اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِىْ اَحْيَانِىْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِىْ وَ اِلَيْهِ النُّشُوْرُ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ رَدَّ عَلَىَّ رُوْحِىْ لِاَحْمَدَهُ وَاَعْبُدَهُ۔
اور جب کھڑے ہو جائے تو کہے۔
اَللّٰهُمَّ اَعِنِّىْ عَلٰى هَوْلِ الْمُطَّلَعِ
وَ وَسِّعْ عَلَىَّ الْمَضْجَعَ
وَارْزُقْنِىْ خَيْرَمَا بَعْدَ الْمَوْتِ۔
اور جب مرغ کی آواز سنے تو کہے۔
سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ
رَبُّ الْمَلَاۤئِكَةِ وَالرُّوْحِ
سَبَقَتْ رَحْمَتُكَ غَضَبَكَ
لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
عَمِلْتُ سُوْءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِىْ فَاغْفِرْلِىْ
اِنَّهُ لَايَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ
فَتُبْ عَلَىَّ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔
اور جب آسمان پرنظر ڈالے یہ کہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّهُ لَايُوَارِىْ مِنْكَ لَيْلٌ سَاجٍ
وَلَاسَمَاۤءٌ ذَاتُ اَبْرَاجٍ
وَلَا اَرْضٌ ذَاتُ مِهَادٍ
وَلَاظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ
وَ لَابَحْرٌ لُجِّىٌّ تُدْلِجُ بَيْنَ يَدَىِ الْمُدْلِجِ مِنْ خَلْقِكَ
تُدْلِجُ الرَّحْمَةَ عَلٰى مَنْ تَشَاۤءُ مِنْ خَلْقِكَ
تَعْلَمُ خَاۤئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا
تُخْفِىْ الصُّدُوْرُ
غَارَتِ النُّجُوْمُ
وَنامَتِ الْعُيُوْنُ
وَ اَنْتَ الْحَىُّ الْقَيُّوْمُ
لَا تَاْخُذُكَ سِنَةٌ وَّلَانَوْمٌ
سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
وَ اِلٰهِ الْمُرْسَلِيْنَ
وَالْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
اس کے بعد آلِ عمران کی پانچ آیتیں پڑھے۔
اِنَّ فِىْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
لَاٰ يَاتٍ لِاُ وْلىِ الْاَلْبَابِ
الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللهَ قِيَامًا وَ قُعُوْدًا وَ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ
وَ يَتَفَكَّرُوْنَ فِىْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا
سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
رَبَّنَا اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهَ
وَ مَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ
رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِىْ لِلْاِيْمَانِ
اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا
رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُ نُوْبَنَا
وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاۤتِنَا
وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ
رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلٰى رُسُلِكَ
وَلَاتُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
اِنَّكَ لَاتُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۔
پھر جب نماز پڑھنا چاہے اور بیت الخلاء جانے کی ضرورت محسوس ہو تو پہلے اس سے فارغ ہو جائے۔ پھر بیت الخلاء سے باہر آکر مسواک کرے پھر اس کے بعد مکمل وضو کر ے پھر خوشبو لگائے اور نمازِ شب کے لئے کھڑا ہو جائے۔
وقتِ نمازِ شب
اس کا اوّل وقت آدھی رات کے بعد ہے اور طلوع صبح صادق سے جتنا بھی نزدیک ہو اتنا ہی افضل ہے
اور اگر صبح ہو جائے اور چار رکعت پڑھ چکا ہے تو بقیہ کو بھی صرف حمد کے ساتھ سورہ کے بغیر پڑھ لے۔
تو جب نماز شب کے لئے مصلے پر کھڑا ہو تو آٹھ رکعت نمازِ شب پڑھے جس میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھے اور بہتر ہے کہ ہر پہلی دو رکعت میں سورۂ حمد کے بعد ۶۰ بار سورۂ توحید پڑھے۔ یعنی ہر رکعت میں ۳۰ بار پڑھے تا کہ نماز تمام ہونے کے بعد اس کے اور خداوند متعال کے درمیان کوئی گناہ باقی نہ رہ جائے۔
