EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
دعائے صد سبحان
اسے دعائے صحیفہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
سید ابن طاؤس اپنی کتاب "مہج الدعوات" میں لکھتے ہیں جو کہ اسلام کی بابرکت اور شاندار کتابوں میں سے ایک ہے کہ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ (ص) سے ملنے گیا تو میں نے آپ (ص) کو خوش اور مسکراتے ہوئے پایا۔
میں نے آپ(ص) سے پوچھا کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں! کون سی (اچھی) خبر ہے جس نے آپ کو خوش کیا ہے؟' رسول اللہ(ص) نے فرمایا: ابن عباس! جبرئیل(ع) میرے پاس ایک دعا لے کر آئے جو میرے اور میری امت کے لیے باعث برکت ہے۔
جبرئیل(ع) نے فرمایا: اے محمد! یہ دعا لو اور پڑھو اور اس کی تعظیم کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، اللہ نے اس دعا سے آپ کو اور آپ کی امت کو عزت بخشی ہے۔ حضور(ص) نے پوچھا: اے جبرئیل(ع) یہ کون سی دعا ہے؟
جبرئیل(ع) جو اللہ کے مقرّب فرشتوں میں سے ایک ہیں، انہوں نے فرمایا: یہ اللہ کی تسبیح اور تعظیم میں سے ایک ہے۔
ابن طاؤس روایت کرتے ہیں کہ سب سے پہلے اس دعا کے پڑھنے کا ثواب دیکھتے ہیں۔
رسول اللہ(ص) نے جبرئیل(ع) سے پوچھا کہ اے جبرئیل! یہ دعا پڑھنے والے کے لیے کیا اجر ہے؟ جبرئیل(ع) نے جواب دیا: اے محمد! آپ نے مجھ سے ایسے اجر کے بارے میں پوچھا ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
اگر تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام فرشتے لکھنے والے بن جائیں اور اس زمین کی زندگی کے ہزار گنا کے برابر بھی لکھیں تب بھی اس دعا کا ثواب شمار نہ کرسکیں گے۔
اے محمد! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا۔ جو بھی مرد یا عورت اس دعا کو پڑھے گا اسے چار رسولوں اور چار فرشتوں کا ثواب ملے گا۔ چار رسولوں میں آپ(ص)، حضرت عیسیٰ(ع)، حضرت موسیٰ(ع)، اور حضرت ابراہیم(ع) ہیں۔ اور چار فرشتوں میں، میں، اسرافیل، میکائیل اور عزرائیل۔
اے محمد! جو کوئی مرد یا عورت اپنی زندگی میں یہ دعا بیس مرتبہ پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے عذاب نہیں دے گا۔ اور ان کے تمام گناہوں کو بخش دے گا خواہ وہ سمندر کے جھاگ یا بارش کے قطروں یا آسمان کے ستاروں یا جسم کے بالوں کے برابر ہوں یا عرش، کرسی، قلم، لوح کے برابر ہوں۔
اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ مٹا دے گا اور ہر گناہ کی جگہ ہزار اجر و ثواب عطا کرے گا۔ اے محمد! اگر کوئی شخص غم اور مصیبت میں گِھرا ہوا ہو یا کسی چیز سے خوف زدہ ہو اور یہ دعا تین مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی مرادیں ضرور پوری فرمائے گا۔
اگر کوئی شخص شیر یا بھیڑیے سے ڈرتا ہو یا کسی ظالم بادشاہ سے ملنے جا رہا ہو اور وہ یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اسے اس بادشاہ کے شرّ سے محفوظ رکھے گا۔
جو شخص جنگ میں جانے سے پہلے یہ دعا پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے ستّر سپاہیوں کی طاقت عطا فرمائے گا۔ جو شخص یہ دعا اس وقت پڑھے گا جب اسے سر میں درد ہو یا پیٹ میں درد ہو یا آنکھوں میں درد ہو یا اسے سانپ یا بچھو نے ڈس لیا ہو تو اللہ تعالیٰ یہ تمام پریشانیاں دور کر دے گا۔
اے محمد! جو اس دعا کو نہیں مانتا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اور جو اس دعا کو رد کرے گا وہ برکتوں سے محروم رہے گا۔‘‘ حضور(ص) نے دریافت فرمایا کہ اے جبرئیل! یہ دعا دوسری دعاؤں سے افضل کیوں ہے؟"
جبرئیل(ع) نے جواب دیا کیونکہ اس میں 'اسم اعظم' ہے۔ جو شخص اس دعا کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے حافظہ، ذہانت، عمر اور جسمانی صحت میں اضافہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے دنیا کی ستّر آفتیں اور آخرت کی سات سو آفتیں دور کر دے گا۔
اس دعا کے ثواب کے حوالے سے پہلی روایت مکمل ہوئی۔
اب ہم اس دعا کی فضیلت کے بارے میں دوسری روایت پیش کرتے ہیں۔
امیر المومنین(ع) اس دعا کی فضیلت اور ثواب کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا: جبرئیل(ع) میرے قریب اس وقت اترے جب میں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہا تھا اور اپنی امت کے لیے مغفرت طلب کر رہا تھا۔
جبرئیل(ع) نے کہا: اے محمد! آپ اپنی قوم کی بخشش کے بہت زیادہ خواہش مند ہیں جب کہ اللہ خود بڑا مہربان ہے! حضور(ص) نے فرمایا کہ میرے بھائی جبرئیل! تم میرے دوست اور میری قوم کے دوست ہو۔ مجھے کوئی ایسی دعا کی تعلیم دو جس سے میری قوم مجھے یاد کرے۔
