اللہ کا کامل و تأم
الشَّامِلُ الْعَآمُّ
و شامل و عام سلام
وَ صَلَوَاتُهُ الدَّاۤئِمَةُ
اور اللہ کی دائمی صلوات
وَ بَرَكَاتُهُ الْقَاۤئِمَةُ التَّآمَّةُ
اور اس کی ہمیشہ رہنے والی کامل برکت
عَلٰى حُجَّةِ اللّٰهِ
اس حجّت خدا پر جو
وَ وَلِيِّهِ فِيْۤ اَرْضِهِ وَ بِلَادِهِ
اس کے شہروں میں اس کا ولی ہے
وَ خَلِيْفَتِهِ عَلٰى خَلْقِهِ وَ عِبَادِهِ
اور اس کی مخلوقات اور بندوں میں اس کا خلیفہ ہے
وَ سُلَالَةِ النُّبُوَّةِ
نبوت کا خلاصہ
وَ بَقِيَّةِ الْعِتْرَةِ وَ الصَّفْوَةِ
عترت کا بقیہ، اللہ کا منتخب بندہ،
صَاحِبِ الزَّمَانِ
صاحب الزمانؑ،
وَ مُظْهِرِ الْاِيْمَانِ
ایمان کا ظاہر کرنے والا،
وَ مُلَقِّنِ [مُعْلِنِ] اَحْكَامِ الْقُرْاٰنِ
احکام و قرآن کی تلقین کرنے والا،
وَ مُطَهِّرِ الْاَرْضِ
زمین کو پاک کرنے والا
وَ نَاشِرِ الْعَدْلِ فِيْ الطُّوْلِ وَ الْعَرْضِ
اور طول و عرض میں عدل و انصاف کا پھیلانے والا۔
وَ الْحُجَّةِ الْقَاۤئِمِ الْمَهْدِيِّ
حضرت محمد قائم مہدیؑ،
الْاِمَامِ الْمُنْتَظَرِ الْمَرْضِيِّ [الْمُرْتَضٰى]
امام منتظرؑ مرضی،
وَ ابْنِ الْاَئِمَّةِ الطَّاهِرِيْنَ
فرزندِ ائمۂ طاہرینؑ
اَلْوَصِيِّ ابْنِ الْاَوْصِيَاۤءِ الْمَرْضِيِّيْنَ
وصیٔ ابن الاوصیاء،
اَلْهَادِيْ الْمَعْصُوْمِ
ہادیٔ معصوم،
ابْنِ الْاَئِمَّةِ الْهُدَاةِ الْمَعْصُوْمِيْنَ
فرزندِ ائمۂ ہداۃِ معصومینؑ ہیں۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُعِزَّ الْمُؤْمِنِيْنَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ
سلام ہو آپ پر اے کمزور مومنوں کو عزّت دینے والے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُذِلَّ الْكَافِرِيْنَ الْمُتَكَبِّرِيْنَ الظَّالِمِيْنَ،
سلام ہو آپ پر اے ظالم متکبّر کافروں کو ذلیل کرنے والے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَايَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ
سلام ہو آپ پر اے میرے مولا صاحب الزمانؑ۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر اے فرزند رسولؐ۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ
سلام ہو آپ پر اے فرزند امیر المومنینؑ۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ فَاطِمَةَ الزَّهْرَاۤءِ
سلام ہو آپ پر اے فرزند فاطمہ زہراؑ
سَيِّدَةِ نِسَاۤءِ الْعَالَمِيْنَ
سیدۂ نساء العالمین۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ الْاَئِمَّةِ الْحُجَجِ الْمَعْصُوْمِيْنَ
سلام ہو آپ پر اے فرزندِ ائمۂ حججِ معصومینؑ۔
وَ الْاِمَامِ عَلَى الْخَلْقِ اَجْمَعِيْنَ
اور تمام مخلوقات پر اللہ کی طرف سے امام۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَايَ
سلام ہو آپ پر اے میرے مولا۔
سَلَامَ مُخْلِصٍ لَكَ فِيْ الْوِلَايَةِ
