EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
چوتھی زیارت لیالی قدر
واضح رہے کہ زیارت امام حسینؑ کی فضیلت ماہِ رمضان میں بالخصوص شب اوّل، شبِ نیمۂ رمضان، آخر رمضان اور بالخصوص شبِ قدر میں بہت زیادہ ہے اور اس کے بارے میں احادیث بہت ہیں۔ امام محمد تقی علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص شبِ ۲۳ میں امام حسینؑ کی زیارت کرے جس کے بارے میں امید قوی ہے کہ اسی رات میں سارے امور کا فیصلہ ہوتا ہے تو گویا اس سے چوبیس ہزار ملائکہ و انبیاء کی روح نے مصافحہ کیا جو مالک سے اجازت لے کر اس رات میں حضرت کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔دوسری معتبر حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو آسمانِ ہفتم سے فضائے عرش سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ پروردگارنے تمام زائرینِ قبر حسینؑ کو بخش دیا ہے۔ روایت میں ہے کہ جو شخص شبِ قدر میں حضرت کی قبر کے پاس رہےاور دو رکعت نماز ادا کرے اور جس قدر ممکن ہو پروردگار سے سوال کرےبہشت حاصل ہونے اور جہنم سے بچنے کے لئے تو پروردگار اس کے سوال کو پورا کر دیتا ہے اور اسے جہنم سے نجات دے دیتا ہے۔ ابن قولویہؒ نے امام صادقؑ سے روایت کی ہے جو شخص ماہِ رمضان میں امام حسینؑ کی زیارت کرے اور راہِ زیارت میں مرجائے تو اس کے واسطے کوئی حساب نہیں ہے اور اس سے کہا جائے گا کہ بلا خوف جنت میں داخل ہو جا۔ شبِ قدرمیں حضرت کی زیارت کے لئے شیخ مفیدؒ، شیخ طوسیؒ، محمد بن مشہدیؒ، ابن طاؤسؒ اور شہیدؒ وغیرہ نے کتب مزار میں یوں نقل کیا ہے کہ زیارت اس رات کے لئے اور روز عید الفطر و عیداضحیٰ کے لئے مخصوص ہے اور شیخ محمد بن مشہدی نے اس کو اپنے معتبر اسناد کے ساتھ امام صادقؑ سے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ جب امام حسینؑ کی زیارت کرنا چاہو وہاں غسل کر کے پاکیزہ لباس پہن کر جاؤ اور درِ حرم پر قبرکے پاس کھڑے ہوکر حضرت کی طرف رخ کر کے قبلہ کو پشت پر قرار دے کر یوں کہو۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ الصِّدِّيْقَةِ الطَّاهِرَةِ
فَاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِسَاۤءِ الْعَالَمِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَايَ يَاۤ اَبَا عَبْدِ اللّٰهِ
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ اَقَمْتَ الصَّلَاةَ
وَ اٰتَيْتَ الزَّكَاةَ
وَ اَمَرْتَ بِالْمَعْرُوْفِ
وَ نَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ
وَ تَلَوْتَ الْكِتَابَ حَقَّ تِلَاوَتِهِ
وَ جَاهَدْتَ فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهِ
وَ صَبَرْتَ عَلَى الْاَذٰى فِي جَنْبِهِ مُحْتَسِبًا حَتّٰى اَتَاكَ الْيَقِيْنُ
اَشْهَدُ اَنَّ الَّذِيْنَ خَالَفُوْكَ وَ حَارَبُوْكَ
وَ الَّذِيْنَ خَذَلُوْكَ وَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْكَ
مَلْعُوْنُوْنَ عَلٰى لِسَانِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ
وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى
لَعَنَ اللّٰهُ الظَّالِمِيْنَ لَكُمْ مِنَ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَ
وَ ضَاعَفَ عَلَيْهِمُ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ
اَتَيْتُكَ يَا مَوْلَايَ يَا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ
زَاۤئِرًا عَارِفًا بِحَقِّكَ
مُوَالِيًا لِاَوْلِيَاۤئِكَ
مُعَادِيًا لِاَعْدَاۤئِكَ
مُسْتَبْصِرًا بِالْهُدَى الَّذِيۤ اَنْتَ عَلَيْهِ
عَارِفًا بِضَلَالَةِ مَنْ خَالَفَكَ
فَاشْفَعْ لِيْ عِنْدَ رَبِّكَ۔
اس کے بعد قبر اطہر سے لپٹ جائے اور اپنے رخسار کو قبر پر رکھ دے اور پھر بالائے سر جا کر یوں کہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللّٰهِ فِيۤ اَرْضِهِ وَ سَمَاۤئِهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى رُوْحِكَ الطَّيِّبِ وَ جَسَدِكَ الطَّاهِرِ
وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا مَوْلَايَ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ۔
اس کے بعد قبر سے لپٹ جائے۔ بوسہ دے اور اپنے رخساروں کو مس کرے۔ پھر بالائے سر جا کر دو رکعت نماز ادا کرے جس کے بعد پائینتی کی طرف جا کر حضرت علی اکبرؑ کی زیارت کرے اور یوں کہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَايَ وَ ابْنَ مَوْلَايَ
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ ظَلَمَكَ
وَ لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ قَتَلَكَ
وَ ضَاعَفَ عَلَيْهِمُ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۔
اس کے بعد جس قدر ممکن ہو دعا کرے
پھر پائینتی کی طرف آگے بڑھ کر زیارت شہداء کربلا اور یوں کہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُوْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ اَيُّهَا الشُّهَدَاۤءُ الصَّابِرُوْنَ
اَشْهَدُ اَنَّكُمْ جَاهَدْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ
وَ صَبَرْتُمْ عَلَى الْاَذٰى فِيْ جَنْبِ اللّٰهِ
وَ نَصَحْتُمْ لِلّٰهِ وَ لِرَسُوْلِهِ حَتّٰى اَتَاكُمُ الْيَقِيْنُ
اَشْهَدُ اَنَّكُمْ اَحْيَاۤءٌ عِنْدَ رَبِّكُمْ تُرْزَقُوْنَ
فَجَزَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الْاِسْلَامِ وَ اَهْلِهِ اَفْضَلَ جَزَاۤءِ الْمُحْسِنِيْنَ
وَ جَمَعَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ فِي مَحَلِّ النَّعِيْمِ۔
اس کے بعد حضرت عبّاؑس کی زیارت کے لئے جائے اور آپ کی قبر کے پاس کھڑےہوکر یوں کہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ اَمِيرِ الْمُؤْمِنِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ
الْمُطِيْعُ لِلّٰهِ وَ لِرَسُوْلِهِ
اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ جَاهَدْتَ وَ نَصَحْتَ
وَ صَبَرْتَ حَتّٰى اَتَاكَ الْيَقِيْنُ
لَعَنَ اللّٰهُ الظَّالِمِيْنَ لَكُمْ مِنَ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَ
وَ اَلْحَقَهُمْ بِدَرَكِ الْجَحِيْمِ۔
اس کے بعد جس قدر ممکن ہو نماز ادا کرے۔