EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
طلوع وغروب آفتاب کے موقعہ پر پڑھنے والی دعا
صبح و شام کی دعائیں
خداوند عالم تمہیں توفیق دے یا د رکھو کہ ان دونوں اوقات کا خاص خیال رکھنے کے بارے میں خاص طورسے بہت رغبت دلائی گئی ہے جو آیات و روایات دونوں ہی میں موجود ہے۔ ہم اس مختصر کتابچہ میں ان میں سے بعض کو تبرک پر ذکر کر رہے ہیں۔
ابن بابویہؒ نے معتبر سند کے ساتھ حضرت امیرالمومنینؑ سے روایت کی ہے کہ جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے قل ھو اللہ اور انّا انزلناہُ اور آیۃ الکرسی میں سے ہر ایک کو ۱۱؍گیارہبار پڑھے گا خداوندعالم اس کے مال کو ہر اس بات سے محفوظ رکھے جس سے وہ خوفزدہ ہے اور آپؑ نے فرمایا کہ جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے قل ھو اللہ اور انّا انزلناہُ پڑھے گا اس دن وہ گناہ سے محفوظ رہے گا۔ چاہے شیطان لاکھ کو شش کرے۔
۲کلینیؒ ابن بابویہؒ، شیخ طوسیؒ اور دوسرے افراد نے معتبر سندوں کے ساتھ حجرت امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ دس بار سورج طلوع ہونے سے پہلے اور دس بار غروب آفتاب سے پہلے اس دعا کو پڑھے:۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے
وَحْدَهُ لَاشَرِيْكَ لَهُ
وہ یکتا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں
لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ
حکومت اسی کی اور حمد اسی کے لیے ہے
يُحْيِىْ وَ يُمِيْتُ
وہ زندہ کرنے اور موت دینے والا ہے
وَ هُوَ حَىُّ لَايَمُوْتُ
اور وہ زندہ ہے اسے موت نہیں،
بِيَدِهِ الْخَيْرُ
بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے
وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ۔
اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اور روایت میں یوں وارد ہواہے۔
يُحْيِىْ وَ يُمِيْتُ‏ وَ يُمِيْتُ وَ يُحْيِىْ۔
زندہ کرنے موت دینے والا اور موت دینے والا اور زندہ کرنے والا ہے۔
اور عام روایتوں میں کلمہ
وَ هُوْ حَىُّ لَا يَمُوْتُ
وہ زندہ ہے اسے موت نہیں
بِيَدِهِ الْخَيْرُ۔
بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے۔
لیکن بعض میں موجود ہے اور ظاہراً سب ہی بہتر ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ اگر چھوٹ جائے تو قضا کرے اور بعض روایات کے مطابق اس دن اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
۳ابن بابویہؒ اور دوسرے علماء نے جناب امام زین العابدینؑ اور امام جعفر صادقؑ سے معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ جو شخص شام کو ۱۰۰؍ سو بار ‘‘اللہُ اکبر’’ کہے گا گویا اس نے ۱۰۰؍سو غلام آزاد کئے ہیں
اور دوسری صحیح سند کے ساتھ حضرت امام محمد باقرؑ سے روایت ہے کہ جو شخص ۱۰۰؍ سو بار طلوع آفتاب سے پہلے اور ۱۰۰؍ سو بار غروب آفتاب سے پہلے ‘‘اللہُ اکبر’’ کہے گا خداوند عالم اس کے لئے ۱۰۰؍ سو غلام آزاد کرنے کا ثواب لکھ دے گا
اور جو شخص دس مرتبہ
سُبْحَانَ اللهِ‏ وَ بِحَمْدِهٖ۔
خدا پاک ہے میں اس کی حمد کرتا ہوں
کہے گا خداوند عالم اس کے لئے زیادہ حسنات لکھے گا۔
سُبْحَانَ اللهِ
پاک و پاکیزہ ہے وہ خدا
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ
اور حمد اسی کے لیے ہے۔
وَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
وَ اللهُ اَكْبَرُ۔
وہ سب سے بزرگ ہے۔
