EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
تیسری زیارت مطلقہ
سید عبدالکریم بن طاؤسؒ نے صفوان جمالؒ سے روایت کی ہے کہ ہم امام صادقؑ کے ہمراہ کوفہ میں وارد ہوئے جب امام ابو جعفر منصور دوانیقی کے پاس جا رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ اے صفوان او نٹ کو بٹھاؤ کہ یہ میرے جد امیرالمومنینؑ کی قبر کے نزدیک کا علاقہ ہے۔ یہ کہہ کر آپ اترے اور آپ نے غسل کیا اور لباس تبدیل کیا ار جو تیاں اتاردیں اور فرمایا کہ تم بھی ایسا کرو۔ پھر نجف کی طرف روانہ ہوئے اور فرمایا کہ آہستہ قدم بڑھاؤ اور سر کو جھکا لو کہ خداوند عالم تمہارے لئے ہر قدم پر ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اور ایک لاکھ گناہ محو کرے گا اور ایک لاکھ درجات بلند کرے گا اور ایک لاکھ حاجتوں کو پورا کرے گا اور تمہارےلئے صدیق و شہید کا ثواب لکھے گا۔ چنانچہ میں حضرت کے ہمراہ اطمینان و سکون کے ساتھ تسبیح و تہلیل کرتے ہوئے جا رہا تھا یہاں تک کہ آپ ایک بلندی پر پہنچے اور دائیں بائیں جانب نگاہ ڈال کرلکڑی سے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا کہ تلاش کرو، میں نے تلاش کیا تو ایک قبر کا نشان نظر آیا۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو کر چہرہ پر آگئے اور فرمایا۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْوَصِيُّ الْبَرُّ التَّقِيُّ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبَاُ الْعَظِيْمُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ الرَّشِيْدُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْبَرُّ الزَّكِيُّ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَصِيَّ رَسُوْلِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَةَ اللّٰهِ عَلَى الْخَلْقِ اَجْمَعِيْنَ
اَشْهَدُ اَنَّكَ حَبِيْبُ اللّٰهِ وَ خَآصَّةُ اللّٰهِ وَ خَالِصَتُهُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللّٰهِ وَ مَوْضِعَ سِرِّهِ
وَ عَيْبَةَ عِلْمِهِ وَ خَازِنَ وَحْيِهِ
پھر اپنے کو قبر سے مس کر کے فرمایا۔
بِاَبِيْ اَنْتَ وَ اُمِّيْ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ
بِاَبِيْ اَنْتَ وَ اُمِّيْ يَا حُجَّةَ الْخِصَامِ
بِاَبِيْ اَنْتَ وَ اُمِّيْ يَا بَابَ الْمَقَامِ
بِاَبِيْ اَنْتَ وَ اُمِّيْ يَا نُوْرَ اللّٰهِ التَّآمَّ
اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ عَنِ اللّٰهِ
وَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ مَا حُمِّلْتَ
وَ رَعَيْتَ مَا اسْتُحْفِظْتَ
وَ حَفِظْتَ مَا اسْتُوْدِعْتَ
وَ حَلَّلْتَ حَلَالَ اللّٰهِ
وَ حَرَّمْتَ حَرَامَ اللّٰهِ
وَ اَقَمْتَ اَحْكَامَ اللّٰهِ
وَ لَمْ تَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ
وَ عَبَدْتَ اللّٰهَ مُخْلِصًا
حَتّٰى اَتَاكَ الْيَقِيْنُ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكَ
وَ عَلَى الْاَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِكَ۔
پھر امامؑ اٹھے اور امیرالمومنینؑ کے بالائے سر چند رکعت نماز ادا کی اور فرمایا کہ اے صفوان جو شخص امیرالمومنینؑ کی زیارت پڑھے گا اور یہ نماز ادا کرے گا وہ عمل مقبول و پسندیدۂ خدا ہو گا اور اس کے لئے وہ ثواب ہو گا جو ملائکہ کو ان کی زیارت کا ثواب ملتا ہے۔ صفوان نے تعجب سے پوچھا، ایسا ثواب ہے؟۔ فرمایا ہاں، ہر شب میں ملائکہ کے ستّر قبیلے امامؑ کی زیارت کرتے ہیں۔ پوچھا کہ ہر قبیلہ میں کتنے فرشتے ہوتے ہیں؟ فرمایا کہ ایک لاکھ فرشتے۔ پھر امام اُلٹے پیر واپس ہوئے اور واپس ہو تے ہوئے زبان سے کہہ رہے تھے۔
يَا جَدَّاهُ يَا سَيِّدَاهُ
يَا طَيِّبَاهُ يَا طَاهِرَاهُ
لَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اٰخِرَ الْعَهْدِ مِنْكَ
وَ رَزَقَنِي الْعَوْدَ اِلَيْكَ
وَ الْمَقَامَ فِيْ حَرَمِكَ
وَ الْكَوْنَ مَعَكَ
وَ مَعَ الْاَبْرَارِ مِنْ وُلْدِكَ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكَ
وَ عَلَى الْمَلَاۤئِكَةِ الْمُحْدِقِيْنَ بِكَ
صفوان کا بیان ہے کہ میں نے امام سے عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اہلِ کوفہ کو خبر دوں اور اس قبر کا نشان بتا دوں تو آپ نے فرمایا کہ ہاں بتا دو اور چند درہم بھی دیئے کہ قبر کی مرمت کرا دو۔’’