یا اس کے بجائے پہلی رکعت میں سورۂ توحید اور دوسری رکعت میں قل یا ایہاالکٰفرون پڑھے اور بقیہ چھ رکعتوں میں جو سورہ بھی چاہے پڑھے اور ہر رکعت میں حمد و قل ھو اللہ بھی کافی ہے اور صرف حمد پر اکتفا کرنا جائز ہے۔
قنوت
جس طرح واجبی نماز وں میں قنوت سنت ہے اسی طرح نافلہ نمازوں کی دوسری رکعت میں بھی سنت ہے اور اس میں تین بار
سُبْحَانَ اللهِ۔
کہنا کافی ہے یا یہ کہے۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا
وَ عَافِنَا وَاعْفُ عَنَّا
فِى الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّشَىْءٍ قَدِيْرٌ۔
یا یہ کہے
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ
وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ
اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَجَلُّ الْاَكْرَمُ۔
روایت میں ہے کہ جب امام موسیٰ کاظمؑ محراب عبادت میں کھڑے ہوتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ
خَلَقْتَنِىْ سَوِيًّا
وَ رَبَّيْتَنِىْ مَكْفِيًّا
وَ رَزَقْتَنِيْ مَكْفِيًّا
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ وَ جَدْتُ فِيْمَآ
اَنْزَلْتَ مِنْ كِتَابِكَ
وَ يَشَّرْتَ بِهٖ عِبَادَكَ
اَنْ قُلْتَ
يَاعِبَادِىَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ
اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا
وَ قَدْ تَقَدَّمَ مِنِّىْ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَمَآ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهٖ مِنِّىْ
فَيَا سَوْ اَتَامِمَّا اَحْصَاهُ عَلَىَّ كِتَابُكَ
فَلَوْلَا الْمَوَاقِفُ الَّتِىْ اُؤَمِّلُ مِنْ عَفْوِكَ الَّذِىْ شَمِلَ كُلَّ شَىْءٍ لَاَلْقَيْتُ بِيَدِىْ
وَ لَوْ اَنَّ اَحَدًا اسْتَطَاعَ الْهَرَبَ مِنْ رَّبِّهٖ لَكُنْتُ اَنَا اَحَقَّ بِالْهَرَبِ مِنْكَ
وَ اَنْتَ لَا تَخْفٰى عَلَيْكَ خَافِيَةٌ فِىْ الْاَرْضِ وَ لَا فِى السَّمَاۤءِ اِلَّا اَتَيْتَ بِهَا
وَ كَفٰى بِكَ جَازِيًا
وَ كَفٰى بِكَ حَسِيْبًا
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ
طَالِبِىْ اِنْ اَنَا هَرَبْتُ
وَ مُدْرِكِىْ اِنْ اَنَافَرَرْتُ
فَهَا اَنَاذَا بَيْنَ يَدَيْكَ
خَاضِعٌ ذَلِيْلٌ رَاغِمٌ
اِنْ تُعَذِّبْنِىْ فَاِنِّىْ لِذٰلِكَ اَهْلٌ وَ هُوَ يَا رَبِّ مِنْكَ عَدْلٌ
وَ اِنْ تَعْفُ عَنِّىْ فَقَدِيْمًا شَمَلَنِىْ عَفْوُكَ وَ اَلْبَسْتَنِىْ عَافِيَتَكَ
فَاَسْئَلُكَ اَللّٰهُمَّ
بِالْمَخْزُوْنِ مِنْ اَسْمَاۤئِكَ
وَ بِمَا وَارَتْهُ الْحُجُبُ مِنْ بَهَاۤئِكَ
اِلَّا رَحِمْتَ هٰذِهِ النَّفْسَ الْجَزُوْعَةَ وَ هٰذِهٖ الرِّمَّةَ الْهُلُوْعَةَ
الَّتِىْ لَا تَسْتَطِيْعُ حَرَّ شَمْسِكَ
فَكَيْفَ تَسْتَطِيْعُ حَرَّنَارِكَ
وَالَّتِىْ لَا تَسْتَطِيْعُ صَوْتَ رَعْدِكَ
فَكَيْفَ تَسْتَطِيْعُ صَوْتَ غَضَبِكَ
فَارْحَمْنِىْ اَللّٰهُمَّ
فَاِنِّىْ امْرُؤٌ حَقِيْرٌ
وَ خَطَرِىْ يَسْيْرٌ
وَ لَيْسَ عَذَابِىْ مِمَّا يَزِيْدُ فِىْ مُلْكِكَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ
وَّ لَوْ اَنَّ عَذَابِي مِمَّا يَزِيْدُ فِي مُلْكِكَ
لَسَاَلْتُكَ الصَّبْرَ عَلَيْهِ
وَ اَحْبَبْتُ اَنْ يَكُوْنَ ذٰلِكَ لَكَ
وَلٰكِنْ سُلْطَانُكَ اَللّٰهُمَّ اَعْظَمُ
وَ مُلْكُكَ اَدْوَمُ مِنْ اَنْ
تَزِيْدَ فِيْهِ طَاعَةُ الْمُطِيْعِيْنَ
اَوْ تَنْقُصَ مِنْهُ مَعْصِيَةُ الْمُذْنِبِيْنَ
فَارْحَمْنِىْ
يَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
وَ تَجَاوَزْ عَنِّىْ
يَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ
وَ تُبْ عَلَىَّ
اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ.