۴ابن بابویہؒ ہی نے معتبر سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایات کی ہے کہ حضرت رسولؐ اکرم نے فرمایا کہ جنت میں کچھ ایسے غرفے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے بالکل نمایاں ہے اور صاف دکھائی دیتا ہے اور ان کے اندر میری امت کا وہ شخص رہے گا جو نیک کلام کرتا ہو، لوگوں کو کھانا کھلاتا ہو، جس سے ملتا ہو اسے سلام کرتا ہو اور جب رات میں سب سوئے ہوئے ہوں تو نمازِ شب پڑھتا ہو۔ پھر آپؑ نے فرمایا کہ نیک کلام یہ ہے کہ صبح و شام دس بار کہے۔
محاسن برقی میں صحیح سند کے ساتھ امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ رسولؐ اکرم ایک شخص کے پاس سے گذرے جو اپنے باغ کی کھدائی کر رہا تھا
آپؑ قریب گئے اور فرمایا کیا تمہیں ایسے باغ کا پتہ بتا دوں جس کی جڑیں ا س سے مضبوط جس کا پھل جلدی پکنے والا ہو اور اچھا اور باقی رہنے والا بھی ہو۔
اس نے عرض کی ضرور۔
فرمایا کہ ہر صبح و شام کہا کرو۔
سُبْحَانَ اللهِ
پاک و پاکیزہ ہے وہ خدا
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ
اور حمد اسی کے لیے ہے۔
وَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
وَ اللهُ اَكْبَرُ۔
وہ سب سے بزرگ ہے۔
تو تمہارے لئے جنت میں ہر تسبیح کے بدلے طرح طرح کے پھل کے درخت لگا دیئے جائیں گے اور یہی وہ باغات صالحات ہیں جن کا تذکرہ خداوند عالم نے قرآن میں فرمایا ہے جو مالِ دنیا سے بہتر اور پائیدار ہیں۔
۵ابن بابویہؒ نے معتبر سند کے ساتھ حضرت امیرالمومنینؑ سے روایت کی ہے کہ جو شخص شام کے وقت یا اس کے بعد اس آیت کریمہ کو تین بار پڑھے گا اس رات اس سے کوئی خیر فوت نہ ہو گا اور تمام شر اس سے دور ہو جائیں گے اور اگر صبح کے وقت کہے گا تب بھی ایسا ہی ہو گا۔
وہ آیتِ کریمہ یہ ہے:۔
فَسُبْحَانَ اللهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ
پس اللہ پاک ہے جب تم شام کرتے ہواور جب تم صبح کرتے ہو
وَ لَهُ الْحَمْدُ فِى السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
حمد اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین میں
وَ عَشِيًّا وَ حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ۔
جب تم عشا کرتے ہو اور جب ظہر کرتے ہو۔
۶برقی نے اپنی کتاب محاسن میں موثق سند کے ساتھ حضرت امام رضاؑ سے روایت کی ہے جو شخص تین بار صبح کو اور تین بار شام کو کہے:۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔
کوئی قوّت و طاقت نہیں ہے سوائے اللہ بزرگ و برتر کے۔
تو وہ شیطان سے ڈرے گا اور نہ ہی کسی بادشاہ سے نہ ہی اسے برص اور جذام کا خوف رہے گا اور حضرت نے فرمایا کہ میں اس کو سو ۱۰۰؍ بار کہتا ہوں اور صبح و شام کی نمازوں کی تعقیب میں سات بار بھی گذر چکا ہے۔
۷معتبر سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ انصار میں سے ایک شخص حضرت رسولؐ اکرم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا تو آپؑ نے اس سے دریافت کیا کہ چند دن کہاں غائب تھے؟
اس نے کہا کہ تنگدستی اور بیماری کی بنا پر حاضر نہیں ہو سکا۔
آپؑ نے فرمایا کہ کیا تم کو ایسی دعا تعلیم دے دوں جس کو پڑھ لو تو فقیری اور بیماری دور ہو جائے؟
عرض کی بیشک۔
فرمایا کہ صبح و شام یہ دعا پڑھا کرو:۔
لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ
کوئی قوّت و طاقت سوائے اللہ کے نہیں ہے۔
تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَىِّ الَّذِىْ لَايَمُوْتُ
میرا اعتماد خدا کے زندہ ہونے پر ہے جس کے لیے موت نہیں ہے۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا
ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا،
