تیسری زیارت ١٥ شعبان
جس کی فضیلت میں بے شمار حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور اس کے لئے اتناہی کافی ہے کہ مختلف اسناد سے امام زین العابدینؑ اور امام صادقؑ سے روایت ہےجو شخص ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں سے مصافحہ کرنا چاہے وہ نیمۂ شعبان میں امام حسینؑ کی زیارت کرے کہ اس دن تمام ارواحِ انبیاء و مرسلین مالک سے اجازت لے کر آپ کی زیارت کے لئے آتی ہیں اور کیا کہنا اس کاجوان حضرات سے مصافحہ کر لے اور وہ اس سے مصافحہ کریں۔ اور ان کے ساتھ پانچ پیغمبرانِ اولوالعزم نوحؑ و ابراہیمؑ و موسیٰؑ و عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفےٰؐ بھی ہوں۔ راوی نے عرض کی کہ یہ پانچ اولوالعزم کیسے ہوگئے؟ فرمایا کہ یہ مشرق و مغرب سب کی طرف نبی بنائے گئے تھے۔ اس زیارت کے الفاظ دو طریقے سے نقل ہوئے ہیں۔ ایک وہی زیارت ہے جو اوّل رجب میں نقل کی گئی ہے اور دوسری وہ زیارت ہے جو شیخ کفعمیؒ نے بلدالامین میں امام صادقؑ سے نقل کی ہے کہ قبر کے پاس کھڑے ہو کر یوں کہے۔
وَ السَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الزَّكِيُّ
اُوْدِعُكَ شَهَادَةً مِنِّيْ لَكَ تُقَرِّبُنِيْ اِلَيْكَ فِيْ يَوْمِ شَفَاعَتِكَ
اَشْهَدُ اَنَّكَ قُتِلْتَ وَ لَمْ تَمُتْ
بَلْ بِرَجَاۤءِ حَيَاتِكَ حَيِيَتْ قُلُوْبُ شِيْعَتِكَ
وَ بِضِيَاۤءِ نُوْرِكَ اهْتَدَى الطَّالِبُوْنَ اِلَيْكَ
وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ نُوْرُ اللّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يُطْفَأْ وَ لَا يُطْفَاُ اَبَدًا
وَ اَنَّكَ وَجْهُ اللّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَهْلِكْ وَ لَا يُهْلَكُ اَبَدًا
وَ اَشْهَدُ اَنَّ هٰذِهِ التُّرْبَةَ تُرْبَتُكَ
وَ هٰذَا الْحَرَمَ حَرَمُكَ
وَ هٰذَا الْمَصْرَعَ مَصْرَعُ بَدَنِكَ
لَا ذَلِيْلَ وَ اللّٰهِ مُعِزُّكَ
وَ لَا مَغْلُوْبَ وَ اللّٰهِ نَاصِرُكَ
هٰذِهِ شَهَادَةٌ لِيْ عِنْدَكَ اِلٰى يَوْمِ قَبْضِ رُوْحِيْ بِحَضْرَتِكَ
وَ السَّلَامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ۔