EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
نماز حضرت جعفر طیار علیہ السلام
اس نماز کو اکسیر اعظم اور قربت احمر سے تعبیر کیا گیا ہے اور انتہائی معتبر اسناد کے ساتھ اس کے بیشمار فضائل وارد ہوئے ہیں جن میں بڑے بڑے گناہوں کی بخشش بھی شامل ہے۔ اس کا بہترین وقت روز جمعہ کا آغازہے۔ یہ چار رکعت نماز ہے دو تشہد و سلام کے ساتھ۔ پہلی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد اذاذلزلت الارض، دوسری رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سورۂ والعادیات، تیسری رکعت میں حمد کے بعد سورۂ اذا جاء نصراللہ اور چوتھی رکعت میں حمد کے بعد قل ھو اللہ۔ اور ہر رکعت میں قرأت کے بعد پندرہ مرتبہ:۔
سُبْحَانَ اللّٰهِ
پاک و پاکیزہ ہے وہ خدا
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ
اور حمد اسی کے لئے ہے۔
وَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
وَ اللهُ اَكْبَرُ۔
وہ سب سے بزرگ ہے۔
اس کے بعد رکوع میں ، رکوع کے سر اٹھانے کے بعد پہلے سجدہ میں ، دونوں سجدوں کے درمیان، دوسرے سجدہ میں، دوسرے سجدہ کے بعد دس دس مرتبہ یہی تسبیحات پڑھے جس کا مجموعہ ہر رکعت میں ۷۵ مرتبہ ہو گا۔ شیخ کلینیؒ نے ابو سعید مدائنی سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کیا تمہیں ایسی چیز تعلیم نہ دوں جس کو تم نماز جعفر طیار میں پڑھا کرو تو میں نے عرض کی کہ بے شک۔ فرما یاجب چوتھی رکعت کے آخری سجدہ میں جاؤ تو تسبیحات اربعہ کے بعد یہ دعا پڑھو۔
سُبْحَانَ مَنْ لَبِسَ الْعِزَّ وَ الْوَقَارَ
پاکیزہ ہے وہ جس کا لباس عزّت اور وقار ہے،
سُبْحَانَ مَنْ تَعَطَّفَ بِالْمَجْدِ وَ تَكَرَّمَ بِهِ
پاکیزہ ہے وہ جو مہربانی اور کرم کرنے والا ہے۔
سُبْحَانَ مَنْ لَا يَنْبَغِيْ التَّسْبِيْحُ اِلَّا لَهُ
پاکیزہ ہے وہ جس کے علاوہ کوئی لائقِ تسبیح نہیں ہے۔
سُبْحَانَ مَنْ اَحْصٰى كُلَّ شَيْ‏ءٍ عِلْمُهُ
پاکیزہ ہے وہ جس کا علم ہے شئے کا احصاء کیے ہوئے ہے۔
سُبْحَانَ ذِي الْمَنِّ وَ النِّعَمِ
پاکیزہ ہے وہ جو صاحبِ احسان و نعمت ہے۔
سُبْحَانَ ذِي الْقُدْرَةِ وَ الْكَرَمِ
پاکیزہ ہے وہ جو صاحبِ قدرت و کرم ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ
خدایا میں تیرے عرش اعظم کے مقامات عزّت و جلالت
وَ مُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ
اور تیری کتاب کے انتہائے رحمت کے وسیلہ سے
وَ اسْمِكَ الْاَعْظَمِ
اور تیرے اسمِ اعظم
وَ كَلِمَاتِكَ التَّآمَّةِ
اور تیرے کلماتِ تامہ کے ذریعہ سے
الَّتِي تَمَّتْ صِدْقًا وَ عَدْلًا
جو صدق و عدل کے ساتھ تمام ہوئے ہیں
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اَهْلِ بَيْتِهِ
یہ سوال کرتا ہوں کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرمادے اور ہماری حاجتوں کو پورا فرمادے
وَ افْعَلْ بِيْ كَذَا وَ كَذَا۔
(اس کی جگہ حاجت طلب کرے)۔
اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرے ۔
شیخ ؒ اور سید ؒ نے مفضل بن عمر سے روایت کی ہے کہ میں نے امام جعفر صادقؑ کو دیکھا کہ آپ نے نماز جعفر طیار تمام کرنے بعد ہاتھوں کو بلند کیا اور اس طرح دعا پڑھی ایک سانس کے برابر
«يَا رَبِّ يَا رَبِّ»
اے میرے رب! اے میرے رب!
