EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
نمازِ میّت
علامہ مجلسیؒ نے زادلمعاد میں باب نمازِ میت میں فرمایا ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ نماز تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔
جنھیں کسی شخص کے مرنے کی اطلاع مل جائے اور اگر ان میں سے کوئی ایک بجا لائے تو دوسروں سے ساقط ہو جائے گی اور نماز واجب ہے شیعہ اثنا عشری بالغ پر بغیر کسی اختلاف کے اور اشہرو اقویٰ یہ ہے کہ جو بچہ چھ ماہ کا مکمل ہو چکا ہو اس پر بھی نماز واجب ہے۔
اور بظاہر ہر قصد قربت پر اکتفا کر نا چاہیئے اور چھ مہینہ سے کم والا اگر زندہ پیدا ہوا ہو تو بعض علماء مستحب کہتے ہیں اور بعض بدعت۔
اور احتیاط نماز نہ پڑھنے میں ہے اور نمازِ میت کے لئے مناسب ترین شخص اس کا وارث ہے۔
مشہور کی بنا پر اور شوہر اپنی زوجہ پر نماز کے لئے اولیٰ ہے واجب ہے نماز پڑھنے والا روبقبلہ ہو اور میت کا سر اس کے داہنی جانب ہو اورمیت پیٹھ کے بل لیٹی ہو۔ اس نماز میں طہارت کی شرط نہیں ہے۔ مجنب، حائض اور بغیر وضو والا بھی اس نماز کو ادا کر سکتا ہے۔ مستحب ہے کہ باوضو ہو اور اگر پانی نہ مل سکے یا کوئیمانع ہو یا وقت تنگ ہو تو مستحب ہے کہ تیمم کرے اور بعض حدیثوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغیر عذربھی تیمم کر سکتے ہیں اور مستحب ہے کہ امام جماعت مرد کی میت کے لئے کمر کے پاس اور عورت کی میت کے لئے اس کے سینہ کے مقابل کھڑا ہو اور مستحب ہے کہ جوتیاں نکال دے۔
واجب ہے نماز کی نیت کرنا اور پانچ تکبیرکہنا مستحب ہے کہ ہر تکبیر میں ہاتھوں کو اٹھانئے کانوں تک۔ پہلی تکبیر کے بعد پڑھے:
اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
میں گواہ ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اﷲ
وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ۔
اور میں گواہ ہوں کہ محمدؐ ﷲ کے رسولؐ ہیں۔
دوسری تکبیرکے بعد کہے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔
خدایا رحمت نازل فرما محمدؐ و آل محمدؐ پر
تیسری تکبیر کے بعد کہے
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ۔
اے معبود! بخش دے مومنین اور مومنات کو۔
اور چوتھی تکبیر کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِهٰذَا الْمَيِّتِ۔
اے معبود! بخش دے اس میت کو۔
اور پانچویں تکبیر کہہ کر نماز تمام کر دے یہی کافی ہے۔
اور مشہور کے مطابق بہتر یہ ہے کہ نیت کے بعد یہ کہے:
اَللهُ اَكْبَرُ
خدا بزرگ تر ہے۔
اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِللّٰهُ
میں گواہ ہوں کہ نہیں ہے معبود مگر ﷲ
وَحْدَهُ لَاشَرِيْكَ لَهُ
جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں
وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ
اور میں گواہ ہوں کہ محمدؐ اس کے بندے اور رسولؐ ہیں،
اَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا
ﷲ نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا، وہ تا قیامت خوش خبری دینے
بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ۔
اور ڈرانے والے ہیں ۔
پھر کہے:
اَللّٰهُ اَكْبَرُ
خدا بزرگ تر ہے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا رحمت نازل کر محمدؐ و آل محمدؐ پر
وَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
برکت عطا فرما محمدؐ و آل محمدؐ پر
وَّارْحَمْ مُحَمَّدًا وَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ
رحم کر محمدؐ و آل محمدؐ پر
كَاَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ وَ بَارَكْتَ وَ تَرَحَّمْتَ
اس سے کہیں زیادہ بہتر صلوات اور برکت و رحمت
عَلٰى اِبْرَهِيْمَ وَ اٰلِ اِبْرَهيْمَ
جو تو نے ابراہیمؑ اور آلِ ابراہیمؑ پر نازل کی ہے
اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ
تو قابلِ تعریف اور بزرگ ہے۔
وَ صَلِّ عَلٰى جَمِيْعِ الْاَنْبِيَاۤءِ وَالْمُرْسَلِيْنَ۔
خدایا رحمت نازل فرما تمام انبیاء و مرسلین پر۔
پھر کہے:
اَللهُ اَكْبَرُ
خدا بزرگ تر ہے۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
