EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
کتب حدیث میں نااہلوں کا تصرف
مؤلّف کا بیان ہے کہ اس شیخ جلیلؒ کی فرمائش پر غور کرنا چاہیئے کہ وہ مذاقِ شرعی کو خوب پہچانتے تھے اور یہ مسئلہ ان کے لئے اس قدرسخت تھا کہ وہ جانتے تھے کہ اس کام کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ اس کے برخلاف جو لوگ علوم اہلبیتؑ سے بے بہرہ ہیں اور صرف چند اصطلاحات و الفاظ کے یاد کت لینے ہی کو کافی سمجھتے ہیں۔ ان کی نظرمیں ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بہر حال نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مصباح المتہجد، مصباح الدّعوات،جمال الاسبوع، مصباح الزائر، بلد الامین، جُنۃ الواقیہ، مفتاح الفلاح، مقباس، ربیع الاسابیع، تحفہ، زادالمعاد وغیرہ جیسی کتابیں متروک ہو گئیں اور ایسے احمقانہ مجموعے شائع ہو گئے کہ جن میں دعائے مجیر جیسی دعا میں ۸۰ مرتبہ بِعفوِکَ کاا ضافہ کر دیا گیا ہے اور کسی نے منع بھی نہیں کیا ہے اور دعائے جوشن کبیر میں سو فصلیں تھیں تو ہر فصل کے لئے ایک خاصیت گڑھ لی گئی ہے اور بکثرت زیارات کے ہوتے ہوئے ایک زیارت مفجعہ بنا لی گئی ہے اور بے شمار معتبر دعاؤں کے ہوتے ہوئے جن کے مضامین بلند کلمات پر مشتمل تھے ایک دعائے حبی تیار کر لی گئی گئیں کہ انسان حیران ہو کر رہ جائے جن میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ جبرئیل امین نے رسولؐ اکرم تک مالک کا یہ پیغام پہنچایا کہ جو بندہ اس دعا کو اپنے ساتھ رکھے گا میں اس پر ہرگز عذاب نہ کروں گا چاہے مستحقِ جہنم ہی کیوں نہ ہو اور ساری زندگی معصیت ہی میں کیوں نہ گذاری ہو اور ایک سجدہ بھی نہ کیا ہو۔ میں اس بندہ کو ستّر ہزار پیغمبروں کا ثواب دوں گااور ستّر ہزار شہید ، ستّر ہزار نماز گذار، ستّر ہزار برہنہ لوگوں کو لباس دینے والےاور ستّر ہزار لوگوں کو سیر کرنے والوں کا ثواب عطا کروں گا اور اس کا ثواب صحراؤں کی ریت کے برابر ہو گا اور ستّر ہزار بقعۂ زمین کا ثواب دے دوں گی اور رسولؐ اکرم کی مہر نبوت و رسالت کا ثواب دے دوں گااور اس کے ساتھ عیسیٰؑ روح اللہ ، ابراہیمؑ خلیل اللہ، اسماعیل ذبیح اللہ، موسیٰؑ کلیم اللہ، یعقوب نبی اللہ، آدم صفی اللہ اور جبرئیل ،میکائیل، اسرافیل، عزرائیل اور تمام فرشتوں کا چواب دے دوں گا۔ اے محمدؐ جو بھی اس دعائے حبّی کو پڑھ لے گایا اپنے ساتھ رکھے اس کو بخش دوں گا اور مجھے اس پر عذاب کرتے ہوئے شرم آئے گی۔ مناسب ہے کہ انسان ان باتوں کو سننے کے بعد ہنسنے کے بجائے گریہ کرے کہ شیعہ دعاؤں کی کتابیں اس قدر متقن تھیں کہ ایک سے ایک کتاب نقل کی جاتی تھی اور اہلِ علم ان کے نقل کرنے والے ہوتے تھے اور پھر اس نسخہ سے نقل کی جاتی تھیں جو اہلِ علم کے طرف سے تصحیح شدہ اور علماء کی طرف سے مقابلہ کے بعد تیار ہوا ہو اور اگر کوئی اختلاف ہو تو حاشیہ پر اسے بھی لکھ دیا جائے۔ مثلاً دعائے مکارم الاخلاق میں و بلِّغْ بِایٖمٰانٖی ہے یا مثلاً فلاں کلمہ ابن سکون کے خط میں اس طرح ہے اور شہید کے خط میں اس طرح ہے مگر اب نوبت یہ آگئی ہے کہ تمام کتاب مفتاح الجنان پر منحصر ہو گیا ہے جس کے حالات ابھی آپ نے ملاحظہ فرمائے کہ یہ کتاب مرجع عوام و خواص و عرب و عجم ہو گئی ہے اور یہ صرف اہلِ علم کے حدیث و اخبار سے بے اعتنائی اور علماء و فقہاءِ اہلبیتؑ کی کتابوں کی طرف توجہ نہ کرنے کا نتیجہ ہے اور نتیجہ اس بات کا ہے کہ بدعات، اضافات، تحریفِ جہلاء اور تصرف نا اہلان کی مخالفت نہیں کی گئی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ سب نے اپنے اپنے سلیقہ سے دعاء زیارت اور صلوات ایجاد کر لی اور متعدد مجموعہ اسی طرح سے تیار کر کے چھاپ دیئے گئے اور مفتاح الجنان کے بچے بھی پیدا ہو گئے اور دھیرے دھیرے یہ خرابیاں دوسری کتابوں میں بھی داخل ہو گئیں۔ مثال کے طور پر حقیر کی کتاب منتہی الآمال کو حال ہی میں چھاپا گیا ہے تو بعض لوگوں نے اپنے سلیقہ سے اس میں بھی تصرف کر دیا ہے اور مالک بن یسر ملعون کے حالات میں اس طرح لکھ دیا ہے کہ امام حسینؑ کی بددعا سے اس کے دونوں ہاتھ بیکار ہو گئے‘‘الحمدللہ’’۔ گرمی میں وہ خشک لکڑیوں جیسے ہوتے تھے‘‘الحمدللہ’’ اور سردیوں میں ان سے خون ٹپکتا تھا ‘‘الحمدللہ’’ اور یہ اس کا انجام ہوا ‘‘الحمدللہ’’۔ گویا دوسطروں میں چار مرتبہ لفظ ‘‘الحمدللہ’’ کا اضافہ کر دیا گیا ہے جب کہ اس کا اصل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یا بعض مقامات پر جناب زینبؑ اور ام کلثومؑ کے ساتھ اپنے ذاتی ذوق کی بنا پر لفظ خانم کا اضافہ کر دیا گیا ہے ‘‘زینب خانم’’‘‘ام کلثوم خانم’’ تا کہ ان مخدرات کی تجلیل ہو سکے۔ یا حمید بن قحبطہ سے کاتب کو نفرت تھی تو اس نے اس کو حمید بن قحبطہ لکھ دیا۔ لیکن یہ احتیاط کی کہ قحبطہ کو بھی نسخہ بدل کے طور پر لکھ دیا یا عبدربہ کو نامناسب سمجھ کر ام السّلمہ بنا دیا وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام مطالب کو نقل کرنے سے میرا مقصد یہ تھا کہ ایک طرف ان تصرفات کی نشاندہی کر دی جنھیں اس شخص نے اپنے سلیقہ سے ناقص کا کامل اور کامل کو ناقص بنا دیا ہے اور یہیں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جن چیزوں کو ہم اپنی جہالت و نادانی کی بنا پر دعاؤں میں داخل کر دیتے ہیں یا اپنے ناقص سلیقہ کی بنا پر تصرفات کر دیتے ہیں اور اس کو کمال تصور کرتے ہیں یہ امور اس کے اہلِ فن کے نزدیک سبب نقصان ہیں اور انھیں کی وجہ سے دعائیں اور زیارت غیر معتبر ہوتی ہیں لہٰذا مناسب یہی ہے کہ اس باب مین کسی طرح کی مداخلت نہ کی جائے اور جس طرح معصومینؑ نے فرمایا ہے ویسے ہی عمل کیا جائے اور اس تجاوز نہ کیا جائے۔ دوسرا سبب یہ بھی تھا کہ یہ بھی معلوم ہو جائے کہ جب ایک مؤلّف کی زندگی میں یہ کام ہو سکتاہے تو دوسری کتابوں کا حشر کیا ہو گا اور ان کتابوں کا کیا اعتبار رہ جائے گا علاوہ ان چند مشہور و معروف کتابوں کے جو مشہور علماء کی تصنیفات میں ہیں اور علماء فن کی نظروں سے گذر چکی ہیں اور انھوں نے ان پر امضاء بھی کر دیا ہے جیسا کہ ثقہ جلیل فقیہ بزرگوار یونس بن عبدالرحمٰن کے حالات میں لکھا گیا ہے کہ انھوں نے روزانہ کے اعمال میں ایک کےکتاب لکھی تھی اور جناب ابو ہاشم جعفری نے اس کتاب کو امام حسن عسکریؑ کےسامنے پیش کیا تو حضرت نے پوری کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد فرمایا کہ یہی میرا اور میرے آباء وجداد کا دین ہے اور یہی حق ہے۔ دیکھئے ابوہاشم جعفری نے یونس بن عبدالرحمٰن کے کامل علم و فقاہت و دیانت کے جاننے کے باوجود اپنے ذاتی علم پر اعتبار نہیں کیا بلکہ کتاب کو قابلِ عمل بنانے کے لئے اسے امام کی خدمت میں پیش کیا تا کہ وہ تصدیق فرما دیں۔ اسی طرح بورق شنجانی ہراتی سے مروی ہے جو انتہائی مردِ صادقؑ، صاحب صلاح و رتقویٰ تھے کہ وہ سامرہ میں امام عسکریؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شیخ جلیل القدر فضل بن شاذان نیشاپوری کی کتاب یوم ولیلہ کو آنحضرت کو دیا اور کہا کہ میں آپ پر قربان! چاہتا ہوں کہ اس پر نظرثانی فرمالیں اور ورق ورق ملاحظہ فرما لیں۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ کتاب صحیح ہے۔ اس پر عمل ہو سکتا ہے۔ یہ حقیر اگرچہ اس زمانے کے لوگوں کے ضعف کو جاننا ہے اور اسےمعلوم ہے کہ وہ اس طرح کے مسائل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ پھر بھی اتمامِ حجت کے لئے بے پناہ کوشش کی کہ دعائیں اور زیارات منقولہ کو اس کتاب میں حتی الامکان اصلی نسخوں سے نقل کیا جائے اور پھر متعدد نسخوں سے ملا لیا جائے اور جہاں تک ممکن ہو اس کی تصحیح کر دی جائے تا کہ اس پر عمل کرنے والا بہ اطمینان عمل کر سکے، بشرطیکہ بعد کے کاتب اور نقل کرنے والے ان میں کوئی تصرف نہ کر دیں اور پڑھنے والے اپنے سلیقہ اور ذوق کو شامل نہ کریں۔ شیخ کلینیؒ نے عبدالرحیم قصیر سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ میں آپ پر قربان! میں نے اپنے پاس سےایک دعا تیار کی ہے۔ فرمایا اپنی ایجاد کو اپنے پاس رکھو مجھ سے بیان نہ کرو۔ یعنی حضرت نے سننا بھی گوارا نہیں کیا اور خود آپ نے ایک دستور العمل بیان فرمایا۔ شیخ صدوقؑ نے عبداللہ بن سنان سے روایت کی ہے کہ امام صادقؑ نے فرمایا کہ عنقریب تمہارے پاس وہ شبہات آنے والے ہیں جن میں نشانِ منزل پوشیدہ ہو جائے گا اور ان شبہات میں وہی شخص نجات پا سکے گا جو دعائے غریق کو پڑھے گا۔ میں نے عرض کی حضور یہ دعائے غریق کیا ہے؟ فرمایا۔
يَاۤ اَللّٰهُ يَا رَحْمَانُ يَا رَحِيْمُ
يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ
ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰى دِيْنِكَ
راوی نے کچھ اضافی الفاظ استعمال کر کے یہی دعا اس طرح پڑھی
يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ وَ الْاَبْصَارِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰى دِيْنِكَ۔
فرمایا کہ بیشک خدا قلب و نظر دونوں کا پلٹنے والا ہے مگر ویسے ہی کہو جیسے میں نے تم کو تعلیم دی ہے
ان دو روایات میں تامل کرنے کے بعد ان لوگوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیئے جو دعاؤں میں اپنے سلیقہ سے اضافہ کر دیتے ہیں اور کسی بھی طرح کا تصرف کر دیتے ہیں۔اس کے بعد اللہ ہی سب کو محفوظ رکھنے والا ہے۔