EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
آدابِ زیارت
یوں تو آداب بہت ہیں لیکن اس مقام پر مختصر طور پر صرف چند آداب کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
۱سفر زیارت میں نکلنے سے پہلے غسل کرے۔
۲راستہ میں کوئی بیہودہ گفتگو، لغو بات اور جھگڑے کی گفتگو نہ کرے۔
۳جس امام کی زیارت کے لئے جا رہا ہے اس کی زیارت کا غسل کرے اور وہ دعا پڑھے جو اس موقع پر وارد ہوئی ہے اور جس کا ذکر زیارت وارثہ کے آغاز میں ہو گا۔
۴اپنے کو ہر حدثِ اکبر و اصغر سے پاک رکھے۔
۵پاک و پاکیزہ کپڑے پہنے اور بہتر یہ ہے کہ کپڑوں کا رنگ سفید ہو۔
۶روضۂ مقدس کی طرف جاتے وقت آہستہ قدم اٹھائے، سکون و وقار کے ساتھ چلے۔ خضوع و خشوع کے ساتھ قدم آگے بڑھائے۔ سر جھکا کر بغیر داہنے بائیں دیکھے ہوئے روضۂ مبارک کی طرف آگے بڑھے۔
۷زیارت امام حسینؑ کے علاوہ ہر زیارت میں خوشبو استعمال کرے۔
۸حرمِ مطہر کی طرف جاتے وقت تسبیح و تہلیل و ذکرِ خدا میں مشغول رہے اور محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات بھیجتا رہے۔
۹حرم مبارک کے دروازے پر پہنچ کر اذنِ دخول طلب کرے اور کوشش کرے کہ ایسے موقع پر دل نرم ہو۔خضوع و خشوع پیدا ہو جائے۔ عظمت و جلالت صاحب مرقد منور کے بارے میں غور کرے اور یہ یاد رکھے کہ صاحب قبر اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے کلام کو سن رہا ہے اور اس کو جواب بھی دے رہا ہے جس کی وہ خود زیارت کے کلمات میں گواہی دیتا ہے۔ اس کے بعد اس لطف و محبت کے بارے میں غور کرے کہ جو صاحبِ قبر کو اپنے شیعوں اور زائرین سے ہے پھر اپنی حالت کی خرابی اور ان بزرگوں کے احکام علیٰحدگی کو یاد کرے اور ان تعلیمات کو یاد کرے جو نہیں سیکھ سکا اور ان تکلیفوں کو یاد کرے جو اسکی طرف سے ان بزرگوں یا ان کے دوستوں تک پہنچی ہیں جس کے نتیجہ میں ان حضرات کو تکلیف ہوتی ہے۔ اگر انسان واقعاً ان باتوں پر غور کرے تو شاید اس کے قدم بھی آگے نہ بڑھ سکیں گے اور دل بھی لرز جائے گا۔ آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہو جائیں گے اور یہی تمام آداب کی روح ہیں۔ مناسب ہے کہ اس مقام پر سخاوی کے ان اشعار کا ذکر کیا جائے اور اس روایت کو نقل کیا جائے جس کو علامہ مجلسیؒ نے بحار میں کتاب عیون المعجزات سے نقل کیا ہے۔ سخاوی کے ان اشعار کو ذہن میں رکھنا انتہائی مناسب ہے جو ہر زائر کی زبانِ حال ہے ؎
قَالُوْا غَدًا نَأْتِيْ دِيَارَ الْحِمٰى
وَ يَنْزِلُ الرَّكْبُ بِمَغْنَاهُمُ
فَكُلُّ مَنْ كَانَ مُطِيْعًا لَهُمْ
اَصْبَحَ مَسْرُوْرًا بِلُقْيَاهُمُ
قُلْتُ فَلِيْ ذَنْبٌ فَمَا حِيْلَتِيْ
بِاَيِّ وَجْهٍ اَتَلَقَّاهُمُ
قَالُوْا اَ لَيْسَ الْعَفْوُ مِنْ شَأْنِهِمْ
لَا سِيَّمَا عَمَّنْ تَرَجَّاهُمُ
فَجِئْتُهُمْ اَسْعٰىۤ اِلٰى بَابِهِمْ
اَرْجُوْهُمُ طَوْرًا وَ اَخْشَاهُمُ
