EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
فضیلت دعائے مکنون
۱۷ابن بابویہؒ اور شیخ طوسیؒ وغیرہ نے معتبر سندوں کے ساتھ حضرت امیر المومنینؑ سے روایت کی ہے کہ جو شخص دنیا سے اس حالت میں جانا چاہتا ہے کہ وہ گناہوں سے بالکل اس طرح پاک ہو جیسے خالص سونا۔ اور اس سے روز قیامت کسی بھی گناہ کے بارے میں سوال نہ کیا جائے تو اسے چاہیئے کےنماز پنجگانہ کے بعد دس بارسورۂ قُل ھواللہُ کی تلاوت کرے اور پھر آسمان کی طرف اپنے ہاتھ بلند کر کے یہ دعا پڑھے۔پھر حضرت نے فرمایا کہ یہ دعا پوشیدہ رازوں میں سے ہے جس کی تعلیم مجھے رسولؐ اکرم نے دی ہے اور مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں حسنؑ و حسینؑ کو اس کی تعلیم دوں۔
اَللّٰهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ بِاسْمِكَ الْمَكْنُوْنِ الْمَخْزُوْنِ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اس پوشیدہ نام کے سہارے جو خزانۂ قدرت میں ہے،
الطَّاهِرِ الطُّهْرِ الْمُبَارَكِ
پاک و پاکیزہ ہے، بابرکت ہے۔
وَاَسْئَلُكَ بِاسْمِكَ الْعَظِيْمِ
میرا سوال تیرے عظیم نام،
وَسُلْطَانِكَ الْقَدِيْمِ
تیری قدیم سلطنت کے سہارے ہے
يَا وَاهِبَ الْعَطَايَا
اے عاصیوں کو عطا کرنے والے،
يَا مُطْلِقَ الْاُسَارٰى
قیدیوں کو آزاد کرنے والے،
يَا فَكَّاكَ الرِّقَابِ مِنَ النَّارِ
آتشِ جہنّم سے رہائی عطا کرنے والے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما۔
وَفُكَّ رَقَبَتِىْ مِنَ النّارِ
ہماری گردن کو آتشِ جہنّم سے آزاد کردے۔
وَاَخْرِجْنِىْ مِنَ الدُّنْيَا سَالِمَا
ہمیں دنیا سے امن و امان کے ساتھ اٹھانا
وَاَدْخِلْنِى الْجَنَّةَ اٰمِنَا
اور جنّت میں صحت و سلامتی کے ساتھ داخل کردینا۔
وَاجْعَلْ دُعاۤئِىْ اَوَّلَهُ فَلَاحًا
ہماری دعا کی ابتدا فلاح کو
وَاَوْسَطَهُ نَجَاحًا
اور درمیانی حصّہ کامیابی کو
وَاٰخِرَهُ صَلَاحًا
اور آخری حصّہ صلاح کو قرار دے دے۔
اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ۔
تو تمام غیب کا جاننے والا ہے۔
بعض معتبر کتابوں میں یہ دعا یوں ذکر کی گئی ہے۔
يَا فَكَّاكَ الرِّقَابِ مِنَ النَّارِ
اے گردنوں کے جہنّم سے آزاد کرنے والے
اَسْئَلُكَ اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ
میرا سوال یہ ہے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَاَنْ تُعْتِقَ رَقَبَتِىْ مِنَ النَّارِ
اور میری گردن کو آتشِ جہنّم سے آزاد کردے۔
وَاَنْ تُخْرِجَنِىْ مِنَ الدُّنْيَا سَالِمًا
مجھے دنیا سے صحیح و سالم اُٹھانا
وَتُدْخِلَنِى الْجَنَّةَ اٰمِنًا
اور جنّت میں امن و امان کے ساتھ داخل کردینا۔
وَاَنْ تَجْعَلَ دُعاۤئِىْ اَوَّلَهُ فَلَاحًا
ہماری ابتدا کو فلاح
وَاَوْسَطَهُ نَجَاحًا
اور درمیانی
وَاٰخِرَهُ صَلَاحًا
اور آخر کو صلاح قرار دے دے۔
اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ۔
کہ تو ہی ہر غیب کا جاننے والا ہے۔