EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
جناب حمزہؓ کے فضائل
مؤلّف: جناب حمزہؓ کے فضائل اور ان کی زیارت کے فضائل بیان سے باہر ہیں۔ فخرالمحققین نے اپنے رسالہ فخریہ میں فرمایا ہے کہ جناب حمزہؓ اور باقی شہداء احس کی زیارت مستحب ہے۔ اس کے لئے رسولؐ اکرم کی روایت ہے کہ جو شخص میری زیارت کرے اور میرے چچا حمزہؓ کی زیارت نہ کرے اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔ حقیر نے بھی بیت الاحزان میں نقل کیا ہے کہ جناب فاطمہؐ وفات پیغمبر کے بعد ہر ہفتہ، دو شنبہ، پنجشنبہ کے دن جناب حمزہؑ اور شہدائے احد کی زیارت کے لئے جاتی تھیں اور وہاں نماز پڑھتی تھیں اور دعا کرتی تھیں اور زندگی بھر آپ نے اس طریقہ کو جاری رکھا تھا۔ محمود بن لبیب کا بیان ہے کہ جناب فاطمہؑ جناب حمزہؑ کی قبر کے پاس جا کر گریہ کرتی تھیں اور جب میں ایک دن زیارت جناب حمزہؑ سے مشرف ہوا تو میں نے آپ کو قبرِ حمزہؑ کے پاس مشغول گریہ دیکھا۔ میں نے انتظار کیا۔ جب آپ کا گریہ ٹھہر گیا تو میں نے جا کر سلام عرض کیا اور کہا۔ اے سیدۃ النساء! خدا کی قسم آپ کے گریہ نے میرے دل کی رگوں کو توڑ دیا ہے۔ فرمایا ۔ اے ابو عمرہ ، میرے لئے یہ گریہ بہت مناسب ہے کہ میں غمِ پیغمبرؐ میں غمزدہ رہوں، مجھے کس قدر اشتیاقِ رسولؐ ہے۔ اور اس کے بعد آپ نے یہ شعر پڑھا۔
‘‘جب بھی دنیا سے کوئی جاتا ہے تو اس کا ذکر کم ہو جاتا ہے لیکن میرے باپ کا ذکر مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔’’
شیخ مفیدؒ نے فرمایا ہے کہ
‘‘پیغمبرؐ اکرم نے اپنی زندگی میں زیارت قبر حمزہؑ کی تاکید کی تھی اور آپ خود قبر شہدائے احد پر آتے تھے اور آپ کی وفات کے بعد جناب فاطمہ مسلسل صبح و شام جاتی رہیں اور مسلمان بھی برابر شہداء کی زیارت کرتے رہے اور ان کی قبر پر حاضری دیتے رہے۔’’