علامہ مجلسیؒ کی روایت ہے کہ جب ابراہیم جمال جو امامؑ کے چاہنے والوں میں تھےعلی بن یقیطین کے پاس آئے اور ابراہیم اس وقت ایک سار بان تھے اور علی بن یقیطین ہارون رشید کے وزیر تھے تو ظاہر ہے کہ ابراہیم کے حالات ایسے نہیں تھے کہ علی بن یقطین کی بزم میں وارد ہو سکیں لہٰذا لوگوں نے ان کو راستہ نہیں دیا اور اتفاقاً اسی سال علی بن یقیطین حج کے لئے گئے اور مدینہ میں امام موسیٰ کاظمؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت نے ان کو اجازت نہیں دی اور دوسرے دن گھر کے باہر علی بن یقیطین سے ملاقات ہوگئی تو انھوں نے عر ض کی کہ سرکار میری کیا تقسیر ہے کہ مجھے آپ نے ملاقات کا موقع نہیں دیا؟ فرمایا کہ تم نے اپنے ایمانی بھائی ابراہیم جمال کو راستہ نہیں دیا تھا۔ پروردگار تمہاری سعی کو قبول نہیں کر سکتا جب تک ابراہیم تم کو معاف نہ کر دیں۔
ابن یقیطین کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور میں اس وقت ابراہیم سے کہاں ملاقات کر سکتا ہوں۔ میں مدینہ میں ہوں اور وہ کوفہ میں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جب رات ہو جائے تو اکیلے بقیع تک جانا کہ تمہارے ساتھ کوئی دوسرا آدمی نہ ہو۔ اس وقت تمہیں ایک اونٹ نظر آئے گا۔ اس پر تم سوار ہو جانا۔ وہ تمہیں کوفہ لے جائے گا۔ علی بن یقطین رات کے وقت بقیع میں گئے اور اسی اونٹ پر سوار ہو کر چند لمحوں میں ابراہیم جمال کے دروازہ پر پہنچ گئے۔ اونٹ کو بٹھایا۔ دق الباب کیا۔ ابراہیم نے پوچھا کون؟ کہا میں علی بن یقیطین ! ابراہیم نےکہا کہ علی بن یقیطین میرے دروازے پر کیوں آئیں گے؟ کہا تم سے ایک بہت ضروری کام ہے اور پھر انھیں قسم دلائی کہ گھر میں داخلہ کی اجازت دے دیں۔ جب اجازت مل گئی تو علی بن یقیطین نے کہا کہ ابراہیم! میرے آقا و مولا نے فرمایا ہے کہ میرا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہ ہو گا جب تک تم مجھے معاف نہ کر دو گے۔ ابراہیم نے کہا اللہ تم کو معاف کردے علی بن یقیطین نے اپنے چہرہ کو خاک پر رکھا اور ابراہیم کو قسم دی کہ اپنے پیر رخسار پر رکھ دیں۔ ابراہیم نے انکار کیا۔ علی بن یقیطین نے دوبارہ قسم دی۔ ابراہیم نے اپنے قدم علی بن یقیطین کے رخسار پر رکھ دیئے اور اس وقت علی بن یقیطین نے کہا۔ خدا گواہ رہنا۔ اس کے بعد باہر آئے تو اسی اونٹ پر سوار ہو گئے اور اسی رات مدینہ پہنچ گئے۔ اونٹ کو حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کے دروازہ پر بٹھایا اور حضرت نے فوراً اجازت دے دی۔ جب وارد ہو کر واقعہ بیان کیا تو آپ نے اسے قبول فرما لیا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ برادرانِ ایمانی کے حقوق کس قدر اہمیت رکھتے ہیں۔
۱۰روضہ کی چوکھٹ کو بوسہ دے کر شیخ شہیدؒ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی زیارت کرنے جائے تو سجدۂ شکر کرے اس نیت سے کہ پروردگار نے اسے اس مکانِ مقدس تک پہنچا دیا ہے۔
۱۱داہنے پیر سے داخل ہوتے ہوئے اور بائیں پیر کو باہر نکالتے وقت آگے بڑھائے جس طرح مسجدوں میں ہوتا ہے۔
۱۲ضریح مطہر کے پاس جائے اور اگر ممکن ہوتو خود کو ضریح مطہر سے ملا دے۔ یہ سوچنا کہ دور کھڑا ہونا ہی کوئی ادب ہے، یہ غلط ہے، اس لئے کہ روایت میں ہے کہ ضریح کا بوسہ دینا اور اس سے ٹیک لگا کر کھڑے ہونا بہترین عمل ہے۔