جبرئیل(ع) نے کہا: اے محمد! میں آپ کو صلاح دیتا ہوں کہ آپ اپنی قوم کو ہدایت دیں کہ وہ "ایام بیض" (ہر مہینے کی 13، 14 اور 15 تاریخ) کا روزہ رکھیں۔ اور میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ اپنی قوم کو تینوں دن یہ دعا پڑھنے کا حکم دیں۔
جان لو کہ حاملینِ عرش اس دعا کی برکت سے عرش کو تھامے ہوئے ہیں۔ میں اس دعا کی برکت سے زمین پر اترتا ہوں اور آسمانوں پر اُڑتا ہوں۔ یہ دعا جنت کے ہر دروازے اور ہر کمرے پر لکھی ہوئی ہے۔
اس دعا کی برکت سے جنّت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں اور بندہ اللہ کی رحمت میں شامل ہو جاتا ہے۔ آپ کی امّت میں سے جو بھی اس دعا کو پڑھے گا وہ عذاب قبر اور "فزع اکبر" سے محفوظ رہے گا اور دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے محفوظ رہے گا۔
اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جائے گا...... جو شخص اس دعا کو پڑھے اور اللہ سے اپنی خواہشات طلب کرے تو وہ ضرور پوری ہوگی۔ اس دعا کا پڑھنے والا ناگہانی موت اور قبر کے خوف سے محفوظ رہے گا اور غربت سے دور رہے گا۔
اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن دوسروں کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ اس دعا کی برکت سے اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اسے جنت کے ایسے کپڑے پہنائے گا جو کبھی پُرانے نہیں ہوں گے۔
جو شخص روزے کی حالت میں یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جبرئیل(ع)، میکائیل(ع)، اسرافیل(ع)، عزرائیل(ع)، ابراہیم(ع)، عیسیٰ(ع)، موسیٰ(ع) اور رسول اللہ(ص) کا ثواب عطا فرمائے گا۔ پھر حضور(ص) نے فرمایا کہ میں اس دعا کے بے پناہ ثواب پر متعجب ہوں۔
جبرئیل(ع) نے مزید فرمایا: اے محمد! آپ کی امت میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی پوری زندگی میں ایک بار بھی یہ دعا پڑھے مگر اللہ تعالیٰ اسے محشر میں اٹھائے گا جب کہ اس کا چہرہ چاند کی طرح چمک رہا ہوگا۔ لوگ پوچھیں گے کہ یہ شخص کون ہے کیا یہ نبی ہے؟ فرشتے جواب دیں گے کہ نہ وہ نبی ہے اور نہ فرشتہ، بلکہ وہ آدم(ع) کا بیٹا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے یہ شرف اس دعا کی وجہ سے عطا کیا ہے جو اس نے اپنی زندگی میں ایک بار پڑھی تھی۔
اے محمد! جو شخص اس دعا کو اپنی زندگی میں پانچ مرتبہ پڑھے گا تو میں قیامت کے دن اس کی قبر کے پاس کھڑا ہوں گا اور میرے ساتھ وہ "براق" یعنی جنت کا ایک گھوڑا ہوگا۔ جب یہ شخص براق پر چڑھے گا تو یہ اس وقت تک نہیں رُکے گا جب تک اسے ابدی گھر تک نہ لے جائے۔ وہ تمام حساب و کتاب سے مستثنیٰ ہوگا۔
جو بھوکا یا پیاسا ہو اور اسے بھوک مٹانے کے لیے کوئی چیز نہ ملے یا وہ بیمار ہو اور اگر وہ یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو کھانا مہیا کر دے گا جو وہ کھا سکے....... جو اپنے دشمن سے ڈرے یہ دعا ضرور پڑھے اللہ اس کو زبردست حفاظت دے گا اور دشمن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
جو شخص مقروض ہو اور وہ یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کرنے کو یقینی بنائے گا یا اسے کوئی ایسا شخص عطا فرمائے گا جو اس کا قرض ادا کرے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ اگر پہاڑ پر خلوص کے ساتھ یہ دعا پڑھے تو پہاڑ اپنی جگہ سے حرکت کرے گا۔
اور جو شخص یہ دعا (جاری) پانی پر پڑھے گا، تو پانی فوراً جم جائے گا۔ اس دعا کی فضیلت سے حیران نہ ہوں کیونکہ اس میں "اسم اعظم" ہے۔ جب کوئی شخص یہ دعا پڑھتا ہے تو اس دعا کو سننے والے تمام فرشتے اور جنّات اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرماتا ہے۔
جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان رکھتا ہے اسے ان فضیلتوں کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے جو اس دعا کے بارے میں بیان کی گئی ہیں اللہ تعالیٰ توقعات اور تصورات سے زیادہ عطا کرسکتا ہے۔
جو شخص اس دعا کے بارے میں جانتا ہے اسے دوسرے مسلمانوں کو اس کا تعارف کروانے میں بخل نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ پھر حضور(ص) نے بات جاری رکھی اور فرمایا: ’’میں نے اس دعا کو پڑھے بغیر کبھی کسی جنگ میں شرکت نہیں کی اور میں ہمیشہ اپنے دشمنوں پر اس دعا کی برکت سے فتح حاصل کرتا رہا ہوں۔