ایک سانس کے برابر
«يَا رَبَّاهُ يَا رَبَّاهُ»
اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار!
ایک سانس کے برابر
«رَبِّ رَبِّ»
میرے رب ! میرے رب!
ایک سانس کے برابر
«يَا اَللهُ يَا اَللهُ»
اے اللہ ! اے اللہ !
ایک سانس کے برابر
«يَا حَىُّ يَا حَىُّ»
اے زندہ ! اے زندہ!
ایک سانس کے برابر
«يَا رَحِيْمُ يَا رَحِيْمُ»
اے مہربان ! اے مہربان!
سات مرتبہ
«يَا رَحْمٰنُ يَا رَحْمٰنُ»
اے بڑے رحم والے! اے بڑے رحم والے!
سات مرتبہ
«يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ»
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے !
اس کے بعد آپ نے یہ دعا پڑھی۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَفْتَتِحُ الْقَوْلَ بِحَمْدِكَ
خدایا میں اپنی گفتگو کا آغاز تیری حمد سے کرتا ہوں
وَ اَنْطِقُ بِالثَّنَاۤءِ عَلَيْكَ
اور تیری بزرگی بیان کرتا ہوں کہ
وَ اُمَجِّدُكَ وَ لَا غَايَةَ لِمَدْحِكَ
تیری مدح کی کوئی انتہا نہیں ہے۔
وَ اُثْنِيْ عَلَيْكَ وَ مَنْ يَبْلُغُ غَايَةَ ثَنَاۤئِكَ وَ اَمَدَ مَجْدِكَ
میں تیری ثنا ضرور کرتا ہوں لیکن تیری ثنا کی حد اور تیری بزرگی کی انتہا کو کون پاسکتا ہے
وَ اَنَّى لِخَلِيْقَتِكَ كُنْهُ مَعْرِفَةِ مَجْدِكَ
اور مخلوقات کے بس میں کہاں ہے کہ تیری بزرگی کو پہچان سکیں۔
وَ اَيَّ زَمَنٍ لَمْ تَكُنْ مَمْدُوْحًا بِفَضْلِكَ
وہ کون سا زمانہ تھا جب تو اپنے فضل سے قابلِ مدح،
مَوْصُوْفًا بِمَجْدِكَ
اپنی بزرگی سے لائقِ توصیف
عَوَّادًا عَلَى الْمُذْنِبِيْنَ بِحِلْمِكَ
اور اپنے حلم سے گناہگاروں پر مسلسل مہربانی کرنے والا نہیں تھا۔
تَخَلَّفَ سُكَّانُ اَرْضِكَ عَنْ طَاعَتِكَ
زمین کے باشندوں نے تیری اطاعت سے تخلّف کیا
فَكُنْتَ عَلَيْهِمْ عَطُوْفًا بِجُوْدِكَ
لیکن تو اپنے کرم سے مہربان ہے
جَوَادًا بِفَضْلِكَ
اپنے فضل سے احسان کرنے والا
عَوَّادًا بِكَرَمِكَ
اور اپنے کرم کو مسلسل شاملِ حال کرنے والا ہے۔
يَا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ الْمَنَّانُ
اے وہ خدا جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے
ذُو الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ۔
جو انتہائی احسان کرنے والا اور صاحبِ جلال و اکرام ہے۔
اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ اے مفضل جب بھی کوئی حاجت در پیش ہو تو نماز جعفر طیا رادا کر کے اس دعا کو پڑھو اور پروردگار سے حاجت طلب کرو۔ انشہ حاجت پوری ہو جائے گی۔