۱۳زیارت کے وقت قبلہ کو اپنی پشت پر رکھے اور رخ قبر مطہر کی طرف رکھے کہ یہ ادب قبر معصوم سے تعلق رکھتا ہے۔ زیارت ختم کرنے کے بعد داہنے رخسار کو قبر پر رکھے اور بکمال خضوع دعا کرے۔ اس کے بعد بائیں رخسا رکو زمین پر رکھے اور پروردگار کو صاحب قبر کا واسطہ دے کر گذارش کرے کہ صاحبِ قبر کی شفاعت سے محروم نہ کرے۔ اس کے بعد دعا وزاری کے ساتھ سرِ اقدس کی سمت جائے اور رو بقبلہ کھڑے ہو کر دعا کرے۔
۱۴زیارت پڑھتے وقت اگر کوئی عذر نہیں ہے اور کمزوری، دردِ کمر یا پیروںمیں تکلیف نہیں ہےتو کھڑے ہو کر زیارت پڑھے۔
۱۵قبر مطہر کو دیکھنے کے بعد زیارت شروع کرنے سے پہلے تکبیر پڑھے جیسا کہ روایت میں ہے کہ اگر کوئی امام کے سامنے پہنچ کر تکبیر پڑھے اور کہے کہ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
تو پروردگار اس کو اپنی عظیم رضا عنایت فرما دے گا۔
۱۶ان زیارات کو پڑھے جو حضرات معصومینؑ سے نقل کی گئی ہیں اور ان زیارات سے پر ہیز کرے جن کو بے خبر عوام نے اپنے پاس سے تیار کر لیا ہے اور جاہل افراد انھیں زیارتوں کو پڑھ رہے ہیں۔
شیخ کلینیؒ نے عبدالرحیم قصیر سے روایت کی ہے کہ میں امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ میری جان آپ پر قربان۔میں نے ایک دعا ایجاد کی ہے۔ تو فرمایا کہ اپنی دعاؤں کو دور رکھو۔ اگر ضرورت تمہارے سامنے آ جائے تو دو رکعت نماز پڑھو اور اس کو رسولؐ اکرم کو ہدیہ کرو اور دعا کرو۔
۱۷نماز زیارت بجا لائے جو کم سے کم دو رکعت ہے اور شیخ شہیدؒ نے فرمایا ہے کہ زیارت پیغمبرؐ کی نماز کو روضہ کے اندر پڑھنا چاہیئے اور اگر کسی امام کے حرم میں ہے تو نماز کو بالائے سر انجام دے اور اگر حرم کی مسجد میں ادا کرنا چاہے تو وہ بھی ہو سکتا ہے۔علامہ مجلسیؒ نے فرمایا ہے کہ نماز زیارت وغیرہ کو میرے خیال سے پشت قبر یا بالائے سر پڑھنا بہتر ہے۔ علامہ بحرالعلوم نے بھی درّہ میں یہی فرمایا ہے؎
وَ مِنْ حَدِيْثِ كَرْبَلَا وَ الْكَعْبَةِ
لِكَرْبَلَا بَانَ عُلُوُّ الرُّتْبَةِ
وَ غَيْرُهَا مِنْ سَاۤئِرِ الْمَشَاهِدِ
اَمْثَالُهَا بِالنَّقْلِ ذِيْ الشَّوَاهِدِ
وَ رَاعِ فِيْهِنَّ اقْتِرَابَ الرَّمْسِ
وَ اٰثِرِ الصَّلَاةَ عِنْدَ الرَّأْسِ
وَ صَلِّ خَلْفَ الْقَبْرِ فَالصَّحِيْحُ
كَغَيْرِهِ فِيْ نَدْبِهَا صَرِيْحٌ
وَ الْفَرْقُ بَيْنَ هٰذِهِ الْقُبُوْرِ
وَ غَيْرِهَا كَالنُّوْرِ فَوْقَ الطُّوْرِ
فَالسَّعْيُ لِلصَّلَاةِ عِنْدَهَا نُدِبَ
وَ قُرْبُهَا بَلِ اللُّصُوْقُ قَدْ طُلِبَ
۱۸نماز زیارت میں پہلی رکعت میں سورۂ یٰسٓ اور دوسری میں سورۂ رحمٰن پڑھے۔ اگر اس کے علاوہ کوئی مخصوص کیفیت وارد نہ ہوئی ہو۔ نماز کے بعد جو دعائیں وارد ہوئی ہیں ان دعاؤں کو پڑھے اور جو کچھ بھی دین و دنیا کے لئے مفید ہو اور اپنی دعا کو دیگر افراد کے لئے عام بنائے کہ قبولیت سے زیادہ قریب تر ہے۔
