کہے تو ملک فوراً کہے ‘‘و علیک ’’یعنی یہی رحمت تمہارے واسطے بھی ہے اور اس کے بعد پیغمبرؐ تک یہ خبر پہنچائے کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام کہا ہے تو حضرت فرماتے ہیں کہ ‘‘وعلیه السلام’’۔ اور معتبر روایات میں ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جو شخص میرے مرنے کے بعد میری قبر کی زیارت کرے وہ ایسا ہی ہے جیسے زندگی میں میرے پاس آیا ہو لہٰذا اگر یہاں تک آنے کی استطاعت نہیں ہے تو جہاں بھی رہو مجھے سلام کرو۔ سلام مجھ تک پہنچ جائے گا___اس مضمون کی بے شمار روایتیں ہیں اور جزء اول میں اعمال ایام ہفتہ میں زیارت معصومینؑ اور زیارت رسول خداؐ روز شنبہ نقل کی جا چکی ہے اگرچا ہیں تو اسے بھی دیکھ سکتے ہیں اور اس کے فیض کو بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ مناسب ہے کہ آنحضرؐت پر اس طرح صلوات بھیجی جائے جس طرح امیر المومنینؑ نے خطبہ جمعہ میں اشارہ فرمایا ہے جس کا ذکر روضۂ کافی میں ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلَاۤئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ
يَاۤ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَ تَحَنَّنْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَ سَلِّمْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
كَاَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ وَ بَارَكْتَ
وَ تَرَحَّمْتَ وَ تَحَنَّنْتَ
وَ سَلَّمْتَ عَلٰۤى اِبْرَاهِيْمَ وَ اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ
اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ
اَللّٰهُمَّ اَعْطِ مُحَمَّدًا ۟اِلْوَسِيْلَةَ
وَ الشَّرَفَ وَ الْفَضِيْلَةَ
وَ الْمَنْزِلَةَ الْكَرِيْمَةَ
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مُحَمَّدًا وَ اٰلَ مُحَمَّدٍ
اَعْظَمَ الْخَلَاۤئِقِ كُلِّهِمْ شَرَفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
وَ اَقْرَبَهُمْ مِنْكَ مَقْعَدًا
وَ اَوْجَهَهُمْ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَاهًا
وَ اَفْضَلَهُمْ عِنْدَكَ مَنْزِلَةً وَ نَصِيْبًا
اَللّٰهُمَّ اَعْطِ مُحَمَّدًا اَشْرَفَ الْمَقَامِ
وَ حِبَاۤءَ السَّلَامِ
وَ شَفَاعَةَ الْاِسْلَامِ
اَللّٰهُمَّ وَ اَلْحِقْنَا بِهِ غَيْرَ خَزَايَا وَ لَا نَاكِثِيْنَ
وَ لَا نَادِمِيْنَ وَ لَا مُبَدِّلِيْنَ
اِلٰهَ الْحَقِّ اٰمِيْنَ۔
اس کے بعد زیارات کے آخر میں ایک صلوات کا ذکر اور ہو گا اس سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