موت کی آداب اور اس سے متعلق چند دعائیں
موت کے متعلق بعض آداب اور دعاؤں کے بارے میں
واضح رہے کہ جب کسی پر آثارِ موت ظاہر ہوں تو پہلے وہ شخص جو اپنے حالات میں مشغول ہو وہ خود سفرِ آخرت کے لئے تیار ہو اور اس سفر کے لئے توشۂ تیار کرے اور پہلی بات جس کا اقرار ضروری ہے وہ یہ ہے کہ گناہ کا اعتراف اور غلطی کا اقرار اور اس پر ندامت اور مکمل توبہ کرے اور خدا کی بارگاہ میں تضرع اور زاری کرتا رہے گناہوں سے کہ وہ اسے بخش دے اور اس کے حالات اور خوف سے محفوظ رکھے، پھر وصیت کی طرف توجہ کرے اور خدا اور مخلوق کے حقوق ادا کرے اور دوسروں پر نہ چھوڑے کیوں کہ موت کے بعد اپنے ہاتھ سے اختیار نکل جاتا ہے۔
ایسا نہ ہو شیطان جن و انس وسوسہ کریں اس کے وصی اور وارث کو اور روکیں کہ اس کی ذمہ داری رہ جائے اور اس کے لئے تدبیر نہ ہو اور کہے کہ مجھ کو اتنا موقع دو کہ میں اپنے مال میں نیک عمل انجام دے سکوں اور اس سے نہ سنیں اور حست و ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہو۔
پھر ایک تہائی اپنا مال عزیزوں کے لئے صدقہ کرے اور جو بھی اپنی حالت کے لئے مناسب سمجھے وصیت کرے کیوں کہ ایک تہائی سے زیادہ کا حق نہیں رکھتا ہے پھر برادرانِ ایمانی سے برائت ذمہ طلب کرے اور کسی کی غیبت کی ہو یا توہین یا تکلیف دی ہو اورموجود ہوں تو ان کے حلال کرنے کی گذارش کرے اور اگر موجود نہ ہوں تو برادرانِ ایمانی سے التجا کرے کہ یہ برائت ذہ کرائیں۔
پھر اپنے عیال و اطفال کے امور کو خدا پر توکل کے علاوہ کسی امانتدار پر بھی چھوڑ دے اور اپنی نابالغ اولاد کے لئے وصی معین کرے۔ پھر اپنے کفن کو مہیا کرے اور شہادتیں، عقائد، اذکار، ادعیہ، آیتیں جو طولانی کتابوں میں ہیں، جن کی اس رسالہ میں گنجائش نہیں ہے۔
خاکِ شفا امام حسینؑ سے لکھنے کی تاکید کرے کفن پر اور یہ اسی صورت میں ہے کہ پہلے سے غافل رہا ہو اور کفن کو تیار نہ کیا ہو ورنہ مومن کو چاہیئے کہ ہمیشہ اپنا کفن تیار رکھے اور اپنے پاس موجود رکھے جیسا کہ امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جس کاکفن اس کے گھر میں ہو اس کو غافلوں میں نہیں لکھتے ہیں اور جب بھی اس کفن کو دیکھے گا تو ثواب پائے گا اور اس کے بعد عورت اولاد اور مال کی فکر میں نہ پڑے گا اور خدا کی جانب متوجہ رہے، اس کی یاد میں رہے اور غور کرے کہ یہ فانی امور کم نہ آئیں گے اور سوائے خدا کے لطف اورمرحمت کے دنیا و آخرت میں کوئی فریاد کو نہ پہنچے گا اور جب خداوند عالم پر توکل کرے گا تو اس کے امور بہترین طریقہ سے انجام پائیں گے ۔
اور جان لے کہ اگر باقی رہے گا تو بغیر خدا کی مشیت کے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور اس سے نقصان کو دور نہیں کر سکتا اور وہ خدا جس نے انھیں پیدا کیا ہے وہ سب سے زیادہ مہربان ہے اور اس حال میں امید کو لگانا چاہیئے اور خدا کی رحمت کی زیادہ امید رکھنا چاہیئے اور رسولؐ خدا اور آئمہ معصومینؑ کی شفاعت کی زیادہ امید رکھنا چاہیئے اور ان کے آنے کا منتظر رہے اور جان لو یہ حضرات اس وقت موجود رہتے ہیں اور ملک الموت سے سفارش کرتے ہیں۔
شیخ طوسیؒ نے مصباح متہجّد میں فرمایا کہ مستحب ہے انسان کے لئے وصیت کرنا اور اس میں خلل کرنا کہ روایت ہے کہ آدمی کے لئے مناسب ہے کہ رات نہ آئے مگر یہ کہ وصیت نامہ اس کے سرہانے موجود ہواور تاکید کی گئی ہے مرض کی حالت میں اور اپنے کو ان حقوق سے جو اس کےکہ رات نہ آئے مگر یہ کہ وصیت نامہ اس کے سرہانے موجود ہواور تاکید کی گئی ہے مرض کی حالت میں اور اپنے کو ان حقوق سے جو اس کے اور خدا کے درمیان ہوں آزاد کرائے اور بندوں کے حقوق سے بھی۔