اے بندہ کا سلام جو ولایت میں مخلص ہے
اَشْهَدُ اَنَّكَ الْاِمَامُ الْمَهْدِيُّ قَوْلًا وَ فِعْلًا
میں گوہی دیتا ہوں کہ آپ قول و فعل میں امام مہدی ہیں
وَ اَنْتَ الَّذِيْ تَمْلَاُ الْاَرْضَ قِسْطًا وَ عَدْلًا
اور آپ ہی زمین کو ظلم وجور کے بعد
بَعْدَ مَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَ جَوْرًا
عدل و انصاف سے بھرنے والے ہیں۔
فَعَجَّلَ اللهُ فَرَجَكَ
اللہ آپ کے ظہور میں تعجیل فرمائے
وَ سَهَّلَ مَخْرَجَكَ،
اور آپ کے خروج کو آسان بنا دے
وَ قَرَّبَ زَمَانَكَ
آپ کے زمانہ کو قریب تر بنا دے
وَ كَثَّرَ اَنْصَارَكَ وَ اَعْوَانَكَ
اور آپ کے انصار و اعوان کو کثیر قرار دے دے
وَ اَنْجَزَ لَكَ مَا وَعَدَكَ
اس وعدہ کو پورا کر دے
فَهُوَ اَصْدَقُ الْقَاۤئِلِيْنَ
جو آپ سے کیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے
وَ نُرِيْدُ اَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِيْ الْاَرْضِ
اور اس کا وعدہ ہے کہ جنھیں روئے زمین پر کمزور بنا دیا گیا ہے ہم ان پر احسان کریں گے
وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِيْنَ
اور ان کو امام، اور زمین کا وارث بنائیں گے۔
يَا مَوْلَايَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ
میرے مولا حضرت صاحب الزمانؑ
يَا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ
فرزند رسولؐ
حَاجَتِيْ كَذَا وَ كَذَا۔
یہ ہماری حاجتیں ہیں۔
یہ کہہ کر اپنی حاجتیں بیان کرے۔
فَاشْفَعْ لِيْ فِيْ نَجَاحِهَا
آپ پروردگار کی بارگاہ میں
فَقَدْ تَوَجَّهْتُ اِلَيْكَ بِحَاجَتِيْ
ان کے پورے ہونے کی سفارش فرمائیے۔
لِعِلْمِيْۤ اَنَّ لَكَ عِنْدَ اللّٰهِ شَفَاعَةً مَقْبُوْلَةً
ہم ان حاجتوں کو لے کر یہ جانتے ہوئے کہ اللہ کے نزدیک آپ کی شفاعت مقبول ہے
وَ مَقَامًا مَحْمُوْدًا
آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں
فَبِحَقِّ مَنِ اخْتَصَّكُمْ بِاَمْرِهِ
اس خدائے برحق کا واسطہ جس نے آپ کو اپنے امر کے لیے مخصوص کیا ہے
وَ ارْتَضَاكُمْ لِسِرِّهِ
اور اپنے راز کے لیے پسندیدہ قرار دیا ہے
وَ بِالشَّأْنِ الَّذِيْ لَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُ
اور شان کا واسطہ جو آپ حضرات کے لئے پروردگار کے نزدیک ہے۔
سَلِ اللهَ تَعَالٰى فِيْ نُجْحِ طَلِبَتِيْ
پروردگار سے دعا کریں کے وہ ہماری حاجتوں کو پورا فرما دے
وَ اِجَابَةِ دَعْوَتِيْ
ہماری دعا کو قبول کرے
وَ كَشْفِ كُرْبَتِيْ۔
اور ہمارے رنج و غم کو دور کر دے۔
اس کے بعد جو بھی چاہے حاجت طلب کرے انشاء اللہ پوری ہو گی۔
مؤلف کا کہنا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ اس استغاثہ کی نماز میں پہلی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد انا فتحنا پڑھے اور دوسری رکعت میں سورۂ اذا جاء ٓ نصر اللہِ ۔