نمازِ شفع و وِتر
جب نمازِ شب کی آٹھ رکعت سے فارغ ہو جائے تو دو رکعت نماز شفع اور ایک وتر پڑھے اور ان تین رکعتوں میں سورۂ الحمد کے بعد قل ھواللہ پڑھے تا کہ ایسا ہو جائے جیسے سارا قرآن ختم کر لیا ہے
کیوں کہ سورۂ توحید ثلث۳؍۱ قرآن کے برابر ہے یا یہ کہ نماز شفع میں پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورۂ قل اعوذ بربّ الناس پڑھے
اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد اور قل اعوذُ بربّ الفلق پڑھے اور جب نماز شفع سے فارغ ہو تو یہ دعا پڑھے۔
اِلٰهِيْ تَعَرَّضَ لَكَ فِي هٰذَا اللَّيْلِ الْمُتَعَرِّضُوْنَ
وَ قَصَدَكَ الْقَاصِدُوْنَ
وَ اَمَّلَ فَضْلَكَ وَ مَعْرُوْفَكَ الطَّالِبُوْنَ
وَ لَكَ فِيْ هٰذَا اللَّيْلِ نَفَحَاتٌ وَ جَوَاۤئِزُ
وَ عَطَايَا وَ مَوَاهِبُ
تَمُنُّ بِهَا عَلٰى مَنْ تَشَاۤءُ مِنْ عِبَادِكَ
وَ تَمْنَعُهَا مَنْ لَمْ تَسْبِقْ لَهُ الْعِنَايَةُ مِنْكَ
وَ هَاۤ اَنَا ذَا عُبَيْدُكَ الْفَقِيْرُ اِلَيْكَ
الْمُؤَمِّلُ فَضْلَكَ وَ مَعْرُوْفَكَ
فَاِنْ كُنْتَ يَا مَوْلَايَ
تَفَضَّلْتَ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ
عَلٰىۤ اَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ
وَ عُدْتَ عَلَيْهِ بِعَاۤئِدَةٍ مِنْ عَطْفِكَ
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
۟اِلطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيْنَ
الْخَيِّرِيْنَ الْفَاضِلِيْنَ
وَ جُدْ عَلَيَّ بِطَوْلِكَ وَ مَعْرُوْفِكَ
يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
وَ اٰلِهِ الطَّاهِرِيْنَ
وَ سَلَّمَ تَسْلِيْمًا
اِنَّ اللّٰهَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَدْعُوْكَ كَمَاۤ اَمَرْتَ
فَاسْتَجِبْ لِيْ كَمَا وَعَدْتَ
اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۔
یہ وہی دعا ہے جو شب پندرہ ۱۵ شعبان کے اعمال میں پڑھی جاتی ہے اورمفاتیح الجنان میں موجود ہے
اور جب نماز شفع کی دو رکعت سے فارغ ہو جائے تو کھڑے ہو کر ایک رکعت نماز وتر پڑھے جس میں یا تو سورۂ حمد و سورۂ توحید پڑھے یا حمد کے بعد تین بار قل ھواللہ اور قل اعوذُ بربّ الناس پڑھے۔ پھر قنوت کے لئے ہاتھ اٹھا کر جو دعا پڑھنا چاہے پڑھے
کہ شیخ طوسیؒ نے فرمایا ہے کہ اس مقام پر جو دعائیں پڑھی جاتی ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا جمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن کوئی ایسی خاص چیز نہیں ہے جس کے بر خلاف کرنا جائز نہ ہو۔
اور مستحب ہے کہ انسان اس کے قنوت میں خوف خدا اور اس کے عذاب کے ڈر سے گریہ کرے یا کم از کم رونے والے کی شکل بنائے اور برادران دینی کے لئے دعا کرے اور مستحب ہےتحب ہے کہ انسان اس کے قنوت میں خوف خدا اور اس کے عذاب کے ڈر سے گریہ کرے یا کم از کم رونے والے کی شکل بنائے اور برادران دینی کے لئے دعا کرے
