مؤلّف: سفر کے آداب اور اس کی دعائیں بہت ہیں۔ اس مقام پر مختصر طور سے صرف چند آداب کا ذکر کیا جا رہا ہے:۔
۱جب کوئی شخص سوار ہونا چاہے تو بسم اللہ کو ترک نہ کرے۔
۲اپنے سامان کو محفوظ رکھے اور محفوظ جگہ پر رکھے کہ روایت میں وارد ہوا ہے کہ مسافر کی ہوش مندی یہ ہے کہ اپنے زادِ راہ کو محفوظ رکھے۔
۳سفر میں اپنے ساتھیوں کی مددکرے اور ان کے کام انجام دینے میں کوئی کوتاہی نہ کرے تاکہ پروردگار اس کی طرف سے تہتّر ۷۳ قسم کے رنج و غم کو دور کر دے اسے دنیا کے ہر ہم و غم سے پناہ دیدے اور روزِ قیامت کے ہول سے بھی محفوظ کر دے۔
روایت میں ہے کہ امام زین العابدینؑ ہمیشہ ان اشخاص کے ساتھ سفر کرتے تھے جو آپ کو نہ پہچانتے ہوں تا کہ راستہ میں ان کی مدد کر سکیں۔ اس لئے کہ اگر لوگ پہچان لیں گے تو پھر حضرت کو کوئی کام کرنے نہیں دیں گے۔
رسولؐ اکرم کے اخلاق شریفہ میں نقل ہوا ہے کہ آپ سفر میں اصحاب کے ساتھ تھے اور لوگوں نے طے کیا کہ ایک جانور ذبح کیا جائے تو ایک شخص نے کہا کہ ذبح کرنے کی ذمہ داری میرے اوپر ہے۔ دوسرے نے کہا کہ کھال میں نکالوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ پکانے کی ذمہ دار ہوں۔ آپ نے فرمایا تو لکڑی میں لا رہا ہوں۔ اصحاب نے کہا یا رسولؐ اللہ یہ کام ہم انجام دیں گے۔آپ زحمت نہ فرمائیں۔ فرمایا مجھے معلوم ہے کہ تم یہ کام کر سکتے ہو لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا ہے کہ تم میں سے الگ کوئی حیثیت اختیار کروں کہ پروردگار کو یہ بات گوارا ہے کہ وہ اپنے بندے کو اس حال میں دیکھے کہ وہ اپنے کو ساتھیوں سے بالاتر رکھے۔ بدترین انسان سفر میں رفقاء کے نزدیک وہی ہوتا ہے کہ جس کے اعضاء صحیح و سالم ہوں اور اس کے بعد بھی سستی کر کے کوئی کام نہ کرے اور منتظر رہے کہ اس کے ساتھی اس کے سارے کامک انجام دیں۔
۴مسافر کو چاہیئے کہ ایسے افراد کے ساتھ رہے کہ جو خرچ کرنے میں اسی کے جیسے ہوں۔
۵ہر جگہ پانی نہ پئیے جب تک کہ اپنی منزل کے پانی کو اس میں شامل نہ کردے۔اور مناسب ہے کہ جب کوئی اپنے سفر میں جائے تو اپنے ساتھ اپنے شہر کی خاک لے کر جائے جس سے اس کی تربیت ہوئی ہے اور جہاں وارد ہو اس میں سے تھوڑی خاک وہاں ڈال دے اپنے پانی کے ظرف میں اور اسے ہلا دے۔ اس کے بعد تھوڑی دیر رکھ دے تاکہ وہ خاک جم جائے اور اس کے بعد اس پانی کو پیئے
۶اپنے اخلاق کو درست رکھے اور قوتِ برداشت کو اپنی زینت قرار دے۔ اس کے علاوہ آدابِ زیارت امام حسینؑ میں بھی کچھ مناسب باتیں ذکر کی گئی ہیں۔
۷اپنے لئے زادِ سفر لے کے چلے کہ انسان کا شرف یہ ہے کہ اپنا زادِ راہ بہترین رکھے، بالخصوص سفرِ مکّہ میں البتہ سفرِ زیارتِ امام حسینؑ میں کوئی لذیذ چیز مثلاً بریانی اور حلوہ وغیرہ اپنے ساتھ لے کر نہ جائے کہ اسے پسند نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ بابِ زیارت میں ذکر کیا جائے گا۔ اور ابن اعثم نے اپنے اشعار میں کہا تھا کہ؎
مِنْ شَرَفِ الْاِنْسَانِ فِي الْاَسْفَارِ
تَطْيِيْبُهُ الزَّادَ مَعَ الْاِكْثَارِ
وَ لْيَحْسُنِ الْاِنْسَانُ فِيْ حَالِ السَّفَرِ
اَخْلَاقَهُ زِيَادَةً عَلَى الْحَضَرِ
وَ لْيَدْعُ عِنْدَ الْوَضْعِ لِلْخِوَانِ
مَنْ كَانَ حَاضِرًا مِنَ الْاِخْوَانِ
وَ لْيُكْثِرِ الْمَزْحَ مَعَ الصَّحْبِ اِذَا
لَمْ يُسْخِطِ اللّٰهَ وَ لَمْ يَجْلِبْ اَذٰى
مَنْ جَاۤءَ بَلْدَةً فَذَا ضَيْفٌ عَلٰۤى
اِخْوَانِهِ فِيْهَاۤ اِلٰۤى اَنْ يَرْحَلَا
يُبَرُّ لَيْلَتَيْنِ ثُمَّ لْيَأْكُلِ
مِنْ اَكْلِ اَهْلِ الْبَيْتِ فِيْ الْمُسْتَقْبِلِ
جس چیز کی رعایت سفر میں انتہائی ضروری ہے وہ نمازوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ان کے شرائط و حدود کے ساتھ اور اوّل وقت ادائیگی کے اعتبار سے کہ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض حجاج زائرین اپنے سفر میں نماز فریضہ کو ضائع کر دیتے ہیں اور وقت پر ادا نہیں کرتے ہیں یا سواری ہی پر یاتیمم کے ساتھ یا نجس کپڑوں کے ساتھ یا نجس بدن کے ساتھ ادا کر لیتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ انھیں نماز کی اہمیت کا احساس نہیں ہے۔ حالانکہ امام صادقؑ کی روایت میں ہے کہ ایک نماز فریضہ بیس حج سے بہتر ہے اور ایک حج اس گھر سے بہتر ہے جو سونے سے بھرا ہوا ہو اور انسان اس سارے سونے کو راہِ خدا میں خیرات کر دے اور اگر نماز قصر ہے تو ہر نماز کے بعد تیس مرتبہ