۱۹شیخ شہیدؒ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص حرم مطہر میں داخل ہو اور دیکھے کہ نماز جماعت ہو رہی ہے تو زیارت سے پہلے نماز ادا کرے ورنہ عام حالات میں پہلے زیارت پڑھے اس لئے کہ اصل مقصد وہی ہے لیکن اگر زیارت کے دوران نماز شروع ہو جائے تو زائرین کے لئے بہتر یہی ہے کہ زیارت کو قطع کر دیں اور نماز کو ادا کریں اس لئے کہ نماز کو ترک کر دینا نامناسب ہے اور حرم کے ذمہ داروں کو بھی چاہیئے کہ لوگوں کو نماز کی طرف متوجہ کریں۔
۲۰شیخ شہیدؒ نے آدابِ زیارت میں تلاوتِ قرآن کو بھی شامل کیا ہے، جس کا ثواب اس امام کی روح مطہر کو ہدیہ کیا جائے گا اور اس کا فائدہ بہر حال اسی کو ہو گا جو زیارت کرنے والا ہے۔
۲۱نامناسب باتیں اور لغو اور بیہودہ کلمات کو ترک کرے اور دنیا کی باتوں میں مشغول نہ ہو کر یہ دیگر مقامات پر بھی مناسب نہیں ہیں چہ جائیکہ اس محترم و مقدس مقام پر جس کی جلالت و بزرگی کی خبر سورۂ نور میں دی گئی ہے
‘‘فی بُیوُت اذن اللہ ان تُرفع’’ ان کی بلندی کا حکم پروردگار نے دیا ہے۔
۲۲وقت زیارت آواز کو زیادہ بلند نہ کرے جیسا کہ ہدیۃ الزائرین میں ذکر کیا گیاہے۔
۲۳حرم سے باہر جاتے وقت جو دعائیں منقول ہیں انھیں دعاؤں کے ذریعہ امام کو وداع کرے۔
۲۴اپنے گناہوں کے لئے توبہ و استغفار کرے اور زیارت کے بعد اپنے کردار کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
۲۵جہاں تک ممکن ہو آستانۂ مبارک کے خادموں پر مال خرچ کرے اور مناسب یہ ہے کہ وہاں کے خدام صاحبانِ خیر و اصلاح اور صاحبانِ دین و شرافت ہوں اور جو کچھ بھی زائرین کی طرف سے زیادتیاں یا کوتاہیاں ہوں انھیں برداشت کریں اور اپنے غصہ کو ضبط کریں اور کسی طرح کی سختی اور درشتی سے کام نہ لیں بلکہ محتاج ہیں ان کی حاجتوں کو پورا کریں اور جو اجنبی ہیں ان کی رہنمائی کریں اور اگر کوئی راستہ گم کر گیا ہےتو اسے منزل تک پہنچانے کی کوشش کریں اور حقیقتاً جیسے خدام ہونے چاہیئے ویسے خادم بنیں اور جو حرم کے ضروریات ہیں صفائی، حفاظت اور زائرین کی حفاظت، ان تمام فرئض کو انجام دیں۔
۲۶فقراء و مساکین جو امام کے شہر میں آباد ہیں خصوصاً سادات اور اہل علم وہ لوگ جو غربت اور تنگدستی میں مبتلا ہیں اور وطن چھوڑ کر مسلسل شعائر اللہ کی تعظیم کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں ان پر مال خرچ کریں اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔
۲۷شیخ شہیدؒ نے فرمایا ہے کہ آدابِ زیارت میں ایک یہ بھی ہے کہ واپس جانے میں جلدی کرے اور جب زیارت میں اپنا حصہ حاصل کر لیا تو مزیداحترام کے پیشِ نظر فوراً واپس ہو جائے تاکہ دوبارہ آنے کا شوق باقی رہے۔ خصوصیت کے ساتھ جب عورتیں زیارت کرنا چاہیں تو انھیں چاہیئے کہ اپنے کو مردوں سے الگ رکھیں اور تنہائی میں زیارت کریں اور اگر رات کا وقت ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ اورانھیں یہ بھی چاہیئے کہ اپنی وضع کو بدل کر یعنی بہترین اور خوبصورت لباس کے بجائے معمولی لباس پہن کر جائیں تاکہ لوگوں کی نگاہ نہ پڑے اور خاموشی سے باہر آ جائیں تا کہ کم سے کم لوگ ان کو دیکھیں یا پہچانیں۔ مردوں کے مجمع میں زیارت کرنا جائز ہے لیکن بہر حال اس کا ثواب یقیناً کم ہو جائے گا۔