تیرا شکر ہے ، تیرا شکر ہے
کہو اور اگر چاہو تو سو بار
عَفْوًا عَفْوًا۔
معافی ! معافی!
کہو اور عیون اخبارِرضاؑ میں رجاء بن ابی ضحاک سے روایت ہے کہ حضرت امام رضاؑ خراسان کے سفر میں جب بھی نماز ظہر کی تعقیب سے فارغ ہوتے تھے تو سجدۂ شکر میں جاکر سو بار‘‘شُکرًاللہِ’’کہا کرتے تھے اور جب نمازِ عصر کی تعقیب سے فارغ ہوتے تو سو بار سجدہ میں ‘‘حمدًا للہِ’’ کہتے تھے۔
حَمْدًا لِلّٰهِ۔
خدا کی حمد ہے
۲شیخ کلینیؒ نے معتبر سند کے ساتھ حضرت اما جعفر صادقؑ سے روایت کی ہےکہ بندہ خداوند عالم سے اس حال میں سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے اور اپنے خدا کو پکارتا ہے لہٰذا جب تم سجدہ میں جاؤ تو یہ کہو۔
يَا رَبَّ الْاَرْبَابِ
اے پروردگاروں کے پروردگار!
وَ يَا مَلِكَ الْمُلُوْكِ
اے بادشاہوں کے بادشاہ!
وَ يَا سَيِّدَ السَّادَاتِ
اے سرداروں کے سردار!
وَ يَا جَبَّارَ الْجَبَابِرَةِ
اے جابروں کے جابر!
وَ يَا اِلٰهَ الْاٰلِهَةِ
اور اے معبودوں کے معبود!
صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔
تو سرکار محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما۔
اس کے بعد حاجت طلب کرو
اور کہو:
فَاِنِّىْ عَبْدُكَ نَاصِيَتِىْ فِىْ قَبْضَتِكَ۔
بے شک میں تیرا بندہ ہوں میری مہار تیرے ہاتھ میں ہے۔
اس کے بعد جو دعا بھی کرنا چاہو کر سکتے ہو۔ خداوند عالم بخشنے والا ہےاور اس کے لئے کسی بھی حاجت کو پورا کر دینا مشکل نہیں ہے۔
۳شیخ کلینیؒ نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ میرے والد مسجد میں سجدہ کی حالت میں گریہ کر رہے تھے اوریہ دعا پڑھ رہے تھے۔
سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ
بے نیازی تیرے لیے ہے، پروردگار
اَنْتَ رَبِّى حَقًّا حَقًّا
تو میرا خدا ہے پروردگار ہے،
سَجَدْتُ لَكَ يَا رَبِّ تَعَبُّدًا وَّ رِقًّا
میرا سجدہ تیرے واسطے ہے بندگی کی بناپر اور تیری غلامی کی بناپر۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّ عَمَلِىْ ضَعِيْفٌ فَضَاعِفْهُ لِىْ
خدایا میرا عمل کمزور ہے اسے زیادہ سے زیادہ بنادے۔
اَللّٰهُمَّ قِنِىْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
پروردگار مجھے روزِ قیامت اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا
وَتُبْ عَلَىَّ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔
اور میری توبہ کو قبول کرلینا کہ تو بہترین توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔
۴شیخ کلینیؒ نے معتبر سند کے ساتھ یہ روایت کہ ہے کہ حضرت امام موسیٰ کاظمؑ سجدہ میں یہ دعا پڑھتے تھے۔
اَعُوْذُ بِكَ مِنْ نَّارٍ حَرُّهَا لَا يُطْفٰى
خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس جہنّم سے جس کی آگ بجھنے والی نہیں ہے،
وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ نَّارٍ جَدِيْدُهَا لَا يَبْلىٰ
جس کا نیا پرانا ہونے والا نہیں،
وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ نَّارٍ عَطْشَانُهَا لَا يُرْوٰى
جس کا پیاسا سیراب نہیں ہوگا
وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ نَّارٍ مَسْلُوْبُهَا لَا يُكْسٰى۔
اور جس کا برہنہ لباس سے محروم رہے گا۔
۵شیخ کلینیؒ نے معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر صادقؑ سے عرض کیا کہ میری ایک صاحبِ فرزند کنیز ہے جو بیمار ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ اس سے کہو کہ ہر واجب نماز کے بعد سجدۂ شکر میں یہ کہا کرے۔
يَا رَؤُوْفُ يَا رَحِيْمُ
اے مہربان! اے رحم والے
يَا رَبِّ يَا سَيِّدِىْ۔
اے پروردگار اے میرے سردار۔
پھر اپنی حاجت طلب کرے۔
۶بہت ساری معتبر روایات میں ہے کہ حضرت امام صادقؑ و کاظم علیہما السلام سجدۂ شکر میں بہت زیادہ یہ پڑھا کرتے تھے
اَسْاَلُكَ الرَّاحَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ
