EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
زوّارِ مدینہ کی ذمہ داریاں
مؤلّف: ہم نے کتاب ہدیۃ الزائرین میں زوّارِ مدینہ کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بیان کیا ہے کہ انسان جب تک مدینۂ منوّرہ میں رہے اس موقع کو غنیمت سمجھے اور زیادہ نمازیں ادا کرنے کے لئے مسجد میں جائے کہ وہاں کی ہر نماز دس ہزار نمازوں کے برابر ہے جو دوسری جگہوں پر ادا کی جائیں اور مسجد میں بھی بہترین جگہ وہ روضہ ہےجو محراب ومنبر کے درمیان ہے۔ محدث نوریؒ نے تحیہ میں فرمایا ہے کہ جس جگہ پر جسدِ پاک پیغمبرؐ یا اجسام ائمہ علیہم السلام ہیں وہ زمین بہ اتفاق تمام فقہاء کعبۂ معظمہ سے بہتر ہے جیسا کہ شہید نے قواعد میں اس کی تصریح کی ہے اور ایک روایت حسن میں حضرمی سے منقول ہے کہ امام صادقؑ نے مجھے حکم دیا کہ مسجدِ رسولؐ اکرم میں زیادہ نمازیں ادا کروں جہاں تک ممکن ہو اور فرمایا کہ ہمیشہ یہ موقع حاصل نہیں ہوتا۔ شیخ طوسیؒ نے تہذیب میں معتبر سند کے ساتھ مرازم سے نقل کیا ہے کہ امام صادقؑ نے فرمایا کہ مدینہ میں روزہ رکھنا اور ستونوں کے پاس نماز ادا کرنا واجب نہیں ہے بلکہ واجب صرف نمازِ پنجگانہ اور ماہِ رمضان کے روزے ہیں لیکن جو شخص روزہ رکھنا چاہے اس کے لئے بہترین عمل ہے۔ اور فرمایا کہ اس مسجد شریف میں بکثرت نمازیں ادا کرو جہاں تک ممکن ہو کہ یہ تمہارے لئے بہترین عمل ہے۔ اور یاد رکھو کہ کبھی کبھی آدمی دنیا کے کاموں میں ہوشیار ہوتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں کہ کس قدر ہو شیار ہے لیکن واقعاً بہترین ہوشیار وہ ہے جو امر آخرت میں ہوشیار ہو۔ لہٰذا جہاں تک ممکن ہو روزانہ قبر پیغمبرؐ کی زیارت کرو اور اس طرح بقد امکان ائمہ بقیعؑ کی زیارت کرو اور جب حجرۂ رسول پر نگاہ پڑے آنحضرتؐ کو سلام کرو جب تک مدینہ میں رہو اس کی پابندی کرو اور اپنے کو تمام گناہوں اور غلطیوں سے محفوظ رکھو اور اس مقدس جگہ کی شرافت و عظمت کے بارے میں غور کرتے رہو خصوصاً مسجد میں بیٹھ کر کہ یہ وہ سرزمین ہے جس پر آنحضرتؐ کے قدم پڑے ہیں اور آپ نے اس کو کوچۂ و بازار میں آمدورفت فرمائی ہے۔ اس مسجد میں نماز پڑھو کہ یہ ہو جگہ ہے جہاں وحی کا نزول ہوتا تھا اور جبرئیل اور ملائکہ مقربین حاضر ہوا کرتے تھے۔ شاعر نے بہترین بات کہی ہے؎؎
اَرْضٌ مَشٰى جِبْرِيْلُ فِيْ عَرَصَاتِهَا
وَ اللّٰهُ شَرَّفَ اَرْضَهَا وَ سَمَاۤءَهَا۔
جہاں تک ممکن ہو مدینہ میں اور بالخصوص مسجد میں صدقہ دو اور خصوصیت کے ساتھ سادات اور ذریّت پیغمبرؐ کو جس میں عظیم اجر وثواب رکھا گیا ہے۔
علامہ مجلسیؒ نے فرمایا ہے کہ معتبر روایت میں وارد ہوا ہے کہ مدینہ میں ایک درہم صدقہ دوسرے مقام پر دس ہزار درہم کے برابر ہے اور اگر ممکن ہو تو اس شہر مین مجاورت اختیار کرو کہ یہاں مجاورت مستحب ہے اور اس کی فضیلت میں بکثرت احادیث وارد ہوئی ہیں۔
سَقَى اللّٰهُ قَبْرًا بِالْمَدِيْنَةِ غَيْثَهُ
فَقَدْ حَلَّ فِيْهِ الْاَمْنُ بِالْبَرَكَاتِ
نَبِيُّ الْهُدٰى صَلّٰى عَلَيْهِ مَلِيْكُهُ
وَ بَلَّغَ عَنَّا رُوْحَهُ التُّحَفَاتِ
وَ صَلّٰى عَلَيْهِ اللّٰهُ مَا ذَرَّ شَارِقٌ
وَ لَاحَتْ نُجُوْمُ اللَّيْلِ مُبْتَدِرَاتِ