ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے جو بلند ہے ہر شئی پر قادر ہے
وَالْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِىْ بَطَنَ فَخَبَرَ
ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے جو ہر شئے کے باطن سے باخبر ہے۔
وَالْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِىْ مَلَكَ فَقَدَرَ
ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے جو مالک بھی ہے اور صاحبِ اختیار بھی ہے
وَالْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِىْ يُحْيِى الْمَوْتىٰ
ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے جو مردوں کو زندگی
وَيُمِيْتُ الْاَحْيَاۤءَ
اور زندوں کو موت دیتا ہے
وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ۔
اور ہر شئے پر قدرت و اختیار رکھتا ہے۔
پھر تسبیح حضرت زہراؐ پڑھے اور جس طرح میت قبر میں رکھی جاتی ہے اسی طرح دائیں کروٹ لیٹے لیکن حالتِ احتضار میں میت کے لیٹنے کے طریقہ کے بارے میں ہمارے شیخ ثقۃ الاسلام نوریؒ نے دارالسلام میں تحریر کیا ہے کہ میں نے یہ طریقہ کسی روایت اور کتاب میں نہیں دیکھا ہے۔ صرف غزالی نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ اور اس میں شک نہیں ہے کہ صحیح طریقہ اس کے برخلاف ہے۔
اگر کبھی نمازِ شب یا کسی دوسرے کام کے لئے بیدار ہونا چاہیئے اور نیند کے غلبہ کی بنا پر بیدار نہ ہونے کا خوف ہو تو سورۂ کہف کی یہ آخری آیت پڑھے۔
قُلْ اِنَّمَا اَ نَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ
يُوْحىٰ اِلَىَّ اَنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ
فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْ لِقَاۤءَ رَبِّهٖ
فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا
وَلَايُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖ اَحَدًا۔
امام صادقؑ سے روایت ہے کہ جو شخص بھی اس کو سونے سے پہلے پڑھے گا جس وقت چاہے گا نیند سے بیدار ہو جائے گا۔