پروردگار مغفرت فرما تمام مومنین و مومنات کی
وَالْمُسْلِميْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ
اور تمام مسلمین و مسلمات کی
اَلْاَحْيَاۤءِ مِنْهُمْ وَالْاَمْوَاتِ
چاہے زندہ ہوں یا مرگئے ہوں۔
تَابِعْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُمْ بِالْخَيْرَاتِ
ہمارے ان کے درمیان نیکیوں کا تسلسل قائم کردے۔
اِنَّكَ مُجِيْبُ الدَّعَوَاتِ
تو دعاؤں کا سننے والا ہے
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّشَيْئٍ قَدِيْرٌ۔
اور ہر چیز پر قادر ہے۔
پھرکہے:
اَللّٰهُ اَكْبَرُ
خدا بزرگ تر ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰذَا عَبْدُكَ
پروردگار یہ تیرا بندہ
وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ اَمَتِكَ
تیرے بندے اور تیری کنیز کا بیٹا ہے
نَزَلَ بِكَ
جو تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہے
وَ اَنْتَ خَيْرُ مَنْزُوْلٍ بِهِ
اور تو بہترین میزبان ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّا لَا نَعْلَمُ مِنْهُ اِلَّا خَيْرًا
خدایا ہم اس کے بارے میں سوائے بہترین عقیدے کے کچھ نہیں جانتے
وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنَّا
اور تو اس کے حالات کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ مُحْسِنًا
اگر یہ نیک کردار ہے
فَزِدْ فِىْ اِحْسَانِهِ
تو اس کی نیکی میں اضافہ کردے
وَ اِنْ كَانَ مُسِيْئًا
اور اس کے عمل خراب ہوں
فَتَجَاوَزْ عَنْهُ وَاغْفِرْ لَهُ
تو تو اس کو درگذر فرما اور اسے معاف کردے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ عِنْدَكَ فِىْ اَعْلٰی عِلِّيِّيْنَ
خدایا اسے اپنے پاس بلند ترین منزلوں میں قرار دے
وَاخْلُفْ عَلٰى اَهْلِهِ فِى الْغَابِرِيْنَ
اور اس کے اہل کا تو ذمّہ دار ہوجا۔
وَارْحَمْهُ بِرَحْمَتِكَ
تو اس پر رحمت نازل فرما کہ
يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
تو بہترین رحم کرنے والا ہے۔
پھر کہے ’’اللہُ اکبر‘‘ اور نماز تمام کر دے۔
اور اگر عورت کی میت ہو تو چوتھی تکبیر کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰذِہِ اَمَتُكَ
اے معبود! بے شک یہ تیری کنیز
وَابْنَۃُ عَبْدِكَ وَابْنَۃُ اَمَتِكَ
تیرے بندے کی بیٹی اور تیری کنیز کی بیٹی
نَزَلْتَ بِكَ
تیری مہمان ہوئی ہے
وَ اَنْتَ خَيْرُ مَنْزُوْلٍ بِهِ
اور تو بہترین مہمان نواز ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّا لَا نَعْلَمُ مِنْهَا اِلَّا خَيْرًا
اے معبود! یقیناً ہم اس کے متعلق نہیں جانتے مگر نیکی
وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهَا مِنَّا
اور تو اسے ہم سے زیادہ جانتا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَتْ مُحْسِنَۃً
اے معبود! اگر یہ نیکوکار رہی ہے
فَزِدْ فِىْ اِحْسَانِهَا
تو اس کی نیکیوں میں اضافہ کردے
وَ اِنْ كَانَتْ مُسِيْئَۃً
اور اگر یہ بدکار رہی ہے
فَتَجَاوَزْ عَنْهَا وَاغْفِرْ لَهَا
تو اس سے درگذر فرما اور اسے بخش دے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا عِنْدَكَ فِىْ اَعْلٰی عِلِّيِّيْنَ
اے معبود! تو اپنے ہاں اسے اعلیٰ علیین میں جگہ دے
وَاخْلُفْ عَلٰى اَهْلِهَا فِى الْغَابِرِيْنَ
اور اس کے اہل وعیال میں اس کا جانشین بن جا،
وَارْحَمْهَا بِرَحْمَتِكَ
اس پر رحم فرما، اپنی رحمت سے
يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اور اگر میت مستضعف ضعیف الایمانہو تو یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا
اے معبود! ان کو بخش دے، جنہوں نے توبہ کی
وَ اتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ
اور تیرے راستے پر چلے
وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ۔
تو ان کو جہنّم کے عذاب سے بچا۔
اگر نابالغ بچہ کی میت ہو تو یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لِاَبَوَيْهِ وَ لَنَا
اے معبود! اسے قرار دے اس کے والدین کے لیے
سَلَفًا وَ فَرَطًا وَ اَجْرًا۔
اور ہمارے لیے ہراوّل ذخیرہ اور اجر۔