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيْكٌ فِى الْمُلْكِ
کوئی اس کے ملک میں شریک نہیں،
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِىُّ مِّنَ الذُّلِّ
کوئی اس کی کمزوری کا ولی نہیں۔
وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا۔
تکبیر اور بزرگی اسی کے لیے ہے۔
۸اور بہت سی معتبر روایات میں حضرت امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ طلوع و غروب آفتاب سے پہلے دس بار کہو:۔
اَعُوْذُ بِاللهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ
میں پناہ چاہتا ہوں سمیع و علیم کی
مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِيْنِ
شیطان کے شر سے
وَ اَعُوْذُ بِاللهِ اَنْ يَحْضُرُوْنِ
اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔
اِنَّ اللهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔
بے شک خدا ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔
اور بعض روایات میں یوں ہے۔
وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ‏ اَنْ يَحْضُرُوْنِ۔
یا رب میں تیری پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں۔
اور بعض روایات میں اس طرح ہے۔
اَسْتَعِيْذُ بِاللهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ
میں پناہ لیتا ہوں سننے جاننے والے اللہ کی
مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِيْنِ
دھتکارے ہوئے شیطان سے
وَ اَعُوْذُ بِاللهِ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ‏
اور پناہ لیتا ہوں اللہ کی کہ وہ میرے قریب آئیں۔
اِنَّ اللهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔
بے شک خدا ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔
۹فلاح السائل میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرمایا :
تمہیں ہر صبح وشام یہ دعا تین مرتبہ پڑھنے سے کس نے روکا ہے؟
اَللّٰهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ وَالْاَبْصَارِ
اے دلوں اور نگاہوں کے پلٹنے والے
ثَبِّتْ قَلْبِىْ عَلٰى دِيْنِكَ
میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا
وَلَاتُزِغْ قَلْبِىْ بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنِىْ
اور ہدایت کے بعد اس میں کجی نہ پیدا ہونے دینا۔
وَهَبْ لِىْ مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً
اپنی بارگاہ سے مجھے رحمت عنایت فرما،
اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
تو بہترین عنایت کرنے والا ہے۔
وَاَجِرْنِىْ مِنَ النَّارِ بِرَحْمَتِكَ
اپنی رحمت سے مجھے جہنّم سے پناہ دے دے۔
اَللّٰهُمَّ امْدُدْلِىْ فِىْ عُمْرِىْ
خدایا میری قبر میں وسعت عنایت فرما۔
وَ اَوْسِعْ عَلَىَّ فِىْ رِزْقِىْ
میری روزی کو وسیع فرما دے
وَانْشُرْ عَلَىَّ مِنْ رَّحْمَتِكَ
اپنی رحمت کو مجھ پر شامل کردے۔
وَ اِنْ كُنْتُ عِنْدَكَ فِىْ اُمِّ الْكِتَابِ شَقِيًّا
اگر میں تیری بارگاہ میں بدبخت ہوں
فَاجْعَلْنِىْ سَعِيْدًا
تو مجھے نیک بخت بنا دے
فَاِنَّكَ تَمْحُوْمَا تَشَاۤءُ وَ تُثْبِتُ
اس لیے کہ سارا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے تو جس چیز کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے
وَ عِنْدَكَ اُمُّ الْكِتَابِ۔
اور جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے۔
۱۰شیخ طوسیؒ اور سید بن طاؤسؒ نے حضرت رسول اکرمؐ سے روایت کی ہے کہ جو شخص بھی ہر صبح و شام ایک بار کہے گا:۔
سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِہٖ
پاک ہے میرا رب اورحمد اسی کے لیے ہے
سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ۔
پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے۔
تو خداوند عالم جنت کی طرف ایک ملک بھیج دیتا ہے جو چاندی کا بیلچہ لئےہوئے جنت میں خالص مشک کی زمین میں اس کے واسطے درخت لگاتا ہے اور اس کے چاروں طرف دیوار بناکر اس میں دروازہ لگاتا ہے اور اس دروازے پر یہ لکھتا ہے کہ یہ فلاں بن فلاں کا باغ ہے۔ اور سیدؒ نے دوسری معتبر روایت میں حضرت صادقؑ سے روایت کی ہے کہ جو شخص یہ تسبیح بغیر عجب و ریا کے پڑھے گا خداوند عالم اس کے لئے ہزار حسنات ثبت کر دے گا اور اس کے واسطے ہزار شفاعتیں لکھے گا اور اس کے ہزار درجات بلند کرے گا۔ اور اس کے لئے ایک سفید مرغ پیدا کر ے گا جو قیامت تک یہ تسبیح پڑھتا رہے گا اور اس کا ثواب اسے ملتا رہے گا۔
۱۱قطب راوندیؒ نے حضرت امیرالمومنینؑ سے روایت کی ہے کہ حضرت رسولِؐ خدا نے فرمایا کہ جو شخص صبح ہونے کے بعد خداوند عالم کی چار نعمتوں کو یاد نہ کرے تو مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ا س سے نعمتِ خدا چھن نہ جائے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ عَرَّفَنِىْ نَفْسَهُ
ساری حمد اسی اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اپنی معرفت عنایت فرمادی
وَ لَمْ يَتْرُكْنِىْ عَمْيَانَ الْقَلْبِ
اور دل کا اندھا نہیں بنایا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ جَعَلَنِىْ مِنْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ
ساری حمد اللہ کے لیے جس نے مجھ کو پیغمبرؐ کی امّت میں بنایا
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ
درود و سلام ہو ان پر اور ان کی آل پر
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ جَعَلَ رِزْقِىْ فِىْ يَدَيْهِ
اور حمد اسی اللہ کے لیے جس نے میری روزی اپنے ہاتھ میں رکھی
وَ لَمْ يَجْعَلْ رِزْقِىْ فِىْ اَيْدِى النَّاسِ
اور لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں قرار دی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ سَتَرَ ذُ نُوْبِىْ وَ عُيُوْبِىْ
ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے جس نے میرے گناہوں پر پردہ ڈالا،
وَلَمْ يَفْضَحْنِىْ بَيْنَ الْخَلَايِقِ۔
میرے عیوب کو چھپا دیا اور مجھے لوگوں کے درمیان رسوا نہیں ہونے دیا۔
۱۲بلد الامین میں حضرت سلمان فارسیؒ سے روایت ہے کہ جو شخص بھی صبح ہونے کے بعد تین بار کہے:۔
کہے گا خداوند عالم اس سے ستّر طرح کی بلاؤں کو دفع کر دے گا جن میں سب سے چھوٹی بلا غم ہے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
حمد اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيْرًا
حمد اللہ کے لیے ہے بہت زیادہ حمد
طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ۔
پاک و پاکیزہ بابرکت حمد۔
۱۳شیخ کلینیؒ نے حضرت امام محمد باقرؑ سے معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ جب صبح ہو تو کہو:۔
اَصْبَحْتُ بِاللهِ مُؤْمِنًا
میں نے صبح کی خدا پر ایمان کے ساتھ
عَلٰى دِيْنِ مُحَمَّدٍ وَسُنَّتِهٖ
محمدؐ کے دین اور ان کی سنّت پر
وَدِيْنِ عَلِيٍّ وَ سُنَّتِهٖ
علیؑ کے دین اور ان کی سنّت پر
وَ دِيْنِ الْاَوْصِيَاۤءِ وَ سُنَّتِهِمْ
ان کے اوصیاء کے دین اور ان کی سنّت پر
اٰمَنْتُ بِسِّرِهِمْ وَ عَلَانِيَتِهِمْ
میں ان کے پوشیدہ اور ظاہر
وَ شَاهِدِهِمْ وَ غَاۤئِبِهِمْ
اور ان کے حاضر و غائب پر ایمان رکھتا ہوں
وَ اَعُوْذُ بِاللهِ مِمَّا اسْتَعَاذَ مِنْهُ رَسُوْلُ اللهِ
اور پناہ لیتا ہوں خدا کی اس چیز سے جس سے رسول اللہ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر
وَ عَلِىُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ
حضرت علی علیہ السلام
وَالْاَوْصِيَاۤءُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ
اور ان کے اوصیاء علیہم السلام نے خدا کی پناہ طلب کی
وَاَرْغَبُ اِلَى اللهِ فِيْمَا رَغِبُوْا اِلَيْهِ
اور ان چیزوں کی خدا سے رغبت کرتا ہوں جن میں انہوں نے رغبت کی۔
وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ۔
نہیں کوئی طاقت و قوّت مگر جو خدا سے ہے۔
۱۴شیخ کلینیؒ نے حضرت امام محمد باقرؑ سے صبح کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے اس دعا کو پڑھنے کی بہت فضیلت نقل کی ہے۔
اَللهُ اَكْبَرُ اَللهُ اَكْبَرُ كَبِيْرًا
اللہ بزرگ تر ہے، اللہ بزرگ تر ہے کبریائی میں
وَ سُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَ اَصِيْلًا
اور پاک و پاکیزہ ہے اللہ ہر صبح و شام
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ كَثِيْرًا
اور حمد اللہ کے لیے بہت حمد جو جہانوں کا پروردگار ہے
لَاشَرِيْكَ لَهُ
اس کا کوئی شریک نہیں
وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهٖ۔
اور خدا رحمت فرمائے محمدؐ و آل محمدؐ پر
۱۵حضرت امام جعفر صادقؑ سے بلد الامین میں روایت ہے کہ جو شخص اس دعا کو تین بار صبح پڑھے گا تو شام تک وہ بلا سے محفوظ رہے گا اور اگر شام کو پڑھے گا تو صبح تک ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔
بِسْمِ اللهِ الَّذِىْ لَايَضُرُّ مَعَ اِسْمِهِ شَىْءٌ
اس اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ
فِى الْاَرْضِ وَلَا فِى السَّمَاۤءِ
زمین و آسمان میں کوئی شئے نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے
وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔
وہ خدائے سمیع و علیم ہے۔
۱۶کلینیؒ ابن بابویہؒ اور دوسرے علماء نے موثق و معتبر سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ خداوند متعال نے حضرت نوحؑ کو اپنا بہت شاکر بندہ قرار دیا تھا کیونکہ آپؑ ہر صبح و شام یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اُشْهِدُكَ
خدایا میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ
اَنَّهُ مَا اَمْسٰى وَ اَصْبَحَ بِىْ مِنْ نِعْمَةٍ اَوْ عَافِيَةٍ فِىْ دِيْنٍ اَوْ دُنْيَا
صبح و شام مجھے جو بھی نعمت یا دین و دنیا کی عافیت ملی ہے وہ تیرے ہی طفیل میں ہے،
فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَاشَرِيْكَ لَكَ
تو خدائے وحدہٗ لا شریک ہے۔
لَكَ الْحَمْدُ وَ لَكَ الشُّكْرُ بِهَا عَلَىَّ
حمد تیرے لیے اور شکر تیرے لیے ہے
حَتّٰى تَرْضٰى اِلٰهَنَا۔
یہاں تک کہ تو ہم سے راضی ہوجائے
اور بعض روایات میں ہے کہ :۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّهُ مَا اَصْبَحَ بِىْ مِنْ نِّعْمَةٍ اَوْ عَافِيَةٍ فِىْ دِيْنٍ
اس صبح کی جو نعمت یا دین و
اَوْ دُنْيَا فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَاشَرِيْكَ لَكَ
دنیا کی عافیت میرے پاس ہے وہ سب تیرا ہی کرم ہے تو وحدہٗ لا شریک ہے۔
لَكَ الْحَمْدُ وَ لَكَ الشُّكْرُ بِهَا عَلَىَّ حَتّٰى تَرْضٰى وَ بَعْدَ الرِّضَا۔
تیرے لیے حمد اور تیرے لیے شکر ہے یہاں تک کہ تو ہم سے راضی ہو۔
دس بار پڑھے اور دونوں ہی بہتر ہیں۔