لہذا اس کے بعد جو اضافے کئے گئے ہیں
فِىْ الْجِنَانِ مَعَ النَّبِيِّيْنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ
وَ الشُّهَدَاۤءِ وَ الصَّالِحِيْنَ
وَ حَسُنَ اُوْلٰۤئِكَ رَفِيْقًا۔
اَلسَّلَامُ عَلٰى مَنْ كَانَ فِىْ الْحَاۤئِرِ مِنْكُمْ
وَ عَلٰى مَنْ لَمْ يَكُنْ فِىْ الْحَاۤئِرِ مَعَكُمْ۔۔۔۔
یہ سب فضول ہیں اور میرے اسناد شیخ محدث نوریؒ نے لولو مرجان میں فرمایا ہے کہ یہ کلمات واضح غلط بیانیوں پر مشتمل ہیں اوراس میں بدعت کے علاوہ امام کے بیان پر اضافہ بھی ہے مگر افسوس کہ یہ اضافے اس قدر مشہور ہو گئے کہ روز و شب میں ہزاروں مرتبہ امام حسینؑ کے سامنے اور ملائکہ کی موجودگی میں اور انبیاء کی حضوری میں بہ آواز بلند ن کلمات کا دہرایا جاتا ہے اور کوئی ٹوکنے والا نہیں ہوتا ہے اور نہ کوئی اس جھوٹ کے لئے نہی عن المنکر کرتا ہے۔یہاں تک کہ دھیرے دھیرے یہ کلمات بعض احمقوں کے مجموعہ میں شامل ہو گئے ہیں اور اس مجموعہ کا اچھا سانام رکھ کر اسے شائع اور منتشر کر دیا گیا ہے اور پھر ایک احمق کے مجموعہ سے دوسرے احمق کی طرف نقل ہو رہا ہے اور حدیہ ہے کہ بعض طلابِ علم دین بھی اس نکتہ کو نہ سمجھ سکے۔ چنانچہ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک طالب علم شہداء کے حضور انھیں خرافات کو پڑھ رہا ہے۔ میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ کیا اہلِ علم کے لئے یہ بات قبیح نہیں ہے کہ ایسے مقدس مقام پر ایسا جھوٹ بولیں۔ اس نے کہا کہ کیا یہ روایت نہیں ہے۔ میں نے تعجب کیا اور کہا ہرگز نہیں ! اس نے کہا کہ میں نے ایک کتاب میں دیکھا ہے۔ میں نے کہا کہ کون سی کتاب میں؟ کہا کہ مفتاح الجنان میں! میں خاموش ہو گیا کہ اگر انسان اس قدر بے اطلاع ہو جائے کہ عوام کے جمع کردہ کلام کو مستند قرار دینے لگے تو ایسا انسان بات کرنے کے لائق بھی نہیں ہے۔