زیارت امام رضا علیہ السّلام کی فضیلت
بیان فضیلت و کیفیت زیارت امام انس و جن مدفون سر زمینِ غربت جگر پارۂ سید الوریٰ حضرت علی بن موسیٰ الرضا صلوات اللہ علیہ وعلیٰ آبائہٖ و اولادہٖ ائمۃ الہدیٰ
واضح رہے کہ آپ کی زیارت کے فضائل شمار اور بیان سے بالاتر ہیں لیکن ہم اس مقام پر تبرکاً صرف چند روایات کو نقل کر رہے ہیں۔ رسولؐ اکرم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ عنقریب میرا ایک ٹکڑا زمین خراسان پر دفن ہو گا۔ جو مومن اس کی زیارت کرے گا پروردگار بہشت کو اس کے لئے واجب اور جہنم کی آگ حرام کر دے گا۔ دوسری معتبر حدیث میں حضورؐ نے فرمایا کہ میرا ایک ٹکڑا خراسان میں دفن ہو گا۔ جو رنجیدہ اس کی زیارت کرے گا پروردگار اس کے رنج کو زائل کر دے گا اور جو گنہگار زیارت کرے گا اس کے گناہوں کو بخش دے گا۔
۲سند معتبر سے منقول ہے کہ امام موسیٰ بن جعفرؑ نے فرمایا کہ جو شخص میرے فرزند علیؑ کی زیارت کرے گا اللہ کے یہاں اس کو ستّر حج مقبول کا ثواب ملے گا۔ راوی نے حیرت سے پوچھا کہ ستّر حج؟ فرمایا بلکہ ستّر ہزار! اس نے کہا کہ ستّر ہزار حج؟ فرمایا کہ بہت سے حج مقبول بھی نہیں ہوتے ہیں مگر یہ زیارت بہرحال مقبول ہے۔ جو شخص حضرت کی زیارت کرے یا ایک شب وہاں قیام کرے گا وہ ایسا ہو گا جیسے عرش الٰہی پر پروردگار کی زیارت کی ہے۔ عرض کی کہ جیسے پروردگارکی زیارت کی ہے؟ فرمایا بیشک روز قیامت عرش الٰہی پر چار افراد اولین کے اور چار افراد آخرین کے جگہ پائیں گے۔ گذشتہ دور کے نوحؑ و ابراہیمؑ اور موسیٰؑ و عیسیٰؑ اور آخری دور کے حضرات محمدؐ و علیؑ و حسنؑ و حسینؑ اور اس کے بعد عرش کے پایہ سے ایک رسی کھینچ دی جائے گی اور ہمارےساتھ ہمارے ہمارے ائمہؑ کی قبور کے زائرین بیٹھیں گے اور یقیناً میرے فرزند علیؑ کی زیارت کرنے والوں کا درجہ تمام لوگوں سے بلند تر ہو گا اور ان کے عطایا بھی ہر ایک سے بیشترہوں گے۔
۳خود امام رضاؑ سے روایت ہےکہ خراسان میں ہمارے لئے ایک جگہ ہےجہاں ایک دور آئے گا اور مسلسل ملائکہ کی رفت و آمدہو گی کہ ایک فوج آتی رہے گی اور ایک جاتی رہے گی جب تک کہ صورِ اسرافیل نہ پھونک دیا جائے۔ پوچھا گیا کہ یا بن رسولؐ اللہ وہ جگہ کہاں ہے؟ فرمایا وہ زمین طوس ہے جو جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے جو اس جگہ میری زیارت کرے گا وہ ویسے ہی ہو گا جیسے رسولؐ اکرم کی زیارت کی ہو اور پروردگار اس زیارت کے صلہ میں اسے ہزار پسندیدہ حج اور ہزار مقبول عمرہ کا ثواب دے گااور میں اور میرے آباءو اجداد اس کی شفاعت کریں گے۔
۴مختلف اسناد صحیحہ سے ابو نصر سے منقول ہے کہ میں نے امام رضاؑ کا وہ خط پڑھا جس میں آپ نےاپنے شیعوں کو پیغام دیا تھا کہ میری ایک زیارت خدا کے نزدیک ہزار حج کے برابر ہے۔ میں نے اس حدیث کو امام محمد تقیؑ کے سامنے پیش کیا تو فرمایا کہ یقیناً بلکہ ہزار ہزار دس ہزارحج کےبرابر ہے اگر کوئی شخص حضرت کی زیارت معرفت کے ساتھ کرے۔
۵دو سندِ معتبر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے کہ امام رضاؑ نے فرمایا کہ جو میری زیارت کرے گا، میں روز قیامت تین مقامات پر اس کے پاس آؤں گا تا کہ اسے ہولِ قیامت سے نجات دلا سکوں۔ اُس وقت جب نیک افراد کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں ہو گا اور بدعملوں کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور صراط پر اور میزان پر۔
