طاق کسریٰ میں دو رکعت نماز ادا کرے کہ وہ مصلائے امیرالمومنینؑ ہے اور رعمارساباطی سے روایت ہے کہ جب امیرالمومنینؑ مدائن تشریف لائے اور ایوان کسریٰ میں وارد ہوئے تو آپ کے ساتھ دلف بن بحیر بھی تھے۔ حضرت نے وہاں نماز ادا کی اور اس کے بعد اٹھے اور دلف سے فرمایا میرے ساتھ چلو۔ حضرت کے ساتھ ساباطیوں کی ایک جماعت اور بھی تھی۔ آپ نے کسریٰ کے تمام منازل کا چکر لگایا اور دلف سے برابر فرماتے رہے کہ کسریٰ والے اس جگہ پراس طرح سے رہتے تھے۔ دلف نے عرض کی کہ قسم خدا کی بات ایسی ہی ہے جو آپ فرما رہے ہیں۔ پھرحضرت نے تمام مقامات سے اس طرح باخبر ہیں جیسے آپ ہی نے اسے بنایا ہو۔ روایت میں ہے کہ جب حضرت مدائن سے گذر رہے تھے اور آپ طاق کسریٰ اور اس کی خرابی کا مشاہدہ فرما رہے تھے تو ایک شخص نے ازراہِ عبرت یہ شعر پڑھا۔
‘‘ہوائیں ان کے نشان منزل پر یوں چلیں کہ جیسے ان کا یہی میعاد معین تھی’’
تو حضرت نے فرمایا کہ تم نے آیتِ قرآن یوں نہیں پڑھی۔
اس کے بعد فرمایا
كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنَّاتٍ وَ عُيُوْنٍ
وَ زُرُوْعٍ وَ مَقَامٍ كَرِيْمٍ
مؤلّف: اس منظر کو حکیم خاقانی نے اس طرح نظم کیا ہے۔
وَ نِعْمَةٍ كَانُوْا فِيْهَا فَاكِهِيْنَ
‘‘اے دل عبرت نگر عبرت کی نگاہ دیکھ٭٭٭اور ایوان مدائن کو آئینۂ عبرت قرار دےجس کے دسترخوان پر سونے کی سبزیاں رکھی رہتی تھیں مگر تم جا کر دیکھو کہ کتنے لوگ رنگین و زرین دسترخوان چھوڑ کر چلے گئے۔’’