُغُ مِدْحَتَكَ قَوْلُ قَاۤئِلٍ اَنْتَ كَمَا تَقُوْلُ وَ فَوْقَ مَا نَقُوْلُ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِىْ فَرَجًا قَرِيْبًا وَ اَجْرًا عَظِيْمًا وَ سَتْرًا جَمِيْلًا، اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ تَعْلَمُ اَنِّىْ عَلٰى ظُلْمِىْ لِنَفْسِىْ وَاِسْرَافِىْ عَلَيْهَا لَمْ اَتَّخِذْ لَكَ ضِدًّا وَلَا نِدًّا وَلَا صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا يَا مَنْ لَا تُغَلِّطُهُ الْمَسَاۤئِلُ وَيَا مَنْ لَايَشْغَلُهُ شَىْءٌ عَنْ شَىْءٍ وَلَاسَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ وَلَابَصَرٌ عَنْ بَصَرٍ وَلَايُبْرِمُهُ اِلْحَاحُ الْمُلِحِّيْنَ اَسْئَلُكَ اَنْ تُفَرِّجَ عَنِّىْ فِىْ سَاعَتِىْ هٰذِهِ مِنْ حَيْثُ اَحْتَسِبُ وَ مِنْ حَيْثُ لَاۤ اَحْتَسِبُ اِنَّكَ تُحْيِى الْعِظَامَ وَ هِىَ رَمِيْمٌ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّشَىْءٍ قَدِيْرٌ يَا مَنْ قَلَّ شُكْرٰى لَہُ فَلَمْ يَحْرِمْنِىْ وَ عَظُمَتْ خَطِيْۤئَتِىْ فَلَمْ يَفْضَحْنِىْ وَ رَانِىْ عَلَى الْمَعَاصِىْ
فَلَمْ يَجْبَهْنِىْ وَ خَلَقَنِىْ لِلَّذِىْ خَلَقَنِىْ لَهُ فَصَنَعْتُ غَيْرَ الَّذِىْ خَلَقَنِىْ لَهُ فَنِعْمَ الْمَوْلٰۤى اَنْتَ يَا سَيِّدِىْ وَ بِئْسَ الْعَبْدُ اَنَا وَجَدْتَنِىْ وَ نِعْمَ الطَّالِبُ اَنْتَ رَبِّىْ وَ بِئْسَ الْمَطْلُوْبُ اَلْفَيْتَنِىْ عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ اَمَتِكَ بَيْنَ يَدَيْكَ مَا شِئْتَ صَنَعْتَ بِىْ، اَللّٰهُمَّ هَدَاَتِ الْاَصْوَاتُ وَ سَكَنَتِ الحَرَكَاتُ وَ خَلَا كُلُّ حَبِيْبٍ بِحَبِيْبِهِ وَ خَلَوْتُ بِكَ اَنْتَ الْمَحْبُوْبُ اِلَىَّ فَاجْعَلْ خَلْوَتِىْ مِنْكَ اللَّيْلَةَ الْعِتْقَ مِنَ النَّارِ يَا مَنْ لَيْسَتْ لِعَالِمٍ فَوْقَهُ صِفَةٌ يَا مَنْ لَيْسَ لِمَخْلُوْقٍ دُوْنَهُ مَنَعَةٌ يَاۤ اَوَّلُ قَبْلَ كُلِّشَىْءٍ وَ يَاۤ اٰخِرًا بَعْدَ كُلِّ شَىْءٍ يَا مَنْ لَيْسَ لَهُ عُنْصُرٌ وَ يَا مَنْ لَيْسَ لِاٰخِرِهِ فَنَاۤءٌ وَ يَاۤ اَكْمَلَ مَنْعُوْتٍ وَ يَاۤ اَسْمَحَ الْمُعْطِيْنَ وَ يَا مَنْ يَفْقَهُ بِكُلِّ لُغَةٍ يُدْعٰى بِهَا وَ يَا مَنْ عَفْوُهُ قَدِيْمٌ وَ بَطْشُهُ شَدِيْدٌ وَ مُلْكُهُ مُسْتَقِيْمٌ اَسْئَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِىْ شَافَهْتَ بِهِ مُوْسٰى يَاۤ اَللهُ يَا رَحْمٰنُ يَا رَحِيْمُ يَا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّمَدُ اَسْئَلُكَ اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ اَنْ تُدْخِلَنِى الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ
۳۰یونس سے روایت ہے کہ میں نے حضرت امام رضاؑ سے عرض کی کہ مجھے کوئی چھوٹی دعا تعلیم فرمائیں تو آپ نے فرمایا کہو:
يَا مَنْ دَلَّنِىْ عَلٰى نَفْسَهٖ
اے وہ جس نے اپنی طرف میری رہنمائی فرمائی
وَ ذَلَّلَ قَلْبِىْ بِتَصْدِيْقِهٖ
جس کی تصدیق سے میرا دل رام ہوا
اَسْاَلُكَ الْاَمْنَ وَ الْاِيْمَانَ۔
تجھ سے سوال کرتا ہوں امن و ایمان کا۔