میں اس خدا سے استغفار کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے،
الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ
اور وہ حی و قیوم،
اَلرَّحْمَنُ الرَّحِيْمُ
رحمان و رحیم
ذُو [ذَا] الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ
اور صاحب جلال و اکرام ہے
وَ اَسْاَلُهُ اَنْ يَتُوْبَ عَلَيَّ
اوراس سے سوال کرتا ہوں کہ
تَوْبَةَ عَبْدٍ ذَلِيْلٍ خَاضِعٍ
میری توبہ کو اس طرح قبول کر لے جس طرح کہ ایک بندہ ذلیل و حقیر و
فَقِيْرٍ بَاۤئِسٍ
فقیر و پریشان حال و
مِسْكِيْنٍ مُسْتَكِيْنٍ مُسْتَجِيْرٍ
مسکین،بیچارہ و طالب پناہ کی دعا قبول کی جاتی ہے
لَا يَمْلِكُ لِنَفْسِهِ نَفْعًا وَ لَا ضَرًّا
جس کے پاس نہ کسی فائدہ کا اختیار ہو اور نہ نقصان کا
وَ لَا مَوْتًا وَ لَا حَيَاةً وَ لَا نُشُوْرًا
نہ موت کا اختیار نہ زندگی کا اور نہ حشر و نشر کا
اس کے بعد یہ کہے
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ
خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو،
وَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ
اس دل سے جس میں خشوع نہ ہو،
وَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ،
اس علم سے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو،
وَ مِنْ صَلَاةٍ لَا تُرْفَعُ
اس نماز سے جو تیری بارگاہ تک پہنچ نہ سکے
وَ مِنْ دُعَاۤءٍ لَا يُسْمَعُ
اور اس دعا سے جو قابل قبول نہ ہو۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ الْيُسْرَ بَعْدَ الْعُسْرِ
خدایا میں زحمت کے بعد آسانی،
وَ الْفَرَجَ بَعْدَ الْكَرْبِ
تنگی کے بعد وسعت
وَ الرَّخَاۤءَ بَعْدَ الشِّدَّةِ
اور شدت کے بعد سہولت کا طلب گار ہوں۔
اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْكَ
میرے پاس جو نعمت بھی ہے وہ تیری ہی دی ہوئی ہے،
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
تیرے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے۔
اَسْتَغْفِرُكَ وَ اَتُوْبُ اِلَيْكَ۔
میں تجھ ہی سے استغفار کر رہا ہوں اور تیری ہی بارگاہ میں توبہ کر رہا ہوں۔
امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی نماز عصر کے بعد ستّر ۷۰مرتبہ استغفار کرے۔پروردگار عالم اس کے سات سو ۷۰۰ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ امام محمد تقیؑ سے روایت کی گئی ہے کہ جو شخص نماز عصر کے بعد دس ۱۰مرتبہ سورہ انا انزلناہ کی تلاوت کرے اسے روز قیامت پروردگار اس دن کی تمام عمل کرنے والوں کا اجر عنایت فرمائے گا۔ اس کے علاوہ ہر صبح و شام اور خصوصاً روز جمعہ کے وقت دعائے عشرات کا پڑھنا مستحب ہے اور اس کا ذکر اس کے بعد کیا جائے گا۔