EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
حضرت عبّاس علیہ السّلام کی فضیلت
مؤلّف کابیان ہےکہ روایت میں امام سجادؑ سے منقول ہے آپ نے فرمایا کہ خدا رحمت کرے حضرت عبّاسؑ پر کہ انھوں نے اپنے بھائی کو اپنے اوپر مقدم رکھا اور اپنی جان کو ان کے اوپر قربان کر دیا یہاں تک کہ ان کے دونوں ہاتھ قلم ہو گئے اور پروردگار نے اس کے عوض میں انھیں وہ بال و پر عنایت کر دیئے جن کے ذریعہ آپ جعفر طیارؒ کی طرح فرشتوں کے ساتھ جنت میں پرواز کر رہے ہیں۔ حضرت عبّاسؑ کے لئے پیشِ پروردگار وہ منزلت ہے جس کی روزِ قیامت تمام شہداء آرزو کریں گے۔
روایت میں ہے کہ وقتِ شہادت آپ کی عمر ۳۴ سال تھی اور آپ کی مادر گرامی جناب امّ البنین آپ کے ماتم میں اور آپ کے بھائیوں کے غم میں بیرونِ مدینہ بقیع میں جاکر ایسا گریہ کرتی تھیں کہ ہر گذرنے والا دوست و دشمن بے قرار ہو جاتا تھا یہاں تک کہ مروان بن حکم جیسا شخص جو بدترین دشمن خاندانِ رسالت تھا وہ بھی اس منظر کو دیکھ کر بے چین ہو جاتا تھا۔ آپ سے حضرت عبّاسؑ کے مرثیہ میں یہ اشعار بھی نقل کئے گئے ہیں۔
يَا مَنْ رَاَى الْعَبَّاسَ كَرَّ عَلَى جَمَاهِيْرِ النَّقَدِ
وَ وَرَاهُ مِنْ اَبْنَاۤءِ حَيْدَرَ كُلُّ لَيْثٍ ذِيْ لَبَدٍ
اُنْبِئْتُ اَنَّ ابْنِيْ اُصِيْبَ بِرَأْسِهِ مَقْطُوْعَ يَدٍ
وَيْلِيْ عَلٰى شِبْلِيْ اَمَالَ بِرَأْسِهِ ضَرْبُ الْعَمَدِ
لَوْ كَانَ سَيْفُكَ فِيْ يَدَيْكَ لَمَا دَنَا مِنْهُ اَحَدٌ
اس کے بعد آپ نے ان آیتوں کی تلاوت فرمائیں:
لَا تَدْعُوَنِّيْ وَيْكِ اُمَّ الْبَنِيْنَ تُذَكِّرِيْنِيْ بِلُيُوْثِ الْعَرِيْنِ
كَانَتْ بَنُوْنَ لِيْ اُدْعٰى بِهِمْ وَ الْيَوْمَ اَصْبَحْتُ وَ لَا مِنْ بَنِيْنَ
اَرْبَعَةٌ مِثْلُ نُسُوْرِ الرُّبٰى قَدْ وَاصَلُوْا الْمَوْتَ بِقَطْعِ الْوَتِيْنِ
تَنَازَعَ الْخِرْصَانُ اَشْلَاۤءَهُمْ فَكُلُّهُمْ اَمْسٰى صَرِيْعًا طَعِيًنَ
يَا لَيْتَ شِعْرِيۤ اَ كَمَاۤ اَخْبَرُوْا بِاَنَّ عَبَّاسًا قَطِيْعُ الْيَمِيْنِ