وَ يَا جَابِرَ كُلِّ كَسِيْرٍ
وَ يَا حَاضِرَ كُلِّ مَلَإٍ
وَ يَا شَاهِدَ كُلِّ نَجْوٰى
وَ يَا عَالِمَ كُلِّ خَفِيَّةٍ
وَ يَا شَاهِدًا [شَاهِدُ] غَيْرَ غَاۤئِبٍ
وَ يَا غَالِبًا [غَالِبُ] غَيْرَ مَغْلُوْبٍ
وَ يَا قَرِيْبًا [قَرِيبُ] غَيْرَ بَعِيْدٍ
وَ يَا مُوْنِسَ كُلِّ وَحِيْدٍ
وَ يَا حَيًّا حِيْنَ لَا حَيَّ غَيْرُهُ
يَا مُحْيِيَ الْمَوْتٰى وَ مُمِيْتَ الْاَحْيَاۤءِ
الْقَاۤئِمَ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔
اپنی حاجتیں خدا سے طلب کریں
مؤلّف کا بیان ہے کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور دوبارہ پھر کہہ رہا ہوں کہ مزارِ قدیم اور لوگوں کے درمیان اعمال مسجد کی ترتیب میں مشہور یہ ہے کہ اس جگہ کے بعد اعمال دکّۃ القضاء اور اعمال بیت الطشت بجالائے جس کو ہم نے مصباح الزائر اور بحار وغیرہ کے مطابق ستون چہارم ے بعد نقل کیا ہے لہٰذا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بطور مشہور عمل کیا جائے اور دونوں جگہ کے اعمال بعد میں بجالائے جائیں۔