۶دوسری معتبر حدیث میں فرمایا کہ عنقریب میں ظلم وستم کے ساتھ زہرِ دغا سے شہید کیا جاؤں گا اور ہارون رشید کے پہلو میں دفن ہوں گا اور پروردگار میری قبر کو چاہنے والوں کی رفت و آمد کی منزل بنا دے گا لہٰذا جو بھی اس غربت میں میری زیارت کر لے گااس کے لئے مجھ پر لازم ہو جائے گا کہ میں روزِ قیامت اس کی زیارت کروں اور میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس نے پیغمر کو پیغمبر بنایا ہے اور تمام مخلوقات پر منتخب قرار دیا ہے کہ تم شیعوں میں سے جو بھی میری قبر کے پاس آ کر دو رکعت نماز ادا کرے گا اور اس بات کا حق دار ہو گا کہ اس کے گناہوں کو روزِ قیامت معاف کر دیا جائے گا۔ اس خدا کی قسم جس نے ہم کومحترم بنایا ہے اور حضرت محمدؐ کے بعد ہمیں امامت اور وصایت کا شرف دیا ہے کہ میری قبر کی زیارت کرنے والے روزِ قیامت تمام گروہوں سے زیادہ محترم ہوں گے اور جو مومن بھی میری زیارت کرے گا اور اس کے سر پر ایک قطرہ بارش کا گر جائے گا تو اس کے جسم کو آتش جہنم پر حرام کر دیا جائے گا۔
۷سند معتبر کے ساتھ منقول ہے کہ محمد بن سلمان نے امام محمد تقیؑ سے دریافت کیا کہ جس شخص نے اپنا حج واجب بعنوان حج تمتع کر لیاہے اور مدینہ جا کر زیارت رسولؐ اکرم کر لی ہے اور پھر نجف میں زیارت امیرالمومنینؑ کر لی ہے اور ان کے حق کو پہچانتا بھی ہے اور جانتا ہے کہ وہ حجتِؑ خدا ہیں اور انھیں کے ذریعہ خدا تک پہنچا جا سکتا ہے اور اس کے بعد حضرت کو سلام کر کے کربلا گیا ہے اور امام حسینؑ کی زیارت کی ہے اور بغداد جا کر امام موسیٰ کاظمؑ کی زیارت کی ہے اور پھر اپنے شہر پلٹ آیا ہے اور اس کے بعد خدا نے اسئ اس قدر مال عطا فرما دیا ہے کہ دوبارہ حج کےلئے بھی جا سکتا ہے تو اس شخص کے لئے کیا بہتر ہے؟ حج واجب کے بعد دوبارہ حج کے لئے بھی جا سکتا ہے تو اس شخص کے لئے کیا بہتر ہے؟ حج واجب کے بعد دوبارہ حج کےلئے جائے یا خراسان جا کر آپ کے والد بزرگوار کی زیارت کرے؟ فرمایا میرے پدربزرگوار کو سلام کرے۔ یہی افضل ہے اور بہتر ہے ہ ماہِ رجب میں ہو اور حج کے زمانہ میں نہ ہو کہ یہ خلیفہ کی طرف سے ہمیں اور تمہیں طعنے دینے کا بہانہ ہو جائے گا۔
۸شیخ صدوقؒ نے کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں امام محمد تقیؑ سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ طوس کے دو پہاڑوں کے درمیان زمین کاایک ٹکڑا ہے جو جنت سے اٹھایا گیا ہے جو یہاں داخل ہو جائے گا وہ روزِ قیامت آتش جہنم سے محفوظ ہو جائے گا۔
۹انھیں حضرت سے روایت ہے کہ میں پروردگار کی طرف سے ہر اس شخص کے لئے بہشت کا ضامن ہوں جو میرے پدربزرگوار کی طوس میں زیارت کرے بشرطیکہ ان کے حق کا عارف ہو۔
۱۰شیخ صدوقؒ نے عیون اخبار الرضا میں روایت کی ہے کہ ایک مرد صالح نے رسولؐ اکرم کو خواب میں دیکھا اور عرض کی کہ یا رسولؐ اللہ آپ کے فرزندوں میں کس کی زیارت کروں؟ فرمایا کہ میرے بعض فرزندوں کو زہر دیا گیا ہے اور بعض کو شہید کیا گیا ہے۔ عرض کی کہ ان میں سے میں کس کی زیارت کروں جب کہ ان کے مشاہد مقدسہ منتشرہیں؟ فرمایا اس کی زیارت کرو جو تم سے نزدیک تر ہے یعنی تمہاری جگہ اس کی قبر کے قریب ترہے اور وہ ارض غربت پر دفن کیا گیاہے۔ میں نے کہا کیا آپ کی مراد حضرت رضاؑ ہیں؟ فرمایا صلی اللہ علیہ کہو۔ صلی اللہ علیہ کہو۔ صلی اللہ علیہ کہو۔
مؤلّف: وسائل و مستدرک میں مختلف ابواب ہیں۔ مشہد امام رضاؑ اور مشاہد ائمہؑ علیہم السلام سے برکت حاصل کرنےکے لئے اور زیارت امام رضاؑ کو زیارت امام حسینؑ اور جملہ ائمہؑ کی زیارت کے مقابلے میں اختیارکرنے کے لئےبلکہ حج مستحب پر مقدم کرنے کے لئے مگر چونکہ اس کتاب میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے لہٰذا میں نے انھیں دس روایت پر اکتفا کرلی ہےجو عشرہ کاملہ کی حیثیت رکھتی ہے۔