EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
تیسری زیارت مطلقہ
یہ وہ زیارت مختصر ہے جس کو سید بن طاؤسؒ نے مزار میں نقل کیا ہے اور اس کے بہت سے فضائل ہیں۔ سناد کو چھوڑ کر جابر جعفی سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا ہے کہ جابر تمہارے اور قبر حسینؑ کے درمیان کس قدر مسافت ہے؟ جابر نے عرض کی کہ ایک میل یا کچھ زیادہ۔ فرمایا کہ حضرت کی زیارت کو جاتے ہو؟ عرض کی قربان ضرور؟ فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص زیارت حسینؑ کے لئے تیار ہو تو اسے آسمان کے فرشتے بشارت دیتے ہیں اور جب گھر سے سوار یا پیادہ نکلتا ہے تو پروردگار ہزار فرشتے معین کردیتا ہے جو اس پر صلوات بھیجتے رہتے ہیں جب تک قبرِ حسینؑ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر یہ کلمات کہو جس میں ہر کلمہ کے مقابلہ میں پروردگاررحمت عنایت فرماتا ہے۔ عرض کیا۔ وہ کلمات کیا ہیں؟ فرمایا کہو۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ اٰدَمَ صَفْوَةِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ نُوْحٍ نَبِيِّ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ اِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ مُوْسٰى كَلِيْمِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ عِيْسٰى رُوْحِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ رُسُلِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ عَلِيٍّ
اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ خَيْرِ الْوَصِيِّيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ الْحَسَنِ الرَّضِيِّ
الطَّاهِرِ الرَّاضِي الْمَرْضِيِّ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْوَصِيُّ الْبَرُّ التَّقِيُّ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلَى الْاَرْوَاحِ الَّتِيْ حَلَّتْ بِفِنَاۤئِكَ وَ اَنَاخَتْ بِرَحْلِكَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلَى الْمَلَاۤئِكَةِ الْحَآفِّيْنَ بِكَ
اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ اَقَمْتَ الصَّلَاةَ وَ اٰتَيْتَ الزَّكَاةَ
وَ اَمَرْتَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ
وَ جَاهَدْتَ الْمُلْحِدِيْنَ وَ عَبَدْتَ اللّٰهَ حَتّٰى اَتَاكَ الْيَقِيْنُ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ،
اس کے بعد قبر مطہر کی طرف قدم آگے بڑھائے کہ پروردگار عالم ہر قدم پر اس شہید کا ثواب دیتا ہے جو اپنے خون میں ڈوب جائے۔ قبر کے پاس پہنچ کر اپنے ہاتھوں کو قبر سے مس کرے اور کہے
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللهِ فِىۤ اَرْضِهِ‏
اس کے بعد جس قدر چاہے نماز ادا کرے کہ ہر رکعت کے بدلہ میں پروردگار عالم ہزار حج اور ہزار عمرہ اور ہزار غلاموں کے آزاد کرنے کا ثواب دیتا ہے اور انسان ویسا ہو جاتا ہے جیسے ہزار مواقع پر کسی پیغمبر مرسل کے ساتھ رہا ہو۔ یہ روایت اس سے پہلے آدابِ زیارت میں مفصل بن عمر کے نام سے نقل کی جا چکی ہے۔