اور مستحب ہے کہ چالیس آدمیوں کا نام لے کر ذکر کرے کیوں کہ جو شخص چالیس مومنوں کے لئے دعا کرے گا اس کی دعا یقیناً قبول ہو جائے گی انشاء اللہ اور اس کے علاوہ جو دعا چاہے کرے۔
شیخ صدوقؒ نے کتاب فقیہ میں فرمایا ہے کہ رسولؐ اکرم وتر کے قنوت میں یہ دعا پڑھتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ اهْدِنِىْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ
وَ عَافِنِىْ فِيْمَنْ عَافَيْتَ
وَ تَوَلَّنِىْ فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ
وَ بَارِكْ لِىْ فِيْمَا اَعْطَيْتَ
وَقِنِىْ شَرَّ مَا قَضَيْتَ
فَاِنَّكَ تَقْضِىْ وَلَايُقْضٰى عَلَيْكَ
سُبْحَانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ
اَسْتَغْفِرُكَ وَ اَتُوْبُ اِلَيْكَ
وَ اُوْمِنُ بِكَ وَاَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ
وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّا بِكَ يَا رَحِيْمُ۔
اور مناسب یہ ہے کہ ستّر بار
اَسْتَغْفِرُاللهَ رَبِّىْ وَ اَتُوْبُ اِلَيْهِ۔
بھی پڑھے۔ اور بہتر ہے کہ بائیں ہاتھ کو دعا کے لئے بلند کر کے دائیں ہاتھ ے استغفار کو شمار کرتا رہے اور روایت میں ہےلند کر کے دائیں ہاتھ ے استغفار کو شمار کرتا رہے اور روایت میں ہے کہ حضرت رسولؐ اکرم نماز وتر میں ستّر بار استغفار کرتے تھے اور سات مرتبہ کہتے تھے۔
هٰذَا مَقامُ الْعَاۤئِذِ بِكَ مِنَ النَّارِ۔
اور اسی طرح روایت میں ہے کہ حضرت امام زین العابدینؑ نماز وتر میں تین سو بار:۔
اَلْعَفْوَ اَلْعَفْوَ۔
کہہ کر یہ دعا پڑھتے تھے۔
رَبِّ اغْفِرْلِىْ وَارْحَمْنِىْ وَ تُبْ عَلىَّ
اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۔
بہتر یہ ہے کہ قنوت کو طول دے اور قنوت سے فارغ ہو کر رکوع میں جائے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یہ دعا پڑھے جو شیخ نے تہذیب میں حضرت امام موسیٰ کاظمؑ سے نقل کی ہے۔
هٰذَا مَقَامُ مَنْ حَسَنَاتُهُ نِعْمَةٌ مِنْكَ وَ شُكْرُهُ ضَعِيْفٌ وَ ذَنْبُهُ عَظِيْمٌ وَ لَيْسَ لِذٰلِكَ اِلَّا رِفْقُكَ وَ رَحْمَتُكَ فَاِنَّكَ قُلْتَ فِىْ كِتَابِكَ الْمُنْزَلِ عَلٰى نَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ كَانُوْا قَلِيْلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ طَالَ هُجُوْعِىْ وَ قَلَّ قِيَامِىْ وَ هٰذَا السَّحَرُ وَ اَ نَا اَسْتَغْفِرُكَ لِذُنُوْبِىْ اِسْتِغْفَارَ مَنْ لَايَجِدُ لِنَفْسِهِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلا مَوْتًا وَلَاحَيَاةً وَلَا نُشُوْرًا۔
پھر سجدہ کرے تشہد وسلام کے بعد تسبیح زہراؐ پڑھے پھر کہے۔
اَلْحَمْدُ لِرَبِّ الصَّبَاحِ
الْحَمْدُ لِفَالِقِ الْاِصْبَاحِ۔
اور پھر تین مرتبہ کہے
