تین ۳؍ جمادی الثانیہ روزِ شہادت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا
روز سوم___۱۱ھ وفات حضرت فاطمہؑ ہے لہٰذا شیعوں کا چاہیئے کہ اس روز مراسم تعزیت کو قائم کریں اور مظلومہ کی زیارت پڑھیں اور ان کے ظالمین اور غاصبین حقوق پر لعنت کریں۔ اور سیدؒ بن طاؤس نے اقبال میں اس زیار ت کو آنحضرت کے لئے روزِ وفات ذکر کیا ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكِ يَا وَالِدَةَ الْحُجَجِ عَلَى النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكِ اَيَّتُهَا الْمَظْلُوْمَةُ الْمَمْنُوْعَةُ حَقَّهَا
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰۤى اَمَتِكَ
وَ ابْنَةِ نَبِيِّكَ وَ زَوْجَةِ وَصِيِّ نَبِيِّكَ
صَلَاةً تُزْلِفُهَا فَوْقَ زُلْفٰى عِبَادِكَ الْمُكَرَّمِيْنَ
مِنْ اَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ اَهْلِ الْاَرَضِيْنَ۔
روایت ہےکہ جو شخص یہ زیارت جناب معصومہؑ فاطمۃ الزہراءؑ کے لئے پڑھے گا اور خدا سے طلب مغفرت کرے گا اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور خدا اس کو جنت میں داخل کرے گا۔
مؤلٔف: سید بن طاؤسؒ کے فرزند نے بھی اس زیارت کو زوائد الفوائد میں نقل کیا ہے اورکہا ہے کہ یہ زیارت روز وفات معصومہؑ جناب فاطمہ زہراؑ سےمخصوص ہے یعنی تیسری جمادی الآخرہ اور زیارت کی کیفیت اس طرح بیان کی ہے کہ پہلے نماز زیارت یا پھر نماز فاطمہ زہراؑ کو پڑھے جو دو رکعت ہے۔ ہر رکعت میں حمد کے بعد ساٹھ مرتبہ قل ہو اللہ پڑھے اور اگر ممکن نہ ہو تو پہلی رکعت میں حمد اور سورہ قل یا ایہاالکٰفرون پڑھے اور جب سلام پڑھ لے تو زیارت ‘‘السلامَ علیکِ’’ سے آخر تک پڑھے۔