EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
دفن میت کے آداب
جنازہ قبر کے نزدیک پہنچ جائے تواگر مرد ہے تو دو مرتبہ منزل دینے کے بعد تیسری بار قبر کے پائینتی رکھا جائے اور اگر عورت کا جنازہ ہے تو اسے قبلہ کی سمت قبر کے برابر رکھا جائے اس کے بعد ولیِٔ میت وارث یا جس کو وہ حکم دے قبر میں پیروں کی جانب سے داخل ہو کہ وہ باب قبر ہے اور جب قبر میں نیچے اتر جائے تو کہے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا رَوْضَةَ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ،
خدایا اس کی قبر کو جنّت کے باغات میں سے ایک باغ قرار دے دے
وَ لَا تَجْعَلْهَا حُفْرَةً مِنْ حُفَرِ النَّارِ۔
اور جہنّم کے گڑھوں میں سے کوئی گڑھا قرار نہ دے۔
بہتر ہے قبر میں اترنے والا سر برہنہ اور پا برہنہ ہو۔ لباس کے تمام بند کھول دے اور میت کو پکڑ کر سر جانب سے قبر میں داخل کرے اور یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ اللّٰهِ وَ بِاللّٰهِ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے
وَ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ
اللہ ہی کی راہ میں
وَ عَلٰى مِلَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ
اور رسول اللہ کی ملّت پر
اَللّٰهُمَّ اِيْمَانًا بِكَ
خدایا تجھ پر ایمان
وَ تَصْدِيْقًا بِكِتَابِكَ
اور تیری کتابوں کی تصدیق کررہا ہوں
هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ
یہی وہ چیز ہے جس کا اللہ اور رسول نے وعدہ کیا ہے
وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ
اور خدا و رسول نے سچ فرمایا ہے۔
اَللّٰهُمَّ زِدْنَا اِيْمَانًا وَ تَسْلِيْمًا۔
پروردگار ہمارے ایمان اور تسلیم میں اضافہ فرما۔
اس کے بعد اسے داہنی کروٹ لٹا دے اور اس کے چہرہ کو قبلہ کی جانب کر دے اور سر اور پیر دونوں طرف سے کفن کے بند کھول دے اور میت کے رخسار کو خاک پر رکھ دے اور اس کے ساتھ کچھ خاکِ شفا رکھنا بھی مستحب ہے۔ اس کے بعد اینٹیں یا پتھر رکھ کر قبر کو بند کر دیاجائے اور جو انھیں رکھے وہ یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ صِلْ وَحْدَتَهُ
خدایا اس مرنے والے کی وحدت
وَ اٰنِسْ وَحْشَتَهُ
اور وحشت پر رحم فرما
وَارْحَمْ غُرْبَتَهُ
اس کی غربت پر رحم فرما
وَاَسْكِنْ اِلَيْهِ مِنْ رَحْمَتِكَ
اور اپنی رحمت سے وہ سکون عطا فرما
رَحْمَةً يَسْتَغْنِىْ بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ
کہ ہر ایک کی رحمت سے بے نیاز ہوجائے۔
وَاحْشُرْهُ مَعَ مَنْ كَانَ يَتَوَلَّاهُ
اسے ان ائمہ طاہرینؑ کے ساتھ محشور کرنا
مِنَ الْاَئِمَّةِ الطَّاهِرِيْنَ۔
جن سے اس نے اس دنیا میں محبت کی ہے۔
دفن کا طریقہ
مستحب ہے جنازہ کو قبر میں رکھنے کے بعد قبر بند کرنے سے پہلے شہادتین اور اسماء ائمہ علیہم السلام کی تلقین کی جائے تلقین پڑھنے والا ان الفاظ میں تلقین پڑھے۔
يَا۔۔۔بِنْ۔۔۔
جانے والے
اُذْكُرِ الْعَهْدَ الَّذِىْ خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنْ دَارِ الدُّنْيَا
اس عہد کو یاد رکھنا جس پر تو دارِ دنیا سے نکلا ہے۔
شَهَادَةَ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
اللہ کی وحدانیت
وَحْدَهُ لَاشَرِيْكَ لَهُ
کی شہادت،
وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ
پیغمبرؐ کی بندگی اور رسالت کی گواہی
وَ اَنَّ عَلِيًّا اَمِيْرُالْمُؤْمِنِيْنَ
اور علیؑ امیرالمومنین،
وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ
حسنؑ و حسینؑ
وَ عَلِىَّ بْنَ الْحُسَيْنَِ
علیؑ ابن الحسینؑ،
وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ
محمدؑ ابن علیؑ،
وَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ
جعفرؑ ابن محمدؑ،
وَ مُوْسَىٰ بْنَ جَعْفَرٍ
موسیٰؑ ابن جعفرؑ،
وَ عَلِىَّ بْنَ مُوْسىٰ
علیؑ ابن موسیٰؑ،
وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ
محمدؑ ابن علیؑ،
وَ عَلِىَّ بْنَ مُحَمَّدٍ
علیؑ ابن محمدؑ،
وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِىٍّ
حسنؑ ابن علیؑ
وَالقَاۤئِمَ الْحُجَّةَ الْمَهْدِىَّ
اور حضرت قائم حجتؑ ہیں۔
عَلَيْهم السَّلَامُ
درود و سلام ہو ان پر
اَئِمَتُّكَ اَئِمَّةُ الْهُدٰى اَلْاَبْرَارِ
اور تمام ائمہؑ کے امام اور ہادی و رہنما ہونے کا اقرار۔
تلقین کے بعد جب پتھررکھے جا چکیں تو اسے مٹی دی جائے۔ اور جو لوگ تشیع جنازہ میں موجود ہیں ان کے لئے مستحب ہے کہ الٹے ہاتھ سےمٹی دیں اور یہ دعا پڑھیں:
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
یقیناً ہم ﷲ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے،
هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ
یہی وہ چیز ہے جس کا وعدہ ہم سے ﷲ و رسولؐ نے کیا
وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ
اور ﷲ اور اس کے رسولؐ نے سچ فرمایا،
اَللّٰهُمَّ زِدْنَا اِيْمَانًا وَ تَسْلِيْمًا۔
اے معبود! ہمارے ایمان و یقین میں اضافہ فرما۔