EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
فضیلت مسجد کوفہ
مسجد کوفہ کی واقعی فضیلت بیان سے باہر ہے اور اس کے لئے یہی کافی ہے کہ ان چار مسجدوں میں ہے جن کی طرف سفر کرنے اور ان کی فضیلت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور ان مقامات پر مسافر کو قصر اور اتمام کا اختیار دیا گیا ہے اور وہاں کی نماز فریضہ ایک حج مقبول اور ہزار نمازوں کے برابر ہے جو دوسرے مقام پر ادا کی جائیں۔ اور روایت میں وارد ہوا ہے کہ مسجد کو فہ محل نماز انبیاء و مرسلین ہے اور یہی محلِ نماز امام مہدیؑ قرار پائے گی۔ اور روایت میں یہ بھی ہےکہ یہاں ہزار پیغمبرؐوں اور ہزار اوصیاء نے نماز ادا کی ہے بلکہ بعض روایات کے مطابق مسجد مسجد اقصیٰ سے بھی افضل ہے جو بیت المقدس میں ہے۔ ابن قولویہ نے امام محمد باقرؑ سے روایت کی ہے کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ مسجد کوفہ کی فضیلت کیا ہے تو یقیناً دور دراز علاقوں سے زاد فراہم کر کے اس مسجد میں ضرور حاضری دیں گے اور فرمایا اس مسجد میں نماز واجب ایک حج مقبول کے برابر اور نماز نافلہ ایک عمرہ کے مثل ہے جو رسولؐ اکرم کے ساتھ انجام دیا جائے۔ شیخ کلینیؒ وغیرہ کے مشائخ عظام کے حوالہ سے ہارون بن خارجہ سے روایت کی ہے کہ امام صادقؑ نے مجھ سے فرمایا کہ ہارون تمہارے اور مسجد کوفہ کے درمیان کس قدر مسافت ہے، کیا ایک میل ہوگی؟ میں نے عرض کی نہیں فرمایا تو پھر نمازیں وہاں ادا نہیں کرتے ہو؟ عرض کی نہیں____فرمایا اگر میں اس مسجد کے نزدیک ہوتا تو مجھ سےکوئی نماز بھی فوت نہ ہوتی اور میں تمام نمازیں وہیں ادا کرتا۔ کیا تم جانتے ہو کہ اس جگہ کی فضیلت کیا ہے؟ کوئی بندۂ صالح اور پیغمبر ایسا نہیں ہے جس نے وہاں نماز ادا نہ کی ہو۔ یہاں تک کہ رسولؐ اکرم جس رات معراج پر تشریف لے گئے جبریل نے عرض کی کہ یا رسولؐ اللہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کہاں ہیں؟ اس وقت آپ مسجد کوفہ کے مقابلہ میں ہیں تو حضرت نے پروردگار سے اجازت طلب کی دو رکعت نماز ادا کریں اور جبرئیل نے مالک سے اجازت لے کر حضرت کو خبر دی ۔ آپ وہاں تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز ادا کی ۔ یاد رکھو اس کے داہنی طرف جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور اس کے درمیان بھی ایک باغِ جنت ہے اور اس کے پیچھے بھی ایک باغِ جنت ہے۔ یقیناً اس میں نمازِ واجب ہزار نمازوں کے برابر ہے اور نماز نافلہ پانچ سو نمازوں کے برابر ہے اور وہاں بیٹھنا بھی عبادت ہے اور اگر تم کو معلوم ہو جائے کہ وہاں کیا فضیلت پائی جاتی ہے تو چاہے بچوں کی طرح رگڑتے ہوئے آؤ مگر ضرور آؤ گت۔ اس روایت میں ہے کہ وہاں نماز واجب ایک حج برابر ہے اور نماز نافلہ ایک عمرہ کے برابر ہے۔
حضرت امیرالمومنینؑ کی ساتویں زیارت کے ذیل میں بھی اس مسجد کے فضائل کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسجد کا دایاں حصہ بائیں حصہ سے زیادہ افضل ہے۔