مؤلف : شیخ طوسیؒ نے حاجت برآری کہ لئے امام صادقؑ سے روایت کی ہے کہ بدھ، جمعرات ، جمعہ کو روزہ رکھو اور جمعرات کےدن جب شام تک وقت ہو جائے تو دس مساکین کو تین پاؤ فی کس کے حساب دے صدقہ دو اور جمعہ کے دن غسل کر کے صحرا میں جا کر نماز جعفر طیار ادا کرو اور پھر گھٹنے کھول کر زمین سے ملا کر یہ دعا پڑھو۔
يَا مَنْ اَظْهَرَ الْجَمِيْلَ
اے وہ پروردگار جس نے نیکیوں کا اظہار کیا
وَ سَتَرَ [عَلَيَ‏] الْقَبِيْحَ
اور برائیوں کی پردہ پوشی کردی،
يَا مَنْ لَمْ يُؤَاخِذْ بِالْجَرِيْرَةِ
اے وہ مالک جس نے جرائم کا مواخذہ نہیں کیا
وَ لَمْ يَهْتِكِ السِّتْرَ
اور عیوب کا پردہ چاک نہیں کیا
يَا عَظِيْمَ الْعَفْوِ
اے عظیم عفو والے،
يَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ
اے بہترین درگذر کرنے والے۔
يَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ
اے وسیع مغفرت والے۔
يَا بَاسِطَ الْيَدَيْنِ بِالرَّحْمَةِ
اے دونوں ہاتھوں سے رحمت عطا کرنے والے۔
يَا صَاحِبَ كُلِّ نَجْوٰى
اے ہر مخفی راز کے ہمراز
وَ مُنْتَهٰى كُلِّ شَكْوٰى
اور ہر فریاد کی آخری منزل۔
يَا مُقِيْلَ الْعَثَرَاتِ
اے لغزش سے سنبھالنے والے۔
يَا كَرِيْمَ الصَّفْحِ
اے بہترین معاف کرنے والے۔
يَا عَظِيْمَ الْمَنِّ
اے عظیم احسان والے۔
يَا مُبْتَدِئًا بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقَاقِهَا
اے استحقاق سے پہلے عطا کرنے والے۔
يَا رَبَّاهُ يَا رَبَّاهُ يَا رَبَّاهُ،
اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار!
اس کے بعد دس مرتبہ
«يَا اَللهُ يَا اَللهُ يَا اَللهُ‏»
اے اللہ ! اے اللہ ! اے اللہ !
اس کے بعد دس مرتبہ
«يَا سَیِّدَاهُ يَا سَيِّدَاهُ»
اے میرے سید و سردار ! اے میرے سید و سردار !
اس کے بعد دس مرتبہ
«يَا مَوْلَايَاهُ،يَا مَوْلَايَاهُ»
اے میرے مولا ! اے میرے مولا !
اس کے بعد دس مرتبہ
«يَا رَجَاۤءَاهُ»
اے میری امید!
اس کے بعد دس مرتبہ
«يَا غِيَاثَاهُ»
اے پناہ دینے والے !
اس کے بعد دس مرتبہ
«يَا غَايَةَ رَغَبَتَاهُ»
اے میری رغبت کی انتہا!
اس کے بعد دس مرتبہ
«يَا رَحْمٰنُ»
اے رحمٰن!
اس کے بعد دس مرتبہ
«يَا رَحِيْمُ»
اے رحیم!
اس کے بعد دس مرتبہ
«يَا مُعْطِىَ الْخَيْرَاتِ»
اے بھلائیاں عطا کرنے والے!
اس کے بعد دس مرتبہ
«صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر زیادہ و پاکیزہ رحمت فرما
كَثِيْرًا طَيِّبًا
جیسی بہترین
كَاَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ عَلٰى اَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ»
رحمت تو نے اپنی مخلوق میں کسی پر کی ہے۔
مؤلف کا بیان ہے کہ ان تین دنوں میں روزہ اور روز جمعہ وقت زوال دو رکعت نماز حاجت میں بکثرت روایات وارد ہوئی ہیں۔