جو بھی شخص اس دعا کو پڑھتا ہے اس کے چہرے پر اللہ کے اولیاء کا نور ہوتا ہے۔ اس کی تمام مشکلات دور ہوجائیں گی اور وہ تمام آفات سے نکلنے کا راستہ نکال لے گا۔ جو شخص اس دعا کو ادب سے سنتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشکل سے محفوظ رکھے گا اور دشمنوں کی تمام شیطانی حربوں سے محفوظ رکھے گا۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَهُ مِنْ اِلٰهٍ مَا اَمْلَكَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مَلِيكٍ مَا اَقْدَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَدِيرٍ مَا اَعْظَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ عَظِيمٍ مَا اَجَلَّهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ جَلِيلٍ مَا اَمْجَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مَاجِدٍ مَا اَرْاَفَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ رَءُوفٍ مَا اَعَزَّهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ عَزِيزٍ مَا اَكْبَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ كَبِيرٍ مَا اَقْدَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَدِيمٍ مَا اَعْلَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ عَالٍ مَا اَسْنَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ سَنِيٍّ مَا اَبْهَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَهِيٍّ مَا اَنْوَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُنِيرٍ مَا اَظْهَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ ظَاهِرٍ مَا اَخْفَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ خَفِيٍّ مَا اَعْلَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ عَلِيمٍ مَا اَخْبَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ خَبِيرٍ مَا اَكْرَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ كَرِيمٍ مَا اَلْطَفَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ لَطِيفٍ مَا اَبْصَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَصِيرٍ مَا اَسْمَعَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ سَمِيعٍ مَا اَحْفَظَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ حَفِيظٍ مَا اَمْلَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مَلِيٍّ مَا اَوْفَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ وَفِيٍّ مَا اَغْنَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ غَنِيٍّ مَا اَعْطَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُعْطٍ مَا اَوْسَعَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ وَاسِعٍ مَا اَجْوَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ جَوَادٍ مَا اَفْضَلَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُفْضِلٍ مَا اَنْعَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُنْعِمٍ مَا اَسْيَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ سَيِّدٍ مَا اَرْحَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ رَحِيمٍ مَا اَشَدَّهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ شَدِيدٍ مَا اَقْوَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَوِيٍّ مَا اَحْكَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ حَكِيمٍ مَا اَبْطَشَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَاطِشٍ مَا اَقْوَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَيُّوْمٍ مَا اَحْمَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ حَمِيْدٍ مَا اَدْوَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ دَاۤئِمٍ مَا اَبْقَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَاقٍ مَا اَفْرَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ فَرْدٍ مَا اَوْحَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ وَاحِدٍ مَا اَصْمَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ صَمَدٍ مَا اَمْلَكَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مَالِكٍ مَا اَوْلَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ وَلِيٍّ مَا اَعْظَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ عَظِيْمٍ مَا اَكْمَلَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ كَامِلٍ مَا اَتَمَّهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ تَامٍ‏ مَا اَعْجَبَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ عَجِيْبٍ مَا اَفْخَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ فَاخِرٍ مَا اَبْعَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَعِيْدٍ مَا اَقْرَبَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَرِيْبٍ مَا اَمْنَعَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مَانِعٍ مَا اَغْلَبَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ غَالِبٍ مَا اَعْفَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ عَفُوٍّ مَا اَحْسَنَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُحْسِنٍ مَا اَجْمَلَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ جَمِيْلٍ مَا اَقْبَلَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَابِلٍ مَا اَشْكَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ شَكُوْرٍ مَا اَغْفَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ غَفُوْرٍ مَا اَكْبَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ كَبِيْرٍ مَا اَجْبَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ جَبَّارٍ مَا اَدْيَنَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ دَيَّانٍ مَا اَقْضَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَاضٍ مَا اَمْضَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مَاضٍ مَا اَنْفَذَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ نَافِذٍ مَا اَرْحَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ رَحِيْمٍ مَا اَخْلَقَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ خَالِقٍ مَا اَقْهَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَاهِرٍ مَا اَمْلَكَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مَلِيْكٍ مَا اَقْدَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَادِرٍ مَا اَرْفَعَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ رَفِيْعٍ مَا اَشْرَفَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ شَرِيْفٍ مَا اَرْزَقَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ رَازِقٍ مَا اَقْبَضَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قَابِضٍ مَا اَبْسَطَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَاسِطٍ مَا اَهْدَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ هَادٍ مَا اَصْدَقَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ صَادِقٍ مَا اَبْدَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَادِئٍ مَا اَقْدَسَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ قُدُّوْسٍ مَا اَظْهَرَهُ (مَا اَطْهَرَهُ‏) وَ سُبْحَانَهُ مِنْ ظَاهِرٍ (مِنْ طَاهِرٍ) مَا اَزْكَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ زَكِيٍّ مَا اَبْقَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَاقٍ مَا اَعْوَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ عَوَّادٍ (مُعِيْدٍ) مَا اَفْطَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ فَاطِرٍ مَا اَرْعَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ رَاعٍ مَا اَعْوَنَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُعِيْنٍ مَا اَوْهَبَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ وَهَّابٍ مَا اَتْوَبَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ تَوَّابٍ مَا اَسْخَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ سَخِيٍّ مَا اَبْصَرَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَصِيْرٍ مَا اَسْلَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ سَلِيْمٍ مَا اَشْفَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ شَافٍ مَا اَنْجَاهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُنْجٍ مَا اَبَرَّهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ بَارٍّ مَا اَطْلَبَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ طَالِبٍ مَا اَدْرَكَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُدْرِكٍ مَا اَشَدَّهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ شَدِيْدٍ مَا اَعْطَفَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُتَعَطِّفٍ مَا اَعْدَلَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ عَادِلٍ مَا اَتْقَنَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ مُتْقِنٍ مَا اَحْكَمَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ حَكِيْمٍ مَا اَكْفَلَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ كَفِيْلٍ مَا اَشْهَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ مِنْ شَهِيْدٍ مَا اَحْمَدَهُ وَ سُبْحَانَهُ هُوَ اللهُ الْعَظِيْمُ وَ بِحَمْدِهِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ اللهُ اَكْبَرُ وَ لِلّٰهِ الْحَمْدُ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ دَافِعِ‏ كُلِّ بَلِيَّةٍ وَ هُوَ حَسْبِي وَ نِعْمَ الْوَكِيلُ۔