EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
دکۃ القضٓاء اور بیت الطشت کے اعمال
واضح رہے کہ دکۃ القضاء مسجد میں وہ جگہ ہے جہاں بیٹھ کر امیرالمومنینؑ کے فیصلے فرمایا کرتے تھے۔ اس جگہ پر ایک چھوٹا سا ستون تھا جس پر لکھا ہوا تھا
اِنَّ اللهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ
اور بیت الطشت وہ جگہ ہے جہاں امیرالمومنینؑ نے اس لڑکی کے بارے میں فیصلہ کیا تھا جو بغیر شوہر کے تھی اور ایک دن نہا رہی تھی کہ ایک جونک اس کے بدن میں داخل ہو گئی اور دھیرے دھیرے خون چوس کر بڑی ہو تی گئی اور لڑکی بھی بڑی ہوتی گئی یہاں تک لوگوں نے خیال کیا کہ یہ حاملہ ہے اور چاہا کہ بدکردار قرار دے کر اسے قتل کردیں لیکن جب امیرالمومنینؑ کے پاس لائے تو آپ نے حکم دیا کہ مسجد میں ایک طرف پردہ کھینچ دیا جائے اور اس لڑکی کو بیٹھا دیا جائے ۔ کوفہ کی قابل دائی کو بلایا گیا کہ وہ تحقیق کرے۔ قابلہ نے تحقیق کے بعد کہا کہ یہ لڑکی حاملہ ہےاور اس کے شکم میں بچہ ہے۔ حضرت نے حکم دیا کہ گندے پانی سے ایک طشت بھرا جائے اور لڑکی کو اس میں بٹھا دیا جائے۔ جیسے ہی جونک نے گندے پانی کی بو محسوس کی فوراً بچی کے شکم سے باہر آگئی۔ اور بعض روایت میں ہے کہ حضرت نے ہاتھ بڑھا کر شام کے پہاڑ سے برف کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اس طشت کے پاس رکھ دیا تا کہ وہ جانور اس بچی کے شکم سےباہر آجائے۔
اعمال مسجد بزرگ کوفہ
نیز واضح رہے کہ مسجد کے اعمال کی ترکیب میں مشہور یہی ہے کہ ستون چہارم کے اعمال کے بعد وسط مسجد میں جائیں اور وہاں کے اعمال بجا لائیں اور دکۃ القضاء اور بیت الطشت کے اعمال میں سب کے بعد دکۂ امامِ صادقؑ سے فارغ ہونے کے بعد بجا لائیں لیکن ہم نے ترتیب سے نقل کیا ہے جیسے سید بن طاؤسؒ نے مصباح الزائر میں علامہ مجلسیؒ نے بحار میں اور شیخ خضرؒ نے مزار میں نقل کیا ہے۔ اگر کوئی شخص ترتیب مشہور پر عمل کرنا چاہے توا عمال دکۃ القضاء اور بیت الطشت کو ستون چہارم کے بعد بجا لائے۔ اور آخر میں مقام امام صادقؑ کے بعد بجا لائے۔ بہرحال اس کے بعد دکۃ القضاء کی طرف جا کر دو رکعت نماز ادا کرے الحمد اور جس سورہ کے ساتھ چاہے۔ نماز کے بعد تسبیح جناب زہراؑ پڑھے اور کہے۔
يَا مَالِكِيْ وَ مُمَلِّكِيْ
وَ مُتَغَمِّدِيْ [مُعْتَمَدِيْ‏] بِالنِّعَمِ الْجِسَامِ
مِنْ غَيْرِ اسْتِحْقَاقٍ
وَجْهِيْ خَاضِعٌ لِمَا تَعْلُوْهُ الْاَقْدَامُ
لِجَلَالِ وَجْهِكَ الْكَرِيْمِ
لَا تَجْعَلْ هٰذِهِ الشِّدَّةَ وَ لَا هٰذِهِ الْمِحْنَةَ
مُتَّصِلَةً بِاسْتِيْصَالِ الشَّأْفَةِ
وَ امْنَحْنِيْ مِنْ فَضْلِكَ
مَا لَمْ تَمْنَحْ بِهِ اَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَسْاَلَةٍ
اَنْتَ الْقَدِيْمُ الْاَوَّلُ
الَّذِيْ لَمْ تَزَلْ وَ لَا تَزَالُ
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَ اغْفِرْ لِيْ وَ ارْحَمْنِيْ
وَ زَكِّ عَمَلِيْ
وَ بَارِكْ لِيْ فِيْ اَجَلِيْ
وَ اجْعَلْنِيْ مِنْ عُتَقَاۤئِكَ وَ طُلَقَاۤئِكَ مِنَ النَّارِ
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اعمال بیت الطشت :۔کو دکۃ القضاء سے متصل ہے۔ وہاں دو رکعت نماز ادا کرے۔ سلام کے بعد یں کہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ ذَخَرْتُ تَوْحِيْدِيْ اِيَّاكَ
وَ مَعْرِفَتِيْ بِكَ
وَ اِخْلَاصِيْ لَكَ
وَ اِقْرَارِيْ بِرُبُوْبِيَّتِكَ
وَ ذَخَرْتُ وِلَايَةَ مَنْ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ بِمَعْرِفَتِهِمْ مِنْ بَرِيَّتِكَ
مُحَمَّدٍ وَ عِتْرَتِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِمْ
لِيَوْمِ فَزَعِيْ اِلَيْكَ عَاجِلًا وَ اٰجِلًا
وَ قَدْ فَزِعْتُ اِلَيْكَ وَ اِلَيْهِمْ يَا مَوْلَايَ
فِيْ هٰذَا الْيَوْمِ وَ فِيْ مَوْقِفِيْ هٰذَا
وَ سَاَلْتُكَ مَآدَّتِيْ [مَا زَكٰى‏] مِنْ نِعْمَتِكَ
وَ اِزَاحَةَ مَاۤ اَخْشَاهُ مِنْ نِقْمَتِكَ
وَ الْبَرَكَةَ فِيْمَا رَزَقْتَنِيْهِ
وَ تَحْصِيْنَ صَدْرِيْ مِنْ كُلِّ هَمٍّ
وَ جَاۤئِحَةٍ وَ مَعْصِيَةٍ
فِيْ دِيْنِيْ وَ دُنْيَايَ وَ اٰخِرَتِيْ
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
روایت میں بھی ہے امام صادقؑ بیت الطشت میں دورکعت نماز ادا کرتے تھے۔