EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
سچا واقعہ : قبول حاجات
مؤلّف کا بیان ہے کہ ہمارے استاد ثقۃ الاسلام نوری خدا ان کی قبر کو نورانی کرے نے کتاب ‘‘دارالسّلام’’میں اپنے استاد مرحوم خلد مقام، عالم ربّانی الحاج ملّا فتح علی سلطان آبادی سے نقل کیا ہے کہ فاضل مقدّس آخوند ملّا محمد صادق عراقی، انتہائی سختی، پریشانی اور بدحالی کے عالم میں تھے اور کوئی راستہ آسائش و آرام کا نہیں تھا، یہاں تک کہ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ ایک وادی میں ایک عظیم خیمہ نصب ہے اور پوچھا کہ یہ خیمہ کس کا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ لوگوں کے فریاد رس اور مومنین کے پناہ دہندہ حضرت امام منتظر عجل اللہ فرجہ کا خیمہ ہے۔ پھر فوراً حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے حالات کی سختی کا ذکر کیا اور آپ سے سکون و آرام کے حصول اور رنج و غم کے دفع کرنے کے لئے کسی دعا کی خواہش کی۔حضرت نے ان کو اپنی اولاد میں ایک سید کے حوالے کر دیا ۔ وہ وہاں سے باہر نکلنے کے بعد اسی خیمہ میں گئے جس کی طرف حضرت نے ارشارہ کیا تھا۔ دیکھا کہ اس میں سیّد معتمد، عالم معتبر جناب آقائی سید محمد سلطان آبادی تشریف فرما ہیں اور مصلّے پر بیٹھے ہوئے مشغول دعا قرائت ہیں۔ آخوند نے سید کو سلام کیا اور حالات اور صورتِ حال کا تذکرہ کیا۔ سید نے وسعتِ حالات اور وسعت رزق کے لئے ایک دعا تعلیم کی۔
جب وہ خواب سے بیدار ہوئے تو وہ دعا ان کے ذہن میں محفوظ تھی۔وہ فوراً سید کے پاس گئے حالانکہ اس سے پہلے ان سے بیزار اور بے تعلق تھے جیسے ہی وہ سید کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا اسی طرح مصلے پر بیٹھے ہوئے مشغول ذکر و استغفار ہیں جس طرح کہ خواب میں دیکھا تھا۔ انھوں نے سلام کیا، سید نے جواب دیا اور مسکرا دیئے جیسے کہ انھیں صورتِ حال کی اطلاع ہو۔ آخوند نے اپنے حالات کی بہتری کے لئے ان سے دعا کی خواہش کی۔سید نے انھیں وہی دعا تعلیم کی جو خواب میں تعلیم دی گئی تھی۔ آخوند اس دعا میں مشغول ہو گئے اور تھوڑا زمانہ نہیں گذرا تھا کہ ہر طرف سے سہولتوں کا اور آسانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ہر طرح کی سختی اور بدحالی سے نجات مل گئی۔ مرحوم الحاج ملّا فتح علی برابر سید کی تعریف کرتے تھے اور انھوں نے ان سے ملاقات بھی کی تھی اور چند دنوں شاگردی بھی کی تھی۔ رہ گئی وہ بات جو سید نے خواب یا بیداری میں آخوند کو تعلیم دی تھی، وہ تین چیزیں تھیں۔
نمبر۱نماز صبح کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستّر مرتبہ کہے ۔
يَا فَتَّاحُ
اے فتح کرنے والے
۲اس دعا کو پابندی سے پڑھو کہ جو کافی میں ہے اور وہ حضرت رسول اکرمؐ نے اپنے ایک صحابی کو تعلیم دی ہے جو پریشاں حالی میں مبتلا تھا اور اس دعا کو پڑھنےھ کی برکت سے تھوڑے ہی زمانہ میں اس کی ساری پریشانیاں بر طرف ہو گئیں۔
لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ
کوئی طاقت اور توانائی پروردگار کے بغیر نہیں ہے
تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ
میرا اعتماد اسی خدائے حی و قیوم پر ہے جس کے لیے موت نہیں ہے۔
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا
ساری حمد اسی اللہ کے لیے ہے جس نے کوئی بیٹا نہیں بنایا ہے
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ
اور نہ کوئی اس کے ملک میں شریک ہے
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ
اور نہ کوئی کمزوری میں اس کا سہارا ہے۔
وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا۔
ساری بزرگی اور کبریائی اسی کے لیے ہے۔
۳نماز صبح کے بعد یہ دعا پڑھو جسے شیخ ابن فہدسے نقل کیا گیا ہے۔ مومنین کو ان تمام اوراد کی پابندی کرنی چاہئے اور ان کے فوائد سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ واضح رہے کہ نمازوں کے بعد سجدۂ شکر مستحبِ مؤکد ہے اور اس میں بہت سی دعائیں اور ذکر وارد ہوئے ہیں۔ امام رضا علیہ السلام سے نقل کیا گیا ہے کہ اگرچاہو تو سجدۂ شکر میں سو مرتبہ شُکراً شُکراً کہو اور اگر چاہو تو سو مرتبہ عَفواً عَفواً کہو۔ اس کے علاوہ انھیں حضرت سے نقل کیا گیا ہے کہ کم سے کم انسان کو سجدہ میں تین مرتبہ شُکراًلِلّٰہِ کہنا چاہئے۔