EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
اعمال روز جمعہ
یہ اعمال بہت ہے لیکن اس مقام پر صرف چند اعمال کا ذکر کیا جا رہاہے۔
۱جمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورۂ توحید پڑھے۔
۲نماز صبح کے بعد بغیر کوئی گفتگو کئے یہ دعا پڑھے تا کہ آئندہ جمعہ تک کے لئے اس کے گناہوں کا کفارہ قرار پائے
اَللّٰهُمَّ مَا قُلْتُ فِي جُمُعَتِيْ هٰذِهِ مِنْ قَوْلٍ
خدایا میں نے اس جمعہ میں جو بات کہی ہے
اَوْ حَلَفْتُ فِيْهَا مِنْ حَلْفٍ
یا جو بھی قسم کھائی ہے
اَوْ نَذَرْتُ فِيْهَا مِنْ نَذْرٍ
یا جو بھی نذر کی ہے
فَمَشِيَّتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذٰلِكَ كُلِّهِ
ان سب پر میری مشیّت حاوی ہے
فَمَا شِئْتَ مِنْهُ اَنْ يَّكُوْنَ كَانَ
تو جو بھی چاہے وہ ہوجائے گا
وَ مَا لَمْ تَشَأْ مِنْهُ لَمْ يَكُنِ
اور نہ چاہے گا تو وہ انجام نہیں پاسکتا ہے۔
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَ تَجَاوَزْ عَنِّي
خدایا میرے گناہوں کو معاف کردے۔
اَللّٰهُمَّ مَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ فَصَلَوَاتِي عَلَيْهِ
خدایا جس پر تو صلوات بھیجے اس پر میری صلوات ہے۔
وَ مَنْ لَعَنْتَ فَلَعْنَتِيْ عَلَيْهِ۔
اور جس پر تیری لعنت ہے اس پر میری بھی لعنت ہے۔
کم سے کم ہرمہینہ میں ایک مرتبہ کو اس عمل کو انجام دے۔
روایت میں ہے کہ جو بھی جمعہ کے دن نماز صبح کے بعد مصلے پر بیٹھ کر طلوع آفتاب تک تعقیبات میں مشغول رہے گا پروردگار عالم جنت میں اس کے لئے ستّر درجات بلند فرمائے گا۔
شیخ طوسیؒ نے روایت کی ہے کہ سنت ہے کہ نماز صبح کی تعقیبات میں روز جمعہ یہ دعا پڑھے
اَللّٰهُمَّ اِنِّي تَعَمَّدْتُ اِلَيْكَ بِحَاجَتِي
پروردگارا میں نے تیری بارگاہ کا ارادہ کیا ہے اپنی حاجتوں کے ساتھ
وَ اَنْزَلْتُ اِلَيْكَ الْيَوْمَ فَقْرِيْ
اور اپنے فقر و
وَ فَاقَتِيْ وَ مَسْكَنَتِيْ
فاقہ اور اپنی مسکینی سے خود کو تیرے سامنے ڈال دیا ہے
فَاَنَا لِمَغْفِرَتِكَ اَرْجٰى مِنِّي لِعَمَلِيْ
میں اپنے عمل سے زیادہ تیری مغفرت کی امید رکھتا ہوں
وَ لِمَغْفِرَتُكَ وَ رَحْمَتُكَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِيْ
اور جانتا ہوں کہ تیری مغفرت اور رحمت میرے گناہوں سے زیادہ وسیع تر ہے۔
فَتَوَلَّ قَضَاۤءَ كُلِّ حَاجَةٍ لِيْ بِقُدْرَتِكَ عَلَيْهَا
خدایا اپنی قدرتِ کاملہ سے میری تمام حاجتوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری لے لے۔
وَ تَيْسِيْرِ [تَيَسُّرِ] ذٰلِكَ عَلَيْكَ
یہ تیرے لیے بہت آسان ہے
وَ لِفَقْرِيْ اِلَيْكَ
اور میں اس کا محتاج بھی ہوں۔
فَاِنِّي لَمْ اُصِبْ خَيْرًا قَطُّ اِلَّا مِنْكَ
مجھے کوئی خیر تیرے علاوہ کہیں سے نہیں ملا ہے
وَ لَمْ يَصْرِفْ عَنِّي سُوۤءًا قَطُّ اَحَدٌ سِوَاكَ
اور نہ کسی شر کو تیرے علاوہ کوئی دفع کرسکتا ہے۔
وَ لَسْتُ [لَيْسَ‏] اَرْجُوۤ لِاٰخِرَتِي وَ دُنْيَايَ
اور میں اپنی دنیا و آخرت اور غربت و تنہائی کے بارے میں تیرے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا
وَ لَا لِيَوْمِ فَقْرِيْ
اور نہ اس دن جس دن
يَوْمَ يُفْرِدُنِي النَّاسُ فِي حُفْرَتِيْ
مجھے لوگ قبر میں اکیلا چھوڑ جائیں گے
وَ اُفْضِيْ اِلَيْكَ بِذَنْبِيْ سِوَاكَ۔
اور تیری بارگاہ میں آنا ہوگا تیرے علاوہ کسی سے کوئی امید نہیں رکھتا ہوں۔