خدایا! میں تجھ سے موت کے وقت راحت
وَ الْعَفْوَ عِنْدَ الْحِسَابِ۔
اور حساب کے وقت درگزر کا سوالی ہوں۔
۷صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ امام صادقؑ سجدہ میں یہ دعا پڑھتے تھے۔
سَجَدَ وَجْهِىَ اللَّئِيْمُ لِوَجْهِ رَبِّىَ الْكَرِيْمِ۔
میرے پست چہرے نے تیری کریم ذات کو سجدہ کیا ہے۔
۸بعض معتبر کتابوں میں حجرت امیرالمومنین علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ خداوند عالم کے نزدیک سب سے بہترین کلام یہ ہےکہ بندہ تین بار سجدہ میں کہے۔
اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِىْ فَاغْفِرْ لِىْ۔
یقیناً میں نے خود پر ظلم کیا ہے پس مجھے بخش دے۔
۹جعفریات میں حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت ہےکہ رسولِ اکرمؐ جب سجدہ میں سر رکھتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ مَغْفِرَتُكَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِىْ
اے معبود! تیری بخشش میرے گناہوں سے زیادہ وسیع ہے
وَ رَحْمَتُكَ اَرْجىٰ عِنْدِىْ مِنْ عَمَلِىْ
اور تیری رحمت میرے عمل کی نسبت زیادہ امید افزا ہے
فَاغْفِرْ لِىْ ذُ نُوْبِىْ يَا حَيًّا لَا يَمُوْتُ۔
پس میرے گناہ بخش دے اے وہ زندہ جو مرے گا نہیں۔
۱۰قطب راوندی نے حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت کہ ہے کہ جب تمہیں کوئی مشکل یا غم در پیش ہو اور وہ اپنی انتہا تک پہنچ جائے تو زمین پر سجدہ کر کے یہ کہو۔
يَا مُذِلَّ كُلِّ جَبَّارٍ
اے ہر جبّار کو ذلیل کرنے والے
يَا مُعِزَّ كُلِّ ذَلِيْلٍ
ہر ذلیل کو عزّت دینے والے
قَدْ وَحَقِّكَ بَلَغَ مَجْهُوْدِىْ
تیرے حق کی قسم کہ میں بے بس ہوگیا
فَصَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
پس تو محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَّ فَرِّجْ عَنِّىْ۔
اور مجھے کشادگی عطا فرما۔
اور عدۃ الداعی میں آنحضرت سے روایت ہے کہ جب کسی پر کوئی شدید دشواری یا مصیبت یا غم آن پڑے تو گھٹنے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک برہنہ کر کے زمین ٹیک دے اور سینہ کو بھی زمین سے ملا دے اور پھر حاجت طلب کرے۔
۱۱ابن بابویہؒ نے معتبر سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے جب کبھی بندہ سجدہ میں تین بار
يَا اَللّٰهُ يَا رَبَّاهُ يَا سَيَّدَاهُ۔
اے اللہ اے پروردگار اے سردار !
کہتا ہے تو خداوند عالم جواب میں ‘‘لَبَّیْکَ’’ کہہ کر فرماتا ہے کہ میرے بندے اپنی حاجتیں طلب کر لے
اور مکارم الاخلاق میں روایت ہے کہ جو شخص بھی سجدہ میں اس طرح
يَا رَبَّاهُ يَا سَيَّدَاهُ۔
اے پروردگار اے میرے سردار۔
کہے یہاں تک کہ سانس ٹوٹ جائے تو خداوند عالم فرماتا ہے کہ اپنی حاجت بیان کر۔۱۲مکارم الاخلاق میں حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرمؐ ایک شخص کے پاس سے گذرے جو سجدہ میں کہہ رہا تھا۔‘‘یٰا رَبِّ مٰا ذٰا علیک۔۔۔۔۔
يَا رَبِّ مَاذَا عَلَيْكَ
پروردگار تیرے لیے کوئی مشکل نہیں کہ
اَنْ تُرْضِىَ عَنِّىْ كُلَّ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدِىْ تَبِعَةٌ
تو میرے لیے ہر اس شخص کو راضی کردے کہ جس کا کوئی حق میرے ذمّے ہے
وَاَنْ تَغْفِرَ لِىْ ذُ نُوْبِىْ
اور میرے گناہوں کو معاف کردے
وَاَنْ تُدْخِلَنِى الْجَنَّةَبِرَحْمَتِكَ
اور اپنی رحمت سے مجھے جنّت میں داخل کردے
فَاِنَّمَا عَفْوُكَ عَنِ الظَّالِمِيْنَ
اس لیے کہ تیری معافی ظالمین کے لیے ہے
وَ اَنَا مِنَ الظَّالِمِيْنَ
اور میں بھی ظالم ہوں
فَلْتَسَعْنِىْ رَحْمَتُكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
لہٰذا تیری رحمت میرے شاملِ حال ہوجائے، اے بہترین رحم کرنے والے۔
توحضرت نے فرمایا کہ اپنا سر اٹھا کہ تیری دعا قبول ہو گئی ہے حقیقتاً تونے اس پیغمبر کی دعا پڑھی ہے جو قوم عاد کے زمانے میں تھا۔