سُبْحَانَ رَبِّىَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ۔
پھر کہے
يَا حَىُّ يَا قَيُّوْم
،يَا بَرُّ يَا رَحِيْمُ
يَا غَنِىُّ يَا كَرِيْمُ
اُرْزُقْنِىْ مِنَ التِّجَارَةِ اَعْظَمَهَا فَضْلًا
وَ اَوْ سَعَهَا رِزْقًا
وَ خَيْرَهَا لِىْ عَاقِبَةً
فَاِنَّهُ لَا خَيْرَ فِيْمَا لَا عَاقِبَةَ لَهُ۔
اور بہتر ہے کہ اس کے بعد دعائے حزین پڑھے۔
اُنَاجِیْكَ یَا مَوْجُوْدً فِی كُلِّ مَكَانٍ لَعَلَّكَ تَسْمَعُ نِدَاۤئِی فَقَدْ عَظُمَ جُرْمِیْ وَ قَلَّ حَیَاۤئِی یَا مَوْلَایَ اَیَّ الْاَهْوَالِ اَتَذَكَّرُ وَ اَیَّهَا اَنْسٰی وَ لَوْ لَمْ یَكُنْ اِلَّا الْمَوْتُ لَكَفٰی كَیْفَ وَ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ اَعْظَمُ وَ اَدْهٰی مَوْلَایَ یَا مَوْلَایَ حَتّٰی مَتٰی وَ اِلٰی مَتٰی اَقُوْلُ لَكَ الْعُتْبٰی مَرَّةً بَعْدَ اُخْرٰی ثُمَّ لَا تَجِدُ عِنْدِیْ صِدْقًا وَ لَا وَفَاۤءً فَیَا غَوْثَاهُ ثُمَّ وَا غَوْثَاهُ بِكَ یَاۤ اَللهُ مِنْ هَوًی قَدْ غَلَبَنِیْ وَ مِنْ عَدُوٍّ قَدِ اسْتَكْلَبَ عَلَیَّ وَ مِنْ دُنْیَا قَدْ تَزَیَّنَتْ لِیْ وَ مِنْ نَفْسِ اَمَّارَةٍ بِالسُّوْۤءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ مَوْلَایَ یَا مَوْلَایَ اِنْ كُنْتَ رَحِمْتَ مِثْلِیْ فَارْحَمْنِیْ وَ اِنْ كُنْتَ قَبِلْتَ مِثْلِیْ فَاقْبَلْنِیْ یَا قَابِلَ السَّحَرَةِ اقْبَلْنِیْ یَا مَنْ لَمْ اَزَلْ اَتَعَرَّفُ مِنْهُ الْحُسْنٰی یَا مَنْ یُغَذِّیْنِیْ بِالنِّعَمِ صَبَاحًا وَ مَسَاۤءً اِرْحَمْنِیْ یَوْمَ اٰتِیْكَ فَرْدًا شَاخِصًا اِلَیْكَ بَصَرِیْ مُقَلَّدًا عَمَلِیْ قَدْ تَبَرَّاَ جَمِیْعُ الْخَلْقِ مِنِّیْ نَعَمْ وَ اَبِیْ وَ اُمِّیْ وَ مَنْ كَانَ لَهُ كَدِّیْ وَ سَعْیِیْ فَاِنْ لَمْ تَرْحَمْنِیْ فَمَنْ یَرْحَمُنِیْ وَ مَنْ یُؤْنِسُ فِی الْقَبْرِ وَحْشَتِیْ وَ مَنْ یُنْطِقُ لِسَانِیْ اِذَا خَلَوْتُ بِعَمَلِیْ وَ سَاَلْتَنِیْ عَمَّاۤ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّیْ فَاِنْ قُلْتُ نَعَمْ فَاَیْنَ الْمَهْرَبُ مِنْ عَدْلِكَ وَ اِنْ قُلْتُ لَمْ اَفْعَلْ قُلْتَ اَ لَمْ اَكُنِ الشَّاهِدَ عَلَیْكَ فَعَفْوُكَ عَفْوُكَ یَا مَوْلَایَ قَبْلَ سَرَابِیْلِ الْقَطِرَانِ عَفْوُكَ عَفْوُكَ یَا مَوْلَایَ قَبْلَ جَهَنَّمَ وَ النِّیْرَانِ عَفْوُكَ عَفْوُكَ یَا مَوْلَایَ قَبْلَ اَنْ تُغَلَّ الْاَیْدِیْ اِلَی الْاَعْنَاقِ یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَ خَیْرَ الْغَافِرِیْنَ۔
پھر سجدہ میں جا کر پانچ بار کہے۔
سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ،رَبُّ الْمَلَاۤئِكَةِ وَ الرُّوْحِ۔
پھر بیٹھ کر آیۃ الکرسی پڑھے پھر دوبارہ سجدہ میں جا کر گذشتہ ذکر کی تکرار کرے پانچ مرتبہ۔