۳روایت میں ہے کہ جو شخص بھی نماز صبح اور نماز ظہر کے بعد روز جمعہ یا غیر روز جمعہ یہ صلوات پڑھے گا اللہم صل علیٰ محمد و آل محمد و عجل فرجھم،وہ مرنے سے پہلے حضرت حجت کی خدمت میں ضرور حاضر ہو گا اور اگر سو۱۰۰ مرتبہ اس صلوات کو پڑھے تو پروردگار عالم اس کی تیس دنیاوی اور تیس اخروی حاجتوں کو پورا فرمائے گا۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ۔
اے معبود محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور ان کے آخر کے ظہور میں تعجیل فرما۔
۴نماز صبح کے بعد سورۂ رحمان پڑھے اور فبایِّ الٰاءِ ربکما تُکذبان کے بعد کہے لا بشیءِِ مّن اٰلائک ربّ اُکذّبُ یعنی میں پروردگار کی کسی بھی نعمت کا انکار نہیں کرتا ہوں۔
۵شیخ طوسیؒ نے فرمایا ہے کہ روز جمعہ نماز صبح کے بعد مستحب ہے کہ سو ۱۰۰مرتبہ سورۂ توحید اور سو ۱۰۰مرتبہ صلوات اور سو ۱۰۰صلوات پڑھے اور اس کے بعد سورۂ نساء ، سورۂ ہود، کہف ، صافات اور سورۂ رحمان کی تلاوت کرے۔
سورۂ احقاف اور سورۂ مومنون ۶ کی تلاوت کرے کہ امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص بھی شب جمعہ یا روز جمعہ روز احقاف کی تلاوت کرے گا اسے کسی طرح کا خوف نہیں ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ آپؑ نے فرمایا کے جو شخص روز جمعہ پابندی کے ساتھ سورۂ مومنوں پڑھے گا پروردگاراس کا انجام بخیر کرے گا اور وہ خود انبیاء و مرسلین کی رفاقت میں ہو گا۔
۷ طلوع آفتاب سے پہلے دس مرتبہ قل یا ایہا الکافرون کی تلاو ےکرے اور اس کے بعد دعا کرے تو اس کی دعا مستجاب ہو گی۔روایت میں ہے کہ امام زین العابدینؑ صبح روز جمعہ آیت الکرسی کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ظہر تک،نمازوں سے فارغ ہو جایا کرتے تھے تو سورۂ اناانزلناہ کی تلاوت شروع کر دیتے تھے۔واضح رہے کہ روز جمعہ آیت الکرسی کی تلاوت بہترین فضائل کی حامل ہے،علامہ مجلسیؒ کی روایت کی بنا پر اس کی شکل یہ ہو گی۔اللہ لا اله الا ھو الحی القیوم۔۔۔ھُم فیھا خلدون تک اور اس کے بعد کہے۔۔الحمد للہِ رب العٰلمین
۸ روز جمعہ غسل کرے کہ یہ سنت موکدہ ہے۔ روایت میں ہے کہ رسول اکرمؐ نے امیر المومنینؑ سے فرمایا کہ یا علیؑ جمعہ کے دن اپنا روز کا کھانا بیچ کر پانی خریدنا پڑے تو بھی انسانوں کو بھوکا رہنا چاہئے کہ اس سے بہتر کوئی سنت نہیں۔
امام جعفر صادقؑ سے نقل کی گیاہےکہ جو شخص بھی روز جمعہ غسل کرے اور یہ دعا پڑھے
اَشْهَدُ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اس خدا کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے
وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے
وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدؐ اس کے بندہ اور رسول ہیں۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ
اور مجھے توبہ کرنے والوں میں
وَ اجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ۔
اور پاک رہنے والوں میں قرار دے دے۔
ایسا شخص آئندہ جمعہ تک گناہوں سے پاک وپاکیزہ رہے گا اور اسے ایک معنوی طہارت حاصل ہوگی۔احتیاط یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو غسل جمعہ کو ترک نہ کرے اور اس کا وقت طلوع آفتاب سے زوال آفتاب تک ہے اور جس قدر بھی زوال سے نزدیک تر ہو زیادہ بہتر ہے۔
۹اپنے سر کو خطمی سے دھوئے کہ اس طرح انسان دیوانگی اور برص سے محفوظ رہتا ہے۔
۱۰ناخن اور مونچھیں تراشے کہ اس کی بہت زیادہ فضیلت ہے اور اس سے روزی میں اضافہ ہوتا ہے اور انسان آئندہ جمعہ تک گناہوں سے پاک رہتا ہے اور دیوانگی، برص، جذام وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے، اور اس وقت میں بسم اللہ و باللہ و علیٰ سنّة محمد و آل محمدِِ کہنا بھی بہتر ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ
خدا کے نام
وَ بِاللّٰهِ
اور اس کی ذات کے ذکر سے
وَ عَلٰى سُنَّةِ مُحَمَّدٍ [رَسُوْلِ اللّٰهِ ‏] وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔
اور محمدؐ و آل محمدؐ کی سیرت کے مطابق ابتدا کرتا ہوں
ناخن کاٹتے وقت بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر ختم کرے اور اسی طرح پیر کا ناخن بھی کاٹےاور پھر ناخنوں کو دفن کردے۔
۱۱خوشبو استعمال کرے اور پاکیزہ لباس پہنے۔
۱۲صدقہ دے کہ روایت کی بنا پر شب جمعہ اور روز جمعہ کا صدقہ دیگر اوقات کے ہزار صدقات کے برابر ہے۔
۱۳اپنے اہل و عیال کے لئے اچھی چیزیں میوہ اور گوشت وغیری فراہم کرے کہ وہ جمعہ کی آمد سےخوشحال ہو جائیں۔
۱۴ناشتے کے وقت انار کھائے اور کاسنی کے سات پتّے زوال سے پہلے کھالے کہ امام موسیٰ بن جعفرؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن ناشتے کے وقت انار کھا لے گا اس کادل چالیس دن تک نورانی رہے گا اور اگر دو انار کھائے گا تو اسّی ۸۰دن تک اور اگر تین انار کھائے گا تو ایک سو بیس ۱۲۰دن تک شیطان کے وسوسے سے محفوظ رہے گا، اور جو وسوسۂ شیطانی سے محفوظ ہو جائے وہ پھر گناہ نہیں کر سکتا اور جو گناہ نہیں کرے گا وہ بہرحال داخل بہشت ہو جائے گا۔
شیخؒ نے مصباح مین فرمایا ہے کہ روز جمعہ اور شب جمعہ انار کھانے کی بے پناہ فضیلت ہے۔
۱۵اپنے کو دنیا کے کاموں سے الگ رکھے اور مسائل دین کے سیکھنے میں مشغول ہوجائے۔ جمعہ کے دن کو سیر وسیاحت، باغوں میں تفریح اور ایسے پست لوگوں کے ساتھ نشست و برخاست میں برباد نہ کرے جن کا کام سوائے مسخرہ پن اور لوگوں کی عیب جوئی اور فضول باتوں کے کچھ نہ ہو۔ قہقہہ لگانا، شعر پڑھنا، مہمل باتوں میں مشغول ہونا اتنے مفاسدرکھتا ہے جن کا تذکرہ بھی نہیں کیاجا سکتا ہے۔
امام صادقؑ نے فرمایا ہے کہ حیف ہے اس مسلمان پر کو ہفتہ میں روز جمعہ کو اپنے دین کے مسائل سیکھنے صرف نہ کرے اور اپنے وقت کو دین کے لئے خالی نہ رکھ سکے۔
رسول اکرمؐ سے منقول ہے کہ جب دیکھو کہ روز جمعہ کوئی بوڑھا انسان تاریخ جاہلیت و کفر کو لوگوں کے لئے بیان کر رہا ہے تو سمجھو کہ ایسا آدمی سنگسار کر دئیے جانے کے قابل ہے۔
۱۶ہزار مرتبہ صلوات پڑھے کہ امام محمد باقرؑ نے فرمایا ہے کہ روز جمعہ میرے نزدیک محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں ہے۔
مؤلف: اگر ہزار مرتبہ نہ پڑھ سکے تو کم سے کم سو مرتبہ ضرور پڑھے کہ قیامت کے دن اس کا چہرہ نورانی ہوگا۔ روایت میں ہے کہ جو شخص بھی روز جمعہ سو مرتبہ صلوات پڑھے گااور سو مرتبہ
اَستَغفِرُاللهَ رَبِّی وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ۔
میں اپنے رب سے مغفرت کا طالب ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
کہے گا اور سو مرتبہ سورۂ توحید پڑھے گا وہ یقیناً بخش دیاجائے گا۔
روایت میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ ظہر و عصر روز جمعہ کے درمیان ستّر ۷۰حج کا ثواب رکھتا ہے۔
۱۷رسول اکرمؐ اور آئمہ طاہرینؑ کی زیارت پڑھے جس کا تذکرہ باب زیارت میں کیا جائے گا
۱۸اموات کی زیارت اور خصوصیت کےساتھ والدین کی قبر کی زیارت کے لئے جائے کہ اس میں بے حد فضیلت ہے۔ امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ روز جمعہ اپنے مرنے والوں کی قبروں کی زیارت کرو کہ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ کون ان کی زیارت کے لئے آیا اور وہ اس طرح خوشحال ہو جاتے ہیں۔
۱۹ دعائے ندبہ کی تلاوت کرے کہ یہ چاروں عیدوں کے اعمال میں شامل ہے اور اس کا ذکر اپنے مقام